Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5878

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهٗ وَيَقُولُ
: بُؤسَ ابْنِ سُمَيَّةَ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي قتادة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمار حين يحفر الخندق فجعل يمسح رأسه ويقول
: بؤس ابن سمية! تقتلك الفئة الباغية.رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جناب عمار سے کہا جب کہ وہ خندق کھود رہے تھے تو آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے اور کہتے کہ اے ابن سمیہ کی سختی ۱؎تم کو باغی جماعت قتل کرے گی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عمار ابن یاسر کی والدہ ماجدہ کا نام سمیہ بنت ابی حذیفہ تھا،قبیلہ بنی مخزوم سے تھیں،مکہ مکرمہ میں اسلام لائیں، ابوجہل اور دیگر کفارکے ہاتھوں بہت ہی بے دردی سے شہید کی گئیں۔اس جملہ کی کئی ترکیبیں ہیں۔آسان ترکیب یہ ہےبؤسایک پوشیدہ فعل کا فاعل ہے اور ابن سمیہ منادی ہے یعنی اے سمیہ کے فرزند تم کو سخت تکلیف پہنچے گی۔
۲
؎اس فرمان عالی میں تین غیبی خبریں ہیں: ایک یہ کہ حضرت عمار شہید ہوں گے،دوسرے یہ کہ مظلوم ہوں گے،تیسرے یہ کہ ان کے قاتل باغی ہوں گے یعنی امام برحق پر بغاوت کرنے والے،یہ تینوں خبریں من و عن اسی طرح ظاہر ہوئیں۔ حضرت عمار جناب مولیٰ کائنات علی المرتضٰی رضی اعنہ کے ساتھ تھے،جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اعنہ کی جماعت کے ہاتھوں شہید ہوئے۔جب یہ حدیث شہادت عمار کے بعد حضرت امیر معاویہ کو پہنچی کہ عمرو ابن عاص نے کہا کہ معاویہ غضب ہوگیا حضرت عمار ہماری جماعت کے ہاتھوں شہید ہوئے اور حضور انور نے ان کے قاتلین کوفئۃ باغیہفرمایا ہے ہم اس حدیث کے ماتحت باغی ہوئے تو امیر معاویہ نے کہانحن امۃ باغیۃ لدم عثمانیعنی یہاں باغیہ بغاوت سے نہیں بلکہبغیٌبمعنی مطالبہ سے،ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ مانگنے والے ہیں،اس معنی سے واقعی ہم لوگ باغی ہیں۔ دوسرے یہ کہ عمار کو قتل کرنے والے دراصل علی ہیں جو انہیں جنگ میں لائے ہم تو عمار کا بڑا احترام کرتے تھے اور کرتے ہیں۔حضرت علی نے فرمایا کہ اگر حدیث کا مطلب یہ ہے تو جناب حمزہ کے قاتل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کہ وہ ہی آپ کو جنگ احد میں لے گئے تھے۔بہرحال حضرت علی خلیفہ برحق ہیں،امیرمعاویہ ان کی مخالفت کی بنا پر باغی ہیں،حضرت علی کی ڈگری امیر معاویہ کی معافی ہے۔(مرقات و اشعہ)اس کی نفیس تحقیق ہماری کتابہ امیر معاویہ پر ایک نظر میں دیکھو،صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار سب کا احترام لازم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5878