Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5886

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَن يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٌ مَا هَذِهٖ الضَّربةُ؟ فَقَالَ: هَذِهٖ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأَتَيْتُ الْنَبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن يزيد بن أبي عبيد قال: رأيت أثر ضربة في ساق سلمة بن الأكوع فقلت يا أبا مسلم ما هذه الضربة؟ فقال: هذه ضربة أصابتني يوم خيبر فقال الناس أصيب سلمة فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فنفث فيه ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یزید ابن ابی عبیدہ سے ۱؎فرمایا کہ میں نے سلمہ ابن اکوع کی پنڈلی میں ایک چوٹ کا اثر دیکھا تو میں نے کہا کہ اے ابو مسلم یہ چوٹ کیسی ہے۲؎انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ چوٹ ہے جو مجھے خیبر کے دن لگی تھی تو لوگوں نے کہا کہ سلمہ شہید ہوگئے ۳؎پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور نے تین بار دم فرمایا تو میں اس وقت تک تکلیف میں گرفتار نہیں ہوا ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ امام بخاری کے استاذ کے استاذ ہیں مکی ابن ابراہیم امام بخاری کے استاذ ہیں اور یزید ابن ابی عبید مکی ابن ابراہیم کے استاذ، آپ تابعی ہیں،حضرت سلمہ ابن اکوع کے آزاد کردہ غلام ہیں۔آپ سے یحیی ابن سعید نے روایت کی۔
۲
؎یعنی میرے مولیٰ حضرت سلمہ ابن اکوع کے پنڈلی میں بہت گہرے زخم کا اثر تھا میں نے اس زخم کی تاریخ پوچھی کہ یہ زخم کہاں اور کب لگا تھا۔
۳
؎خیال رہے کہ خیبر میں باقاعدہ جنگ نہ ہوئی تھی وہاں جھڑپیں کئی ہوئیں تھیں کسی جھڑپ میں آپ کو یہ چوٹ آئی تھی، رب تعالٰی خیبر کے متعلق فرماتاہے:"وَعَدَکُمُ اللهُ مَغَانِمَ كَثِیۡرَۃً تَاۡخُذُوۡنَھَا"جس میں فرمایا گیا کہ مسلمان نہایت آسانی سے خیبر کی غنیمتیں حاصل کریں گے۔
۴
؎یعنی حضور کے دم فرماتے ہی آرام ہوگیا اور پھر کبھی مجھے تکلیف نہ ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5886