Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5898

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَقْبَلُهٗ . فَأَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهٗ أَتَى الأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا فَوَجَدَهٗ مَنْبُوذًا فَقَالَ: مَا شَأْنُ هٰذَا ؟ فَقَالُوا: دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْضُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: إن رجلا كان يكتب للنبي صلى الله عليه وسلم فارتد عن الإسلام ولحق بالمشركين فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الأرض لا تقبله . فأخبرني أبو طلحة أنه أتى الأرض التي مات فيها فوجده منبوذا فقال: ما شأن هذا ؟ فقالوا: دفناه مرارا فلم تقبله الأرض. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کاتب وحی تھا وہ اسلام سے پھر گیا ۱؎اور مشرکین سے جا ملا۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے زمین قبول نہ کرے گی ۳؎مجھے ابوطلحہ نے خبر دی کہ وہ اس زمین میں گئے جہاں وہ مرا تھا اسے باہر پھینکا ہوا پایا پوچھا اس میت کا کیا حال ہے لوگوں نے کہا کہ ہم نے اس کو بارہا دفن کیا اسے زمین نے قبول نہ کیا ۴؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ایک عیسائی آدمی تھا جو پہلے مسلمان ہوا اور بارگاهِ عالی میں اتنا قرب حاصل کر گیا کہ حضور کے ہاں کا تبِ وحی ہوگیا ،پھر مرتد ہو کر عیسائی بن گیا اکی پناہ ابلیس نے بہت قرب الٰہی حاصل کیا پھر مارا گیا، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ عبداابی سرح تھا مگر یہ درست نہیں معلوم ہوتا وہ مرتد ہونے کے بعد پھر مسلما ن ہوگیا۔(ازمرقات)
۲
؎اس نے مشرکین سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن میں سکھاتا تھا جو میں بتاتا تھا وہ ہی وحی کرکے لکھ لیا جاتا تھا۔نعوذ باﷲ!۳؎یعنی یہ عنقریب کافر ہی مرے گااور اس کی لاش قبر میں نہ رہ سکے گی بلکہ اسے نکال پھینکے گی اس میں تین غیبی خبریں ہیں جو ہوبہو پوری ہوئیں۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ زمین بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست و دشمن کو پہچانتی ہے اور حضور کے حکم کے تابع ہے کہ جیسا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالکل ویسا ہوا، ابولہب کے بیٹے عتبہ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے شیر پھاڑے گا ایسا ہی ہوا کہ ایک شیر نے سب کے منہ سونگھے اس کا منہ سونگھ کر اسے پھاڑ ڈالا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5898