باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5885
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهٗ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهٖ وَإِذَا شَجَرَتَيْنِ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَانْقَادَتْ مَعَهٗ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهٗ حَتّٰى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرٰى فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَانْقَادَتْ مَعَهٗ كَذٰلِكَ حَتّٰى إِذَا كَانَ بِالْمُنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا قَالَ الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَالْتَأَمَتَا فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَيْنِ قَدِ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلٰى سَاقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن جابر قال: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نزلنا واديا أفيح فذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي حاجته فلم ير شيئا يستتر به وإذا شجرتين بشاطئ الوادي فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى إحداهما فأخذ بغصن من أغصانها فقال انقادي علي بإذن الله فانقادت معه كالبعير المخشوش الذي يصانع قائده حتى أتى الشجرة الأخرى فأخذ بغصن من أغصانها فقال انقادي علي بإذن الله فانقادت معه كذلك حتى إذا كان بالمنصف مما بينهما قال التئما علي بإذن الله فالتأمتا فجلست أحدث نفسي فحانت مني لفتة فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا وإذا الشجرتين قد افترقتا فقامت كل واحدة منهما على ساق. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھےحتی کہ ہم ایک وسیع جنگل میں اترے ۱؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم قضاء حاجت(استنجاء)کے لیے گئے تو ایسی کوئی چیز نہ پائی جس سے آڑ کریں ۲؎حضور نے جنگل کے کناروں میں دو درخت دیکھے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲکے حکم سے میری اطاعت کر ۳؎وہ آپ کے ساتھ اس مہار والے اونٹ کی طرح چلے جو اپنے چلانے والے کی اطاعت کرتا ہے۴؎حتی کہ آپ دوسرے درخت کے پاس پہنچے ۵؎تو اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اﷲکے حکم سے میری اطاعت کروہ بھی اسی طرح حضور کے ساتھ چلا کہ جب ان دونوں کے بیچ میں ہوئے ۶؎تو فرمایا اﷲکے حکم سے مجھ پر مل جاؤ وہ دونوں مل گئے میں بیٹھ گیا اپنے دل میں کچھ سوچتا تھا۷؎میرا اور طرف دھیان گیا تو میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو آتے ہوئے دیکھا اور درختوں کو دیکھا۸؎کہ جدا ہوگئے تھے ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا ہوگیا تھا ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎افیحبنا ہےفیحسےبمعنی چوڑائیافیحکے معنی ہیں بہت فراخ لمبا چوڑا جنگل۔
۲؎اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بہت دور چلے گئے تھے مگر پھر بھی بغیر آڑ کے استنجاء کرنا مناسب نہ سمجھا۔بہتر یہ ہی ہے کہ جنگل میں آڑ میں استنجاء کرے۔
۳؎اس سے معلوم ہوا کہ درخت بھی حضور انور کی بات سنتے ہیں،سمجھتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں جیسے حضور انور ان سب کی یوں سنتے سمجھتے ہیں،ان کے فیصلے کرتے ہیں ایسے ہی وہ تمام چیزیں حضور کی بات جانتی مانتی ہیں۔
۴؎درخت کے چلنے کی نوعیت یہ ہوئی کہ درخت کی جڑیں باہر آگئیں اور درخت مع اپنی جڑ کے حضور انور کے پیچھے پیچھے ہولیا۔یہ ہے حضور کی بادشاہت مطلقہ کہ انسان و جانور تو کیا درختوں پر بھی جاری ہے وہ بھی حضور کی اطاعت کرتے ہیں اگر انسان حضور کی فرمانبرداری نہ کرے تو درختوں سے بدتر ہے۔
۵؎سبحان اﷲ!یہ ہے حضور کا خدا داد اختیار اور ملکیت اور سارے جہان پر بادشاہت اس درخت کو وہاں دوسرے درخت کے پاس کھڑا نہ کردیا بلکہ اس دوسرے درخت کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا اس طرح کہ ایک ہاتھ میں ایک درخت کی شاخیں تھیں، دوسرے ہاتھ میں دوسرے درخت کی شاخیں تھیں اور دونوں درخت حضور انور کے پیچھے دوڑے آرہے ہیں۔وہ نظارہ بھی قابلِ دید ہوگا جب مطیع فرمانبردار اونٹوں کی طرح حضور کے پیچھے یہ دونوں درخت دوڑے چلے آرہے ہوں گے۔حضور انور صرف آواز دے کر بھی ان درختوں کو بلا سکتے تھے مگر یہ نظارہ دکھانے کے لیے خود انہیں پکڑ لائے۔
۶؎یعنی جب یہ دونوں درخت ان کے بیچ کی جگہ میں پہنچے تو ان دونوں کو ملادیا ان کے ملنے سے پردہ بن گیا۔
۷؎یعنی میں کچھ سوچنے لگا،نگاہ میری ان درختوں سے ہٹ گئی۔
۸؎بعض نسخوں میںالشجرتانہے تب تو ظاہر ہے کہالشجرتانمبتداء ہے اورقد افترقتاخبر اور ہمارے نسخوں میںالشجرتینہے تونظرتفعل پوشیدہ ہے جس کا یہ مفعول ہے۔
۹؎یعنی اب جو میں نے دیکھا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ پہنچ چکے تھے میں ان کا جانا نہیں دیکھ سکا پلک جھپکتے وہ دونوں واپس ہوگئے۔معلوم ہوتا ہے کہ آئے تھے حضور کے پکڑنے سے، گئے حضور کے محض حکم اور اشارہ سے حضور کا پکڑنا اورحکم دینا ایک ہی درجہ کا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5885