باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5892
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهٗ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ هٰذَامِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ مِنْ أَشَدِّ الْقِتَالِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجَرَاحُ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ الله أَرأيتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّهٗ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَدْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ مِنْ أَشَدِّ الْقِتَالِ فَكَثُرَتْ بِهِ الْجَرَاحُ فَقَالَ أَمَّا إِنَّهٗ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلٰى ذٰلِكَ إِذْ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجَرَاحِ فَأَهْوٰى بِيَدِهٖ إِلٰى كِنَانَتِهٖ فَانْتَزَعَ سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهَا فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللّٰهِ صَدَّقَ اللّٰهُ حَدِيثَكَ قَدِ انْتَحَرَ فُلَانٌ وَقَتَلَ نَفْسِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللّٰهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ يَا بِلَالُ قُمْ فَأَذِّنْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَإِنَّ اللّٰهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِر. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن أبي هريرة قال شهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل ممن معه يدعي الإسلام هذامن أهل النار فلما حضر القتال قاتل الرجل من أشد القتال وكثرت به الجراح فجاء فقال يا رسول الله أرأيت الذي تحدث أنه من أهل النار قد قاتل في سبيل الله من أشد القتال فكثرت به الجراح فقال أما إنه من أهل النار فكاد بعض الناس يرتاب فبينما هو على ذلك إذ وجد الرجل ألم الجراح فأهوى بيده إلى كنانته فانتزع سهما فانتحر بها فاشتد رجال من المسلمين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله صدق الله حديثك قد انتحر فلان وقتل نفسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الله أكبر أشهد أني عبد الله ورسوله يا بلال قم فأذن لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حنین میں حاضر ہوئے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھ والوں میں سے ایک شخص کے متعلق فرمایا ۱؎جو دعویٰ اسلام کرتا تھا ۲؎کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے ۳؎تو جب جنگ کا وقت آیا تو اس شخص نے سخت جہاد کیا اور اس کو زخم بہت آئے تو وہ آیا عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم غور تو فرمایئے کہ جس کے متعلق حضور نے خبر دی تھی کہ دوزخی ہے اس نے تو اﷲکی راہ میں سخت جہاد کیا حتی کہ اس کو بہت زخم پہنچے ۴؎تو فرمایا آگاہ رہو وہ ہے دوزخی ۵؎قریب تھا کہ بعض لوگ تردد کرجائیں ۶؎تو جب وہ اسی حال میں تھا کہ اس نے زخم کی تکلیف بہت محسوس کی تو اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا ایک تیر نکالا اس سے اپنے کو ذبح کرلیا۷؎تو کچھ مسلمان رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف دوڑے بولے یارسول اﷲرب تعالٰی نے آپ کی بات سچی کردی ۸؎فلاں شخص نے اپنے کو ذبح کرلیا اور خودکشی کر لی تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲاکبر ۹؎میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اﷲکا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۱۰؎اے بلال اٹھو اعلان کرو کہ جنت میں نہ جائے گا مگر مؤمن ۱۱؎اور اﷲتعالٰی اس دین کو فاسق آدمی سے بھی قوت دے گا۱۲؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎معہفرما کر یہ بتایا کہ اس شخص کا جسم حضور کے ساتھ تھا دل نہ تھا یعنی وہ حقیقتًا منافق تھا یا وہ عارضی طور پر حضور انور کے ساتھ تھا آخر علیحدہ ہونے والا تھا کہ کافر ہو کر مرنے والا تھا۔
۲؎یعنی اس شخص پرکوئی علامت کفر موجود نہ تھی بظاہر مسلمان مجاہد غازی تھا حضرات صحابہ کے ساتھ رہتا تھا۔
