Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5911

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِّيَتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ غَدًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلٰى أَحَدٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حَتّٰى ابْهَارَّ اللَّيْلُ فَمَالَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهٗ ثُمَّ قَالَ احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهٖ ثُمَّ قَالَ ارْكَبُوا فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتّٰى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ قَالَ وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الغَدَاةَ وَرَكِبَ وَرَكِبْنَا مَعَهٗ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٌ وَهُمْ يَقُولُونَ يَارَسُولَ اللّٰهِ هَلَكْنَا وَعَطِشْنَا فَقَالَ لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ كُلُّكُمْ سَيَرْوِى قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتّٰى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ فَقَالَ لِيَ اشْرَبْ فَقُلْتُ لَا أَشْرَبُ حَتّٰى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ الله قَالَ إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ قَالَ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ هَكَذَا فِي صَحِيحِهٖ وَكَذَا فِي "كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ" وَ"جَامعِ الأُصُولِ"، وَزَادَ فِي "الْمَصَابِيحِ" بَعْدَ قَوْلِهِ: "آخِرُهُمْ" لَفْظَةَ: "شُرْبًا"

وعن أبي قتادة قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إنكم تسيرون عشيتكم وليلتكم وتأتون الماء إن شاء الله غدا فانطلق الناس لا يلوي أحد على أحد قال أبو قتادة فبينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير حتى ابهار الليل فمال عن الطريق فوضع رأسه ثم قال احفظوا علينا صلاتنا فكان أول من استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم والشمس في ظهره ثم قال اركبوا فركبنا فسرنا حتى إذا ارتفعت الشمس نزل ثم دعا بميضأة كانت معي فيها شيء من ماء، قال فتوضأ منها وضوءا دون وضوء قال وبقي فيها شيء من ماء ثم قال احفظ علينا ميضأتك فسيكون لها نبأ ثم أذن بلال بالصلاة فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ثم صلى الغداة وركب وركبنا معه فانتهينا إلى الناس حين امتد النهار وحمي كل شيء وهم يقولون يارسول الله هلكنا وعطشنا فقال لا هلك عليكم ودعا بالميضأة فجعل يصب وأبو قتادة يسقيهم فلم يعد أن رأى الناس ماء في الميضأة تكابوا عليها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسنوا الملأ كلكم سيروى قال ففعلوا فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصب وأسقيهم حتى ما بقي غيري وغير رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صب فقال لي اشرب فقلت لا أشرب حتى تشرب يا رسول الله قال إن ساقي القوم آخرهم قال فشربت وشرب قال فأتى الناس الماء جامين رواء. رواه مسلم هكذا في صحيحه وكذا في "كتاب الحميدي" و"جامع الأصول"، وزاد في "المصابيح" بعد قوله: "آخرهم" لفظة: "شربا"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ تم اپنی رات بھر اور کل تک چلتے رہو گے اوران شاءاﷲکل پانی پر پہنچو گے ۱؎تو لوگ چلے اس طرح کہ کوئی کسی پر توجہ نہیں کرتا تھا۲؎ابو قتادہ فرماتے ہیں جب کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم چل رہے تھے حتی کہ رات آدھی ہوگئی ۳؎تو آپ راستہ سے ہٹ گئے تو آپ نے اپنا سر مبارک رکھا پھر فرمایا کہ ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا ۴؎تو پہلے جو صاحب جاگے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم تھے جب کہ دھوپ آپ کی پشت شریف میں تھی ۵؎پھر فرمایا سوار ہو چنانچہ ہم سوار ہوئے پھر چلے حتی کہ جب سورج چڑھ گیا تو حضور اترے پھر وضو کا برتن منگایا جو میرے ساتھ تھا جس میں کچھ پانی تھا تو اس سے وضو کیا ۷؎ہلکا وضو کیا عام وضوؤ ں سے کم فرمایا کہ کچھ پانی باقی رہ گیا فرمایا اس برتن کو ہمارے لیے سنبھال کر رکھنا کہ اس سے ایک قابل حکایت معجزہ ہوگا۸؎پھر جناب بلال نے نماز کی اذان کہی ۹؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فجر کے فرض پڑھے۱۰؎اور سوار ہوگئے ہم حضور کے ساتھ سوار ہوئے تو ہم لوگوں تک اس وقت پہنچے جب دن چڑھ گیا ۱۱؎اور ہر چیز گرم ہوگئی لوگ کہہ رہے تھے یا رسول اہم ہلاک ہوگئے ہم پیاسے ہو گئے ۱۲؎تو فرمایا تم پر ہلاکت نہ آئے گی اور وضو کا برتن منگایا تو آپ انڈیلنے لگے اور ابوقتادہ لوگوں کو پلانے لگے دیر نہ ہوئی تھی کہ لوگوں نے برتن میں پانی دیکھ لیا لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۱۳؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اخلاق اچھے رکھو تم سب سیر ہوجاؤ گے ۱۴؎راوی نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا ۱۵؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم انڈیلنے لگے اور میں پلانے لگا حتی کہ میرے اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے سوا کوئی باقی نہ رہا ۱۶؎پھر انڈیلا مجھ سے فرمایا پیؤ میں نے عرض کیا میں نہیں پیوں گا حتی کہ یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم آپ پی لیں تو فرمایا قوم کو پلانے والا آخر میں ہوتا ہے ۱۷؎فرمایا تو میں نے پیا اور حضور نے پیا،فرمایا راوی نے کہ لوگ پانی پر پہنچے خوب سیرکر راحت یافتہ ۱۸؎(مسلم)ان کی صحیح میں یوں ہی ہے اور ایسے ہی ہے کتاب حمیدی اور جامع الاصول میں اور مصابیح میںآخرھمکے بعد لفظشربازیادہ فرمایا ۱۹؎

شرح حدیث

۱∞؎صحابہ کرام کسی سفر میں تھے کہ پانی کی کمی ہوگئی تب یہ فرمایا۔پانی سے مراد ہے حضور انور کے معجزہ سے پیدا ہونے والا پانی جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے یعنی تم کو پانی ہم کل اپنی انگلیوں سے نکال کر دکھائیں گے،پلائیں گے،انتظار کرو جو چیز انتظار کے بعد ملتی ہے اس کی قدر ہوتی ہے۔
۲
؎کیونکہ گرمی سخت تھی،پانی کی کمی تھی،سفر دراز تھا اور منزل پر پہنچ کر پانی ملنے کی امید تھی کہ وعدہ اس کا کیا گیا تھا اس لیے کوئی کسی کی طرف دھیان نہ کرتا تھا۔راستہ طے کرنے کی ہر ایک کو فکر تھی۔
۳
؎ابھاربنا ہےبھرۃسے بمعنی حصہ،ابہارکے معنی ہیں ایک حصہ گزر گیا یعنی زیادہ گزر گیا تھوڑا حصہ باقی رہ گیا گویا رات کا آخری حصہ آگیا۔
۴
؎یعنی نیند کا غلبہ ہے ہم لوگ سوتے ہیں تم میں سے بعض حضرات نماز فجر کا خیال رکھیں پو پھٹ جانے پر ہم کو بیدار کردیں۔
۵
؎یعنی سب لوگ سوتے رہ گئے حتی کہ دن چڑھ گیا تب سب سے پہلے حضور انور کی آنکھ کھلی۔خیال رہے کہ حضور انور کا سوتا رہ جانا غفلت کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس رات رب نے اپنے محبوب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا جس سے آپ کی توجہ اس دنیا کی طرف نہیں رہی اور نماز قضا ہوگئی تاکہ لوگوں کو نماز قضا پڑھنے کا طریقہ آجائے اس قضا میں بھی تبلیغ تھی،اس قضا پر ہزاروں ادائیں قربان لہذا یہ حدیث اس فرمان کے خلاف نہیں کہ ہماری صرف آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتا ہے۔
۶
؎اس جگہ سے آگے چلنا چند وجہوں سے تھا: ایک یہ کہ ابھی وقت مکروہ تھا اور سفر ضروری تھا خیال فرمایا کہ وقت کراہت بھی نکل جاوے اور کچھ سفر بھی طے ہوجاوے،دوسرے یہ کہ آئندہ معجزہ اس جگہ پہنچ کر دکھانا تھا اس معجزہ کے لیے وہ جگہ ایسی موزوں تھی جیسے شق القمر دکھانے کے لیے صفا پہاڑ۔،تیسرے یہ کہ یہاں نماز قضاء ہوئی تھی اس جگہ سے جلد ہٹ جائیں دوسری جگہ جا کر پڑھیں۔(از مرقات)مگر پہلی دو وجہیں قوی ہیں۔
