Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5885

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهٗ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهٖ وَإِذَا شَجَرَتَيْنِ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَانْقَادَتْ مَعَهٗ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهٗ حَتّٰى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرٰى فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَانْقَادَتْ مَعَهٗ كَذٰلِكَ حَتّٰى إِذَا كَانَ بِالْمُنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا قَالَ الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللّٰهِ فَالْتَأَمَتَا فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَيْنِ قَدِ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلٰى سَاقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نزلنا واديا أفيح فذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي حاجته فلم ير شيئا يستتر به وإذا شجرتين بشاطئ الوادي فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى إحداهما فأخذ بغصن من أغصانها فقال انقادي علي بإذن الله فانقادت معه كالبعير المخشوش الذي يصانع قائده حتى أتى الشجرة الأخرى فأخذ بغصن من أغصانها فقال انقادي علي بإذن الله فانقادت معه كذلك حتى إذا كان بالمنصف مما بينهما قال التئما علي بإذن الله فالتأمتا فجلست أحدث نفسي فحانت مني لفتة فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا وإذا الشجرتين قد افترقتا فقامت كل واحدة منهما على ساق. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھےحتی کہ ہم ایک وسیع جنگل میں اترے ۱؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم قضاء حاجت(استنجاء)کے لیے گئے تو ایسی کوئی چیز نہ پائی جس سے آڑ کریں ۲؎حضور نے جنگل کے کناروں میں دو درخت دیکھے تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے ایک کی طرف گئے اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اکے حکم سے میری اطاعت کر ۳؎وہ آپ کے ساتھ اس مہار والے اونٹ کی طرح چلے جو اپنے چلانے والے کی اطاعت کرتا ہے۴؎حتی کہ آپ دوسرے درخت کے پاس پہنچے ۵؎تو اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی فرمایا اکے حکم سے میری اطاعت کروہ بھی اسی طرح حضور کے ساتھ چلا کہ جب ان دونوں کے بیچ میں ہوئے ۶؎تو فرمایا اکے حکم سے مجھ پر مل جاؤ وہ دونوں مل گئے میں بیٹھ گیا اپنے دل میں کچھ سوچتا تھا۷؎میرا اور طرف دھیان گیا تو میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو آتے ہوئے دیکھا اور درختوں کو دیکھا۸؎کہ جدا ہوگئے تھے ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا ہوگیا تھا ۹؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎افیحبنا ہےفیحسےبمعنی چوڑائیافیحکے معنی ہیں بہت فراخ لمبا چوڑا جنگل۔
۲
؎اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بہت دور چلے گئے تھے مگر پھر بھی بغیر آڑ کے استنجاء کرنا مناسب نہ سمجھا۔بہتر یہ ہی ہے کہ جنگل میں آڑ میں استنجاء کرے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ درخت بھی حضور انور کی بات سنتے ہیں،سمجھتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں جیسے حضور انور ان سب کی یوں سنتے سمجھتے ہیں،ان کے فیصلے کرتے ہیں ایسے ہی وہ تمام چیزیں حضور کی بات جانتی مانتی ہیں۔
۴
؎درخت کے چلنے کی نوعیت یہ ہوئی کہ درخت کی جڑیں باہر آگئیں اور درخت مع اپنی جڑ کے حضور انور کے پیچھے پیچھے ہولیا۔یہ ہے حضور کی بادشاہت مطلقہ کہ انسان و جانور تو کیا درختوں پر بھی جاری ہے وہ بھی حضور کی اطاعت کرتے ہیں اگر انسان حضور کی فرمانبرداری نہ کرے تو درختوں سے بدتر ہے۔
۵
؎سبحان اﷲ!یہ ہے حضور کا خدا داد اختیار اور ملکیت اور سارے جہان پر بادشاہت اس درخت کو وہاں دوسرے درخت کے پاس کھڑا نہ کردیا بلکہ اس دوسرے درخت کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا اس طرح کہ ایک ہاتھ میں ایک درخت کی شاخیں تھیں، دوسرے ہاتھ میں دوسرے درخت کی شاخیں تھیں اور دونوں درخت حضور انور کے پیچھے دوڑے آرہے ہیں۔وہ نظارہ بھی قابلِ دید ہوگا جب مطیع فرمانبردار اونٹوں کی طرح حضور کے پیچھے یہ دونوں درخت دوڑے چلے آرہے ہوں گے۔حضور انور صرف آواز دے کر بھی ان درختوں کو بلا سکتے تھے مگر یہ نظارہ دکھانے کے لیے خود انہیں پکڑ لائے۔
۶
؎یعنی جب یہ دونوں درخت ان کے بیچ کی جگہ میں پہنچے تو ان دونوں کو ملادیا ان کے ملنے سے پردہ بن گیا۔
۷
؎یعنی میں کچھ سوچنے لگا،نگاہ میری ان درختوں سے ہٹ گئی۔
۸
؎بعض نسخوں میںالشجرتانہے تب تو ظاہر ہے کہالشجرتانمبتداء ہے اورقد افترقتاخبر اور ہمارے نسخوں میںالشجرتینہے تونظرتفعل پوشیدہ ہے جس کا یہ مفعول ہے۔
۹
؎یعنی اب جو میں نے دیکھا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ پہنچ چکے تھے میں ان کا جانا نہیں دیکھ سکا پلک جھپکتے وہ دونوں واپس ہوگئے۔معلوم ہوتا ہے کہ آئے تھے حضور کے پکڑنے سے، گئے حضور کے محض حکم اور اشارہ سے حضور کا پکڑنا اورحکم دینا ایک ہی درجہ کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5885