Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5928

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ قُلْنَا: فَبِمَّا كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: مِنْ أَيْ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَتْ تَمَدُّ إِلَّا مِنْ هٰهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهٖ إِلَى السَّمَاءِ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

وعن أبي العلاء عن سمرة بن جندب قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نتداول من قصعة من غدوة حتى الليل يقوم عشرة ويقعد عشرة قلنا: فبما كانت تمد؟ قال: من أي شيء تعجب؟ ما كانت تمد إلا من ههنا وأشار بيده إلى السماء".رواه الترمذي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالعلاء سے ۱؎وہ سمرہ ابن جندب سے راوی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالے سے صبح سے رات تک کھاتے رہتے تھے دس اٹھتے اور دس بیٹھتے تھے ۲؎ہم نے کہا کہ کہاں سے بڑھتا تھا ۳؎فرمایا تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو وہ نہ بڑھتا تھا مگر وہاں سے اور اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۴؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ابو العلاء عین کے فتح سے تابع ہیں آپ کا نام یزید ابن عبداللہ ابن خنجر ہے، ۱۱۱ھ؁ ∞ایک سو گیارہ میں آپ کی وفات ہوئی۔(اکمال،مرقات)
۲
؎یعنی ایک بار ہم نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ تجربہ کیا کہ ایک پیالہ کھانا سینکڑوں آدمیوں کو کافی ہوا کہ صبح سے شام تک لوگ اس سے کھاتے رہے سیر ہوتے رہے یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ واقعہ کس وقت اور کس جگہ کا ہے۔
۳
؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںفَمِمَّاہے مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کہ یہ برکت کہاں سے آرہی تھیفَمِمَّاکی من ابتدائیہ ہے اور جن نسخوں میں من نہیں ہے تب بھی مطلب یہ ہی ہے کہ وہ کیا چیز تھی جو برکت کا باعث تھی۔
۴
؎غالب یہ ہے کہ سائل ابوالعلاء ہیں اور جواب دینے والے حضرت سمرہ ابن جندب ہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی اور صاحب سائل ہوں جواب دینے والے ابوالعلاء ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5928