۷
؎بیضاۃدراصلموضاۃتھا بمعنی وضو کا آلہ وضوء سے بدلا گیا۔خیال رہے کہ حضور کی نیند وضو نہیں توڑتی یہاں وضو کسی دوسری وجہ سے ٹوٹا ہوگا یا وضو پر وضو کیا ثواب کے لیے نبی کی نیند وضو نہیں توڑتی شہید کی موت غسل نہیں توڑتی۔
۸
؎یعنی اس برتن پر ہمارا ایک ایسا معجزہ ظاہر ہوگا جس کے قصے تا قیامت رہیں گے۔نباءکہتے ہیں شاندار خبر کو اس سے ہے نبی یعنی شاندار خبر والے خبر رکھنے والے یا خبر دینے والے یا خبر لینے والے۔
۹
؎اس سے دو مسئلے فقہی معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ادا نماز کی طرح قضا نماز کے لیے بھی اذان کہی جاوے گی۔دوسرے یہ کہ اگرچہ سارے ساتھی نمازی نماز کی جگہ جمع ہوں پھر بھی اذان کہی جاوے گی بلکہ اگر کوئی شخص جنگل میں اکیلے نماز پڑھے تب بھی اذان کہہ لے کہ اس کے ساتھ فرشتے نماز پڑھیں گے اور جہاں تک اذان کی آواز پہنچے گی وہاں تک کا ہر ذرہ ہر قطرہ اس کے ایمان کا گواہ بن جاوے گا۔
۱۰
؎اس عمل شریف سے فقہی مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر فجر کے فرض اور سنتیں دونوں قضا ہو گئی ہوں اور زوال سے پہلے قضا کرناہوں تو سنتوں کی بھی قضا کرےلیکن اگر فر ض ادا کرلیے سنتیں رہ گئیں تو بھی سنتوں کی قضا نہیں اور اگر دونوں رہ گئے تھے بعد زوال قضا پڑھیں تو بھی سنتوں کی قضا نہیں۔(کتب فقہ)
۱۱
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چند صحابہ کرام حضور انور کے ساتھ تھے جو نماز فجر کی قضا میں حضور کے ساتھ رہے اور عام صحابہ آگے بڑھ گئے تھے،ریگستان کے سفر میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ یہ سفر جلدی طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں آگے جا کر وہ حضرات ٹھہر گئے اور حضور انور مع ان ساتھیوں کے ان سے جا ملے۔
۱۲
؎معلوم ہوا کہ اپنی بھوک پیاس فقر و فاقہ کی شکایت حضور سے کرسکتے ہیں یہ شرک نہیں بلکہ سنت صحابہ ہے۔بارش نہ ہونے، بارش زیادہ ہوجانے قحط سالی کی شکایت حضور انور سے صحابہ کرام نے کی ہیں کیوں نہ کریں بچے اپنی تکالیف ماں یا باپ سے کہتے ہیں۔امت اپنی تکلیف حضور سے نہ کہے تو کس سے کہے حضور ہم سب کے پناہ گاہ ہیں یہ پناہ تاقیامت ہے۔
۱۳
؎آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ بہت تیز گرمی،تپتے ہوئے ریت،سخت پیاس کی حالت میں اچانک پانی نظر آجاوے تو پیاسوں کی بے قراری کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ وہ ہی کرسکتا ہے جو کبھی ان حالات سے دو چار ہوا ہو،سب حضرات جھوم کر پانی پر ٹوٹ پڑے۔
۱۴
؎یعنی آپس میں دھکم پیل نہ کرو پانی کم نہیں ہے سب کو بہت پانی عطا ہوگا پانی کافی ہے۔
۱۵
؎یعنی یہ حکم پاتے ہی ان حضرات کی بے چینی جاتی رہی،اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر وقت اچھے اخلاق سے برتاواکرے۔آج کل ایسے اژدہام پر قطار لگواتے ہیں یہ بہت اچھا ہے اور اس کا ماخذ یہ فرمان عالی ہوسکتا ہے۔
۱۶
؎یعنی سب لوگ پی چکے وضو کرچکے صرف ہم دو صاحبوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔
۱۷
؎یعنی قانون یہ ہے کہ پلانے والا پیچھے پیئے،کھلانے والا پیچھے کھائے ہم ہیں پلانے والے اس لیے ہم تمہارے بھی بعد پئیں گے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی کی طرف سے قاسم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تھے اور تاقیامت ہیں اور حضور انور کی طرف سے قاسم حضرت ابوقتادہ تھے حقیقتًا پلانے والے حضور انور تھے ظاہری ساقی ابوقتادہ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ساقی تو حضرت ابوقتادہ تھے۔
۱۸
؎اس واقعہ کے بعد ہم پانی کے کنوئیں پر پہنچے تو اس طرح پہنچے کہ پانی سے خوب سیر تھے کیونکہ حضور کے چشمہ فیض سے پانی پی چکے تھے۔
۱۹
؎یعنی مصابیح کی روایت میں ہےساقی القوم اخرھم شرباان کتب میں لفطشربانہ تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5911