Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5916

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمّٰى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلٰى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهَا ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ: ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا ". قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ شُرَحْبِيلِ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم ستفتحون مصر وهي أرض يسمى فيها القيراط فإذا فتحتموها فأحسنوا إلى أهلها فإن لها ذمة ورحما أو قال: ذمة وصهرا فإذا رأيتم رجلين يختصمان في موضع لبنة فاخرج منها ". قال: فرأيت عبد الرحمن بن شرحبيل بن حسنة وأخاه ربيعة يختصمان في موضع لبنة فخرجت منها. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم مصر فتح کرو گے ۱؎وہ وہ جگہ ہے جس میں قیراط کا بہت نام لیا جاتا ہے ۲؎تو جب تم اسے فتح کرو تو اس کے باشندوں سے بھلائی کرنا ۳؎کیونکہ اس کا احترام ہے اور قرابت داری ہے یا فرمایا کہ سسرالی رشتہ ہے ۴؎پھر جب تم دو شخصوں کو اینٹ بھر جگہ میں جھگڑتے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا ۵؎راوی نے فرمایا کہ میں نے عبدالرحمن ابن شرحبیل ابن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو دیکھا گیا کہ وہ ایک ایک اینٹ بھر جگہ میں جھگڑ رہے تھے تو میں وہاں سے نکل گیا۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مصر سے مراد یہ ہی مشہور شہر مصر ہے جہاں یوسف علیہ السلام نے سلطنت فرمائی۔
۲
؎قیراط بہت چھوٹا سا وزن ہے یعنی دینار کا بیسواں حصہ یعنی وہاں کے تاجرین بہت ہی بے مروت ہیں کسی کی رعایت رتی بھر بھی نہیں کرتے قیراط تک کا حساب کرتے رہتے ہیں اگرچہ وہ چند رتی کا ہو یہ کہتے رہتے ہیں اتنی چھٹانک اتنی رتی۔معلوم ہوا کہ اہل مصر معاملات میں بہت سخت ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجر کو سخت گیر ہونا نہیں چاہیے معمولی چیزوں میں تولہ رتی کا حساب نہ کرے سونا چاندی اور چیز ہے اس میں رتی کا بھی حساب لگتا ہے۔
۳
؎یعنی اگرچہ مصر والے معاملات میں سخت ہیں ان کے مزاج بھی سخت ہیں طبیعت بھی تیز ہے مگر تم ان کی سختی برداشت کرنا ان سے برتاؤ اچھا کرنا ان کی سختی کا بدلہ نرمی سے کرنا۔
۴
؎یعنی ہم کو مصر والوں سے دو طرح تعلق ہے ایک یہ کہ ماریہ قبطیہ مصر سے آئی تھیں جن کے بطن شریف سے ابراہیم ابن رسول اپیدا ہوئے لہذا وہاں کے لوگوں کو ہماری طرف سے امان ہے ذمہ بمعنی امان،دوسرا تعلق یہ ہے کہ ہماری دادی صاحبہ حضرت ہاجرہ رضی اعنہا مصر ہی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملی تھیں انہیں کی اولاد سے ہم ہیں وہ ہماری دادی کا وطن ہے لہذا ان لوگوں سے ہماری قرابت داری بھی ہے۔صھرکے معنی ہیں سسرالی رشتہ یعنی ہماری لونڈی ماریہ مصر کی ہیں لہذامصر میں ہمارا سسرالی رشتہ ہے۔اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے نسبی رشتہ کی طرح سسرالی رشتہ کا بھی احترام کرے،ساس سسر کو اپنا ماں باپ سمجھے،ان کی قرابت داروں کو اپنا عزیز جانے بلکہ انکی بستی کا وہاں کے باشندوں کا احترام کرے کہ وہ ساس و سسر کے ہم وطن ہیں۔دوسرے یہ کہ نبی کے رشتہ داروں بلکہ نبی کے ملک والوں کا بھی ادب کرے لہذا ہم پر لازم ہے کہ حضور کی اولاد کا مکہ والوں کا احترام و ادب کریں ان کی سختی پر تحمل کریں اہل عرب کی سختی پر سختی تحمل کرنے والوں کے لیے شفاعت کا وعدہ ہے وہ لوگ کیسے ہی سہی مگر ہمارے رسول کے اہل وطن ہیں حضور کے پڑوسی ہیں۔ایک بزرگ گولڑوی غلام محی الدین صاحب حج کے بعد جناب حلیمہ سعدیہ کے گاؤ ں پہنچے وہاں سات دن قیام کیا ہر روز الگ الگ جماعتوں کی دعوت فرماتے رہے حتی کہ ایک دن وہاں کے کتوں کی دعوت کی حلوہ پوری وغیرہ پکوا کر خود انہیں کھلاتے تھے روتے جاتے تھے کہ یہ جناب حلیمہ کے وطن کے کتے ہیں ان سب باتوں کا ماخذ یہ حدیث ہے۔غرض یہ کہ وہاں کے درو دیوار کی عزت کرے افسوس ! ان بے دینوں پر جو ازواج پاک یا صحابہ کبار کی برائیاں کرتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے حضور کو ایذا ہوتی ہے۔
۵
؎یہ حکم حضرت ابوذر کو دیا گیا کہ تم یہ واقعہ دیکھو گے کہ دو آدمی ایک اینٹ بھر جگہ میں لڑیں گے جب یہ دیکھو تب مصر میں نہ رہنا کیونکہ یہ ایک بڑے فتنہ کی ابتداء ہوگی جس کا مرکز مصر ہوگا ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد اہل مصر نے حضرت عثمان غنی سے بغاوت کردی انہیں شہید کرنے کے بعد محمد ابن ابوبکر کو جو حضرت علی کی طرف سے وہاں گورنر تھے شہید کردیا پھر ایسے فتنے اٹھے کہ خدا کی پناہ یہ ہے حضور کا علم غیب۔(مرقات)
۶
؎شرحبیل ابن حسنہ صحابی ہیں اور عبدالرحمن ربیعہ دونوں ان کے بیٹے ہیں یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب کہ حضرت عثمان کا آخری دور خلافت تھا عبداابن سعد ابن ابی سرح یعنی حضرت عثمان کا رضاعی بھائی حضرت عثمان کی طرف سے مصر کا گورنر تھا اہلِ مصر اس کی گورنری سے ناراض ہوئے حتی کہ واقعہ شہادت عثمان پیش آگیا یہ اینٹ بھر جگہ پر جھگڑا اس فتنہ کی ابتداء کی علامت تھا۔اﷲ اکبر!حضور کا علم کس قدر وسیع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5916