۳؎یہ ہے حضور کا علم غیب کہ ہرشخص کے انجام سے خبردار ہیں کہ کون مؤمن مرے گا کون کافر،سعادت و شقاوت کا علم بھی علوم خمسہ میں سے ہے۔
۴؎یعنی اس کے ظاہری حالات اہلِ جنت کے سے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ مجاہد غازی صابر معلوم ہورہا ہے تعجب ہے کہ حضور نے اسے دوزخی فرمایا ہے۔
۵؎یعنی وہ کچھ بھی عمل کرے زخمی ہو یا زخمی کرے وہ ہے دوزخی جو ہمارے منہ سے نکل چکا وہ ہو کر رہے گا۔جیسے یوسف علیہ السلام نے قیدی باورچی اور ساقی سے فرمایا تھا"قُضِیَ الۡاَمْرُ الَّذِیۡ فِیۡهِ تَسْتَفْتِیَانِ"جو میرے منہ سے نکل گیا وہ اٹل ہے یعنی ٹل نہیں سکتا اس لیے بعد میں ساقی نے آپ سے کہایوسف ایہاالصدیقکیونکہ صدیق وہ ہے کہ جو وہ کہہ دے وہ ہو کر رہے۔
۶؎یعنی اس شخص کے ظاہری حالات ایسے تھے کہ ممکن تھا کہ بعض لوگ اس خبر کی حقانیت میں تردد اور اس کے جنتی ہونے کا گمان کرلیں اور اپنا ایمان خراب کرلیں کیونکہ نبی کی خبر میں تردد کرنا کفر ہے۔
۷؎بعض روایات میں ہے کہ اس نے اپنی تلوار زمین پر رکھی اور اس کی نوک پر اپنا پیٹ رکھ کر اس پر لد گیا حتی کہ تلوار کی نوک اس کی پیٹھ سے نکل گئی۔مگر دونوں روایتوں میں تعارض نہیں اس نے پہلے تو تیر سے اپنے کو ذبح کیا مگر جب اس سے اس کی جان نہ نکلی تو یہ حرکت کی بہرحال وہ حرام موت مرا یا کافر ہو کر مرایا فاسق ہو کر ظاہر یہ ہے کہ کافر ہو کر مرا ظاہری حالت لوگوں نے دیکھ لی کہ اس نے خودکشی کی دل کی حالت کی خبر حضور انور نے دے دی اس کا یہ کام اس کے دلی کفر کی علامت بن گیا۔خیال رہے کہ خودکشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا حرام موت مرکر دوزخ کا مستحق ہوتا ہے۔اگر ایمان پر مرا ہے تو بہت عرصہ دوزخ میں رہے گا اور اگر کافر مرا ہے تو ہمیشہ رہے گا حضور انور کا فرمان کہ یہ اہلِ نار ہے دونوں کو شامل ہے۔
۸؎یہ حضرات اس خوشی میں آئے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر کو اﷲنے سچا کردکھایا حضور کی عظمت کا ظہور حضور کے علمِ غیب کی تصدیق مؤمنوں کے لیے خوشی و فرحت کا ذریعہ ہے جو لوگ حضور کے علم غیب کی خبروں سے چِڑ جاتے ہیں وہ مؤمن نہیں۔
۹؎حضور انور کا اﷲاکبر فرمانا خوشی کے طور پر تھا،خوشی اس کے مرنے کی نہ تھی بلکہ اس غیبی خبر کی تصدیق کی تھی۔
۱۰؎معلوم ہوا کہ حضور انور کا علم غیب آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے۔یہاںاشہدفرمانا ظہور نبوت کی بنا پر ہے بمعنی مشاہدہ والی گواہی یہ فرمان عالی لوگوں کی تعلیم کے لیے ہے۔یعنی اب تم لوگ میری عبدیت اور رسالت کی گواہی بالمشاہدہ دو تم نے پہلے مجھے علم الیقین سے رسول مانا اب عین الیقین سے رسول مانو جیسے ابراہیم اور عزیر علیہما السلام نے مردہ زندہ ہو تے دیکھ کر فرمایا"اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ" یا "وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیۡزٌ حَكِیۡمٌ"حضور انور کے معجزات تو آج بھی دیکھے جارہے ہیں رب تعالٰی بینا آنکھ عطا فرمائے۔
۱۱؎یعنی بغیر ایمان کوئی نیکی جنت میں پہنچنے کا ذریعہ نہیں تما م نیکیوں کی درستی کے لیے ایمان ایساہی ضروری ہے جیسے نماز کے لیے وضو یا جیسے درخت کی سرسبزی کے لیے جڑ کا درست ہونا۔
۱۲؎یعنی تا قیامت یہ طریقہ رہے گا کہ بعض لوگ دینی خدمات کریں گے جن سے اسلام کو قوت پہنچے مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں گے مگر وہ خود اس کے فائدوں سے محروم رہے جیسا کوئی ریا کار مسجد خانقاہ مدرسہ دینی بنا جاوے لوگ فائدے اٹھائیں یہ خود اپنی خراب نیت کی وجہ سے ثواب نہ پائے یا جیسے کوئی شخص صدقات جاریہ قائم کرے مگر اس کا خاتمہ خراب ہوجاوے لوگ اس کے صدقات کی وجہ سے جنتی بن جاویں وہ خود دوزخی ہو۔الٰہی تیری پناہ !لہذا کوئی اپنے اعمال پر نازاں نہ ہو رب کا فضل مانگتا رہے؎احمد یار احمق ہویا علم و دھیرا پڑھ کے پڑھے لکھے پر مان نہ کرنا پھٹ جاندا دودھ کڑھکے
شکلاں والیاں ناز دکھاون پکڑ نکالیاں جاون اوگنہاریاں عجز کماون قرب حضوری پاون
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5892