Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5933

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ اللّٰهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبركَةِ فَقَالَ خُذْهُنَّ فَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذٰلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي حَتّٰى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهٗ انْقَطَعَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بتمرات فقلت يا رسول الله ادع الله فيهن بالبركة فضمهن ثم دعا لي فيهن بالبركة فقال خذهن فاجعلهن في مزودك كلما أردت أن تأخذ منه شيئا فأدخل فيه يدك فخذه ولا تنثره نثرا فقد حملت من ذلك التمر كذا وكذا من وسق في سبيل الله فكنا نأكل منه ونطعم وكان لا يفارق حقوي حتى كان يوم قتل عثمان فإنه انقطع. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ چھوارے لایا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ان میں برکت کی دعا فرمادیں ۱؎تو انہیں حضور نے ملادیا پھر ان میں میرے لیے برکت کی دعا کی ۲؎فرمایا انہیں لے لو اسے اپنے توشہ دان میں ڈال لو جب اس میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال دو اس میں سے لے لو اور کبھی جھاڑنا مت ۳؎میں نے ان چھوہاروں میں سے اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کیے ہم ان میں سے کھاتے کھلاتے رہے۴؎وہ یہ میری کمر سے کبھی جدا نہ ہوئے تھے حتی کہ جناب عثمان کے قتل کا دن ہوا تو وہ مجھ سے گر گیا ۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎برکت کے معنی ہیں خیر کا بیٹھ جانا وہاں سے نہ نکلنا یہ بنا ہے برک سے بمعنی اونٹ کا بیٹھنا کثرت اور برکت میں بڑا فرق ہے برکت یہ ہے کہ چیز تھوڑی ہو مگر نہ خود ختم ہو نہ اس کا نفع ختم ہو کثرت یعنی زیادتی تو کفار کو مل جاتی ہے مگر برکت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔
۲
؎خیال رہے کہ دعائیہ کلمات میں برکت کسی پاکیزہ زبان سے پیدا ہوتی ہے اس لیے انہوں نے دعائیہ کلمات خود پڑھ کر دم نہ کردیئے۔بلکہ حضور انور سے دم کرائے کارتوس بغیر رائفل کے مار نہیں کرتا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا"وَ جَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا اَیۡنَ مَا کُنۡتُ"رب نے مجھے برکت والا بنایا ہے میں جہاں بھی ہوں برکت میرے ساتھ ہے۔معلوم ہوا کہ کسی چیز پر دم کرتے وقت اسے ملا لینا سنت ہے۔
۳
؎متبرک چیزوں میں توکل ضروری ہے اس لیے انہیں ناپنا،تولنا،جھاڑنا نہیں چاہیے بلکہ اس میں سے لیتے رہو،استعمال کرتے رہو اس کا اندازہ بھی نہ لگاؤ کہ اب اتنی رہ گئی ہوگی۔یہ صوفیانہ عمل ہے۔
۴
؎یعنی میں نے کھائے دوستوں کو کھلائے اور کئی من خیرا ت کیے مگر پھر اتنے ہی رہے جتنے تھے۔وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع ساڑھے چار سیر کا تو ایک وسق چھ من تیس سیر ہوا۔آپ نے کئی وسق خیرات کیے حالانکہ پاؤ بھر یا آدھ سیر چھوہارے تھے سوچو کتنی برکت ہوئی کیونکہ یہ چوہارے جناب ابوہریرہ کی کمر سے بندھے رہتے تھے کمر سے اتنا ہی وزن بندھ سکتا ہے۔
۵
؎معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت مدینہ منورہ میں عجیب افراتفری کا واقعہ تھا کہ لوگ اپنی محبوب چیزوں سے بھی غافل ہوگئے تھے اس تھیلے کے گر جانے پر یہ برکت ختم ہوگئی حضرت ابوہریرہ اس کے بعد یہ شعر پڑھا کرتے تھے؎للناس ھم ولی ھمان بینھم
ھم الجراب وھم الشیخ عثمان
(مرقات)
یعنی لوگوں کو تو ایک غم ہے اور مجھے دو غم ہیں ایک اپنے تھیلے کے گم ہوجانے کا دوسرا حضرت عثمان غنی کی شہادت کا۔رضی اللہ عنہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5933