Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5883

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلٰى شَفِيرِهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا ثُمَّ صَبَّهٗ فِيهَا ثُمَّ قَالَ: دَعُوهَا سَاعَةً " فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتّٰى ارْتَحَلُوا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن البراء بن عازب قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أربع عشرة مائة يوم الحديبية والحديبية بئر فنزحناها فلم نترك فيها قطرة فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فأتاها فجلس على شفيرها ثم دعا بإناء من ماء فتوضأ ثم مضمض ودعا ثم صبه فيها ثم قال: دعوها ساعة " فأرووا أنفسهم وركابهم حتى ارتحلوا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرمایا کہ ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ۱؎حدیبیہ ایک کنواں ہے ہم نے اس کا پانی نکال ڈالا تو اس میں ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا ۲؎یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی آپ اس کنویں پر آئے اس کے کنارہ پر بیٹھےپھر پانی کا برتن منگایا وضو کیا پھر کلی کی اور دعا فرمائی پھر وہ پانی کنویں میں ڈال دیا ۳؎پھر فرمایا اسے گھڑی بھر چھوڑدو ۴؎پھر لوگ اپنے آپ کو اپنی سواریوں کو سیراب کرتے رہے حتی کہ وہاں سے کوچ کیا ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان روایات کی مطابقت ابھی ذکر کی گئی کہ چودہ سو پندرہ سو تقریبی ہے یعنی قریبًا چودہ پندرہ سو تھے لہذا ان میں تعارض نہیں۔
۲
؎عرب میں بلکہ پاکستان میں بعض جگہ کنویں ایسے ہیں کہ اگر ان سے پانی نکالا جاوے تو بہت جلد خشک ہوجاتے ہیں،نو کنڈی میں ہم نے کنویں دیکھے کہ دو تین سو ڈول نکالنے پر خشک ہوجاتے ہیں پھر چوبیس گھنٹے چھوڑے جاویں تب اس میں پانی اور آجاتا ہے یہ ہی حال حدیبیہ کے کنویں کا تھا۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ وضو کلی ایک برتن میں کی پھر اس برتن پر دعاء برکت کی پھر یہ پانی حدیبیہ کنویں میں ڈال دیا،غالبًا حضور انور نے کلی علاوہ وضو کے کی تھی وضوء والی کلی اس کے سوا تھی لہذاتمضمضفرمانا زائد نہیں۔
۴
؎یعنی ہمارا تبرک پانی پڑتے ہی کنویں سے پانی نکالنا شروع نہ کردو کچھ دیر ٹھہر جاؤ۔ساعۃسے مراد گھنٹہ نہیں بلکہ گھڑی بھر مراد ہے یہ ٹھہرنا اس لیے تھا کہ یہ تبرک اپنا پورا اثر کرے۔یار کے جلوے مختلف ہیں کبھی فورًا تاثیر کبھی کچھ ٹھہر کر۔
۵
؎غالب یہ ہے کہ یہ کنواں پھر برابر بھرا ہی رہا کبھی خشک نہ ہوا کاش کہ اس پر گنبد وغیرہ بنادیا جاتا کہ لوگ اس کی زیارت بھی کرتے پانی بھی تبرکًا پیتے۔(مرقات)یہ میدان حدیبیہ مکہ معظمہ سے بالکل قریب ہی ہے جدہ راستہ پر فقیر نے اس کی زیارت کی۔خیال رہے کہ حضرت جابر کا گزشتہ واقعہ اور ہے یہ واقعہ دوسرا ہےمگر یہ دونوں واقعہ ہوئے حدیبیہ میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5883