Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5913

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن أَنَسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَعَمَدَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلٰى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ فَصَنَعَتْ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهٰذَاإِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ بَعَثَتْ بِهٰذَاإِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هٰذَالَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ الله قَالَ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا رِجَالًا سَمَّاهُمْ وَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمّٰى وَمَنْ لَقِيتُ فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهٖ قِيلَ لِأَنَسِ: عَدَدُكُمْ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءُ ثَلَاثُ مِئَةٍ. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهٗ عَلٰى تِلْكَ الْحَيْسَةِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُولُ لَهُم: "اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ» قَالَ: فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا. فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتّٰى أَكَلُوا كُلُّهُمْ قَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ. فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس: كان النبي صلى الله عليه وسلم عروسا بزينب فعمدت أمي أم سليم إلى تمر وسمن وأقط فصنعت حيسا فجعلته في تور فقالت يا أنس اذهب بهذاإلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل بعثت بهذاإليك أمي وهي تقرئك السلام وتقول إن هذالك منا قليل يا رسول الله قال فذهبت فقلت فقال ضعه ثم قال اذهب فادع لي فلانا وفلانا وفلانا رجالا سماهم وادع من لقيت فدعوت من سمى ومن لقيت فرجعت فإذا البيت غاص بأهله قيل لأنس: عددكم كم كانوا؟ قال: زهاء ثلاث مئة. فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم وضع يده على تلك الحيسة وتكلم بما شاء الله ثم جعل يدعو عشرة عشرة يأكلون منه ويقول لهم: "اذكروا اسم الله وليأكل كل رجل مما يليه» قال: فأكلوا حتى شبعوا. فخرجت طائفة ودخلت طائفة حتى أكلوا كلهم قال لي يا أنس ارفع. فرفعت فما أدري حين وضعت كان أكثر أم حين رفعت (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جناب زینب کے نکاح میں نوشاہ تھے ۱؎میری ماں ام سلیم نے کچھ چھوارے گھی اور چیز کا ارادہ کیا اس سے حلوہ بنایا اسے ایک پیالہ میں ڈالا ۲؎بولیں اے انس یہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے جاؤ عرض کرو کہ میری ماں نے یہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہتی ہیں اور عرض کرتی ہیں کہ یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑا سا ہدیہ ہے ۳؎اے اکے رسول چنانچہ میں گیا اور میں نے یہ کہا فرمایا اسے رکھ دو ۴؎پھر فرمایا جاؤ ہمارے پاس فلاں فلاں کو اور فلاں کو بلا لاؤ جن کا حضور نے نام لیا اور جس سے تم ملو ہمارے پاس بلا لاؤ ۵؎میں انہیں بھی بلا لایا جس کا نام لیا تھا اور اسے بھی جس سے میں ملا پھر میں لوٹا تو گھر حاضرین سے بھرا ہوا تھا ۶؎جناب انس سے کہا گیا کہ کتنے شمار کے لوگ تھے فرمایا قریبًا تین سو ۷؎پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ اس حلوہ پر ہاتھ رکھا اور جو انے چاہا وہ پڑھا ۸؎پھر حضور دس دس کو بلانے لگے وہ اس سے کھانے لگے حضور ان سے فرماتے تھے کہ اکا نام لو اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ۹؎فرمایا کہ لوگوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے ایک ٹولہ نکلتا تھا دوسرا ٹولہ آتا تھا حتی کہ سب نے کھالیا پھر مجھ سے حضور نے فرمایا اے انس اٹھالو میں نے اٹھالیا جب اٹھایا تو مجھے پتہ نہیں کہ جب رکھا گیا تھا جب زیادہ تھا یا جب اٹھایا گیا ۱۰؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور نے جناب ام المؤمنین زینب رضی اعنہا سے نیا نکاح کیا تھا۔