باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5938
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهٗ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهٗ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ: أَمَا تَرَاهُ؟ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلٰى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هٰذَامَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَؤُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى انْتَهٰى اِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَني اللهُ حَقًا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن أنس قال كنا مع عمر بين مكة والمدينة فتراءينا الهلال وكنت رجلا حديد البصر فرأيته وليس أحد يزعم أنه رآه غيري قال فجعلت أقول لعمر: أما تراه؟ فجعل لا يراه قال يقول عمر سأراه وأنا مستلق على فراشي ثم أنشأ يحدثنا عن أهل بدر فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرينا مصارع أهل بدر بالأمس يقول هذامصرع فلان غدا إن شاء الله قال عمر: والذي بعثه بالحق ما أخطؤوا الحدود التي حدها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فجعلوا في بئر بعضهم على بعض فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتهى اليهم فقال يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان هل وجدتم ما وعدكم الله ورسوله حقا فإني قد وجدت ما وعدني الله حقا قال عمر يا رسول الله كيف تكلم أجسادا لا أرواح فيها قال ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون أن يردوا علي شيئا". رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مکہ مدینہ کے درمیان جناب عمر کے ساتھ تھے تو ہم چاند ایک دوسرے کو دکھانے لگے میں تیز نظر تھا تو میں نے دیکھ لیا میرے سوا کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے۱؎میں جناب عمر سے کہنے لگا کہ کیا آپ دیکھتے نہیں آپ اسے نہ دیکھ سکے کہتے ہیں کہ میں اسے عنقریب اپنے بستر پر لیٹے ہوئے دیکھوں گا۲؎پھر ہم کو بدر والوں کے متعلق خبریں دینے لگے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم کو ایک دن پہلے کفار کے قتل گاہ دکھاتے تھے فرماتے تھے کہان شاء اللهکل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی اوران شاء اللهکل یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہوگی ۳؎جناب عمر فرماتے ہیں کہ اس کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا کہ وہ لوگ ان حدود سے جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھیں بالکل نہ ہٹے ۴؎پھر وہ اوپر تلے ایک کنویں ڈال دیئے گئے ۵؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ان تک پہنچ گئے ۶؎فرمایا اے فلاں ابن فلاں اے فلاں ابن فلاں کیا تم نے وہ سب باتیں درست پائیں جن کا تم سے الله و رسول نے وعدہ کیا تھا ۷؎کیونکہ میں نے وہ سب درست پایا جو مجھ سے الله نے وعدہ کیا تھا جناب عمر نے عرض کیا یا رسول الله آپ ان جسموں سے کیسے کلام کرتے ہیں جن میں جان نہیں تو فرمایا بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے بجز اس کے کہ وہ مجھے کچھ جواب نہیں دے سکتے ۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اس سفر میں حضرت فاروق اعظم کے ساتھ بہت لوگ تھے مگر آج چاند کسی کو نظر نہیں آیا سواء میرے کیونکہ چاند بہت باریک تھا۔
۲؎یعنی ابھی میں دیکھنے کی کوشش کیوں کروں عنقریب چاند اتنا بڑا ہوجاوے گا کہ مجھے بستر پر لیٹے ہوئے بے تکلف نظر آوے گا،عام شارحین نے یہ ہی معنی کیے۔یا میں اس ماہ کے آخر میں زخمی کیا جاؤں گا جس سے میری شہادت واقع ہوگی میں زخم خوردہ ہوکر بستر علالت پر اسے دیکھوں گا۔چنانچہ اس ماہ ذی الحجہ کے آخر میں آپ کو زخمی کیا گیا جس سے آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔اس صورت میں یہ غیبی خبر ہے۔و الله ورسولہ اعلم!یہ واقعہ اس سفر کا ہے جب آپ آخری حج کو گئے واپس آکر شہید کر دیئے گئے۔
۳؎اس فرمان عالی میں تین غیبی خبریں ہیں: وقت موت کی خبر کہ فلاں شخص کل مرے گا،جگہ موت کی خبر کہ فلاں جگہ مرے گا،تیسرے نوعیت موت کی خبر کہ کفر پر مرے گا نہیں بلکہ ہمارے ہاتھوں مارا جائے گا۔غرضکہ علوم خمسہ میں سے تین چیزوں کی خبر حضور نے دے دی بلکہ خط کھینچ کر بتادیا کہ فلاں کافر اس حد کے اندر مارا جائے گا۔
۴؎یعنی اس دائرہ اس حد کے اندر ہر شخص قتل ہوا جہاں حضور انور نے دائرہ کھینچ کر جگہ مقرر فرمائی تھی۔شعر
خدا مطلع ساخت بر جملہ غیب علی کل شئی خبیر آمدی
۵؎کفار کی لاشوں سے یہ ہی برتاوا ہوتا ہے۔نماز،دفن کفن مؤمن کی میت کے لیے ہے۔فقیر نے وہ جگہ دیکھنے کی بہت کوشش کی جہاں یہ لاشیں پڑی تھیں مگر اہل بدر نے کہا کہ کفار کی جگہ کا کیا دیکھنا تم حضور کے آثار دیکھو۔
۶؎معلوم ہوا کہ کفار کی قبروں ان کی لاشوں پر کسی مصلحت سے جانا بالکل جائز ہے،زیارت قبر کے لیے جانا جائز نہیں،رب فرماتاہے:"وَلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّهُمْ كَفَرُوۡا بِاللهِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں کہ یہاں حضور کا کفار کی لاشوں پر جانا اس مقصد کے لیے ہے جو آگے آرہا ہے۔
۷؎حضور کے اس عمل شریف سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ہر میت مؤمن ہو یا کافر بعد مرنے کے زندوں کا کلام سنتی ہے حتی کہ دفن کرنے والوں کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے جیساکہباب الدفنمیں گزرا۔ دوسرے یہ کہ بعد موت انسان کی ہر طاقت بڑھ جاتی ہے دیکھو ہزارہا من مٹی میں دفن ہونے کے باوجود مردہ آواز بلکہ جوتوں کی آہٹ سن لیتا ہے،اگر زندہ کو اتنی مٹی میں دبا دیا جاوے تو وہ توپ کی آواز بھی نہیں سن سکتا۔تیسرے یہ کہ بعد وفات یا کہہ کر پکارنا جائز ہے۔اس سے وہ لوگ عبر ت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ یارسول الله کہنا شرک ہے حالانکہ نماز میں کہا جاتا ہےالسلام علیك ایھا النبی۔
۸؎یعنی مردے کفار یا تو تمہاری برابر سنتے ہیں یا تم سے زیادہ تم سے کم نہیں سنتے،ہاں فرق یہ ہے کہ تم ہم کو جواب سنا سکتے ہو یہ جواب دیتے تو ہیں مگر زندوں کو سنا نہیں سکتے کیونکہ اب وہ ایسی آواز سے بولتے ہیں جنہیں یہ کان نہیں سن سکتے،الله والے مردوں کی آواز سن لیتے ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زندہ بزرگوں کا مردوں کی آوازیں سننا ثابت ہے۔خیال رہے کہ جن آیات میں مردوں کے سننے کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کفار ہیں جیسے"اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"وغیرہ کیونکہ اس آیت کے آخر میں ہے"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"یعنی وہاں مردے کا مقابلہ مؤمن سے کیا گیا ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔سماع موتی کے ثبوت میں بہت سی آیات ہیں دیکھو ہماری کتاب فہرست القرآن۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5938