عروس دولہا دولہن دونوں پر بولا جاتا ہے بمعنی نوشاہ یعنی نیا دولہا یا نئی دولہن اس لیے منکر نکیر قبر میں کامیاب ہونے والے مردہ سے کہتے ہیںنم کنومۃ العروسخواہ مرد ہو یا عورت۔
۲
؎مشکوۃ شریف کے عام نسخوں میںتورہے ت کے ساتھ بعض نسخوں میںیورہے ی سے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی بڑا پیالہ جس میں پانی بھی پیا جاوے سالن بھی کھایا جاوے۔
۳
؎یعنی یہ ہدیہ حضور انور کے لائق تو نہیں ہے تھوڑا سا ہے مگر حضور انور کرم کریمانہ سے قبول فرمالیں یہ نہ دیکھیں کہ کتنا ہے اور کیا ہے یہ نظر فرمائیں کہ کس دل سے بھیجا ہے۔
۴
؎طریقہ مبارکہ یہ تھا کہ حقیر ہدیہ کو بھی رد نہ فرماتے تھے ایسی خوشی سے قبول فرماتے تھے کہ لانے والے کا دل خوش ہوجاتا تھا بہت ہی رغبت کا اظہار فرماتے تھے یہ اخلاق کریمانہ قیامت تک ہیں امت دن رات ایصال ثواب کرتی رہے گی وہاں سے قبولیت بلکہ اس کا بہترین بدلہ ملتا رہے گا بعض لوگ اپنی ساری عبادات حضور انور کی طرف سے اداکرتے ہیں نماز، روزہ،حج، وغیرہان شاءاﷲان کے ہدیے رد نہ ہوں گے قبول ہوں گے اور نہ معلوم ادھر سے کیا ملے گا،ایک صحابی نے ککڑی پیش کی تھی اسے لپ بھر سونا عطا ہوا تھا۔خدا کرے ہم کو رحمت کی نظر سے ایک بار دیکھ لیں توہماری ساری محنت ٹھکانے لگ جاوے یہ فریاد سن لیں۔شعر
سایہ رحمن سن لو والی قرآن سن لو صدقہ تم پر جان سن لو،اے مرے سلطان سن لو
اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کی بارگاہ میں سلام کہلوانا سنت صحابہ ہے آج بھی زائرین کی معرفت مسلمان سلام کہلواتے ہیں۔
۵
؎حضور نے کرم کریمانہ سے اس تھوڑے سے کھانے کو گویا اپنا ولیمہ بنالیا اس لیے لوگوں کو جمع فرمایا اور خود جناب انس کو بھی بلانے بھیجا جب ان سے یہ فرمایا کہ جسے دیکھو اسے دعوت دے دو بچے تو اس چیز کے شوقین ہوتے ہیں انہوں نے سارے مدینہ منورہ کو دعوت دے دی ہوگی۔
۶
؎گھر سے مراد گھر اور مسجد شریف دونوں ہیں ورنہ گھر شریف میں تین سو آدمیوں کی جگہ نہ تھی مہمان مسجد شریف میں ٹھہرائے جاتے تھے۔
۷
؎زھاءکے لغوی معنی ہیں مقدار یا اندازہ،محاورہ میں بمعنی قریب استعمال ہوتا ہے یعنی وہ لوگ کم و بیش تین سو آدمی تھے کچھ کم یا زیادہ۔
۸
؎یہ خبر نہیں کہ کیا پڑھا دعاء برکت ہی فرمائی ہوگی۔معلوم ہوا کہ کھانا سامنے رکھ کر دعا کرنا قرآن مجید پڑھنا جائز بلکہ سنت رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ہے فاتحہ میں یہ ہی ہوتا ہے کہ کھانا سامنے رکھ کر دعا کرنا قرآن مجید پڑھتے ہیں اور ایصال ثواب کی دعا کرتے ہیں۔حضور انور قربانی کرکے جانور کو سامنے رکھ کر فرماتے تھے کہ مولیٰ یہ میری امت کی طرف سے ہے اسے قبول فرما یہ ہے ایصال ثواب۔
۹
؎یہ دونوں کام سنت طعام ہیں یعنی بسم اپڑھنا اور اپنے سامنے سے کھانا بیچ میں سے نہ کھائے نہ دوسرے کے آگے سے اٹھائے۔
۱۰
؎یہ تردد ظاہر کے لحاظ سے ہے ورنہ اب کھانا زیادہ ہوچکا تھا کہ حضور کی دعاء برکت اور صحابہ کرام کا کھالینا شامل ہوچکے تھے۔ (مرقات)خیال رہے کہ حضور انور نے جناب زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح کرکے ولیمہ خود کیا تھا جس میں ایک بکری ذبح کی تھی اس میں ایک ہزار آدمی تھے اس میں بھی برکت ہوئی تھی یہ واقعہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں بکری ذبح کرنے کا ذکر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5913