باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5934
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلِ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللهُ نَبِيَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى ذٰلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلٰى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللّٰهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هٰذَاقَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهٗ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلٰى بَابِهٖ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلٰى بَابِهٖ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
وعن ابن عباس قال تشاورت قريش ليلة بمكة فقال بعضهم إذا أصبح فأثبتوه بالوثاق يريدون النبي صلى الله عليه وسلم وقال بعضهم بل اقتلوه وقال بعضهم بل أخرجوه فأطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم على ذلك فبات علي على فراش النبي صلى الله عليه وسلم تلك الليلة وخرج النبي صلى الله عليه وسلم حتى لحق بالغار وبات المشركون يحرسون عليا يحسبونه النبي صلى الله عليه وسلم فلما أصبحوا ثاروا إليه فلما رأوا عليا رد الله مكرهم فقالوا أين صاحبك هذاقال لا أدري فاقتصوا أثره فلما بلغوا الجبل اختلط عليهم فصعدوا في الجبل فمروا بالغار فرأوا على بابه نسج العنكبوت فقالوا لو دخل هاهنا لم يكن نسج العنكبوت على بابه فمكث فيه ثلاث ليال. رواه أحمد
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ ایک رات مکہ میں قریش نے مشورہ کیا ۱؎بعض نے کہا کہ جب سویرا ہو تو انہیں رسیوں سے باندھ دو یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض دوسرے بولے کہ بلکہ انہیں قتل کردو بعض بولے بلکہ انہیں نکال دو ۲؎اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تو جناب علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر یہ رات گزاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ غار پر پہنچ گئے ۳؎اور مشرکین رات بھر جناب علی کی نگرانی کرتے رہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر ۴؎جب صبح پائی تو ان پر دوڑے ۵؎پھر جب جناب علی کو دیکھا تو اللہ نے ان کے فریب رد کردیئے ۶؎بولے تمہارے وہ ساتھی کہاں ہیں ۷؎آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۸؎چنانچہ وہ سب حضور کے نشان قدم پر کھوج لگاتے چلے۹؎جب پہاڑ پر پہنچے تو ان پر غار مشتبہ ہوگیا ۱۰؎وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اس غار پر پہنچے اس کے دروازہ پر مکڑی کا جالا دیکھا تو بولے کہ اگر حضور یہاں گھسے ہوتے تو اس کے دروازے پر جالانہ ہوتا ۱۱؎حضور نے اس میں تین شب قیام فرما یا ۱۲؎(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎یہ واقعہ ہجرت کی رات کا ہے کہ دارالندوہ میں کفار قریش جمع ہوئے کہ اب اسلام کو ختم کرنے کی آخری تدبیر کیا کرنی چاہیے اس مجمع میں شیطان شیخ نجدی کی شکل میں حاضر تھا ہر ایک کی رائے پر اعتراض کرتا تھا۔ (مرقات)
۲؎ان تین رایوں میں شیطان نے دو رائیں رد کردیں اور قتل کی رائے پسند کی وہ بولا کہ اگر تم انہیں باندھ دو گے تو ان کے قبیلہ کےلوگ انہیں کھول دیں گے اگر تم انہیں مکہ معظمہ سے نکال دو گے تو وہ اس جگہ پہنچ کر اسلام پھیلائیں گے جہاں جائیں گے۔ بہتر یہ ہی ہے کہ انہیں سب مل کر اچانک قتل کردو۔بنی ہاشم تم سب سے بدلہ نہ لے سکیں گے۔آخر خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے تم سب چندہ کرکے انہیں خون بہا دے دینا اس پر اتفاق ہوگیا اور کفار نے حضور انور کا گھر گھیر لیا اس برے ارادے سے۔(مرقات وغیرہ)قتل کی رائے ابوجہل کی تھی تائید ابلیس کی۔
۳؎حضور کی خوابگاہ گھیرے اس ارادے سے کھڑے تھے کہ حضور تہجد کے لیے اٹھیں ہم ان پر حملہ کردیں حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ ان خونخواروں سفاکوں کی امانتیں میرے پاس ہیں یہ امانتیں ادا کرکے ہمارے پاس مدینہ منورہ پہنچ جانا۔تم مطمئن رہو تمہارا بال بیکا نہیں کرسکیں گے یہ فرما کر حضور انور ان کفار میں سے انکی جماعت کو چیر کر نکلے یہ پڑھ رہے تھے"فَاَغْشَیۡنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوۡنَ"وہ سب اندھے ہوگئے اور حضور وہاں سے نکل کر حضرت ابوبکر صدیق کے مکان پر تشریف لے گئے جناب صدیق کو ساتھ لیا غار ثور تشریف لے گئے کس طرح گئے یہ حضرت صدیق سے پوچھو کہ وہ حضور کو وہاں کیسے لے گئے راستہ میں کبھی حضور کے آگے چلتے کبھی پیچھے کبھی داہنے کبھی بائیں جدھر خطرہ محسوس کرتے ادھر ہوجاتے آخر حضور کو اپنے کندھے پر لے لیا اور پہاڑ کی چڑھائی شروع کردی چڑھائی قریبًا دو ڈھائی میل ہے راستہ خطرناک ہے رستہ میں نوکیلے پتھر ہیں اب لوگ دن میں وہاں جاتے ہیں تو بمشکل وہ راہ طے کرتے ہیں۔عشاق اس راستہ کو چومتے ہیں کہ یہاں جناب صدیق کے تلوے لگے ہوں گے۔
۴؎یہ نگرانی اور محاصرہ اس طے شدہ پروگرام کے ماتحت تھا وہ سمجھے کہ بستر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہے ہیں آپ کے تہجد کے لیے جاگنے کا انتظار کرتے رہے۔
۵؎یعنی حضرت علی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر چوطرفہ سے ٹوٹ پڑے حملہ آور ہوگئے۔
۶؎یعنی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم کیا سمجھے تھے اور ہوا کیا وہ کدھر سے نکلے اور نکل کر کہاں گئے عقل کام نہیں کرتی"وَمَكَرُوۡا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ"۔
۷؎یہ ہے حضور انور کی حفاظت کہ حضور نے فرمایا تھا علی وہ تمہارا بال بیکا نہ کرسکیں گے ایسا ہی ہوا ورنہ ایسی افراتفری میں حضرت علی کا شہید ہوجانا بہت ممکن تھا یا وہ طیش میں آکر ہی آپ کو شہید کردیتے مگر کچھ نہ ہوا کیسے ہوتا کہ حضرت علی کے سر پر حضور انور کا ہاتھ تھا اور اللہ کی رحمت و حفاظت،تاقیامت جس کی حضور حفاظت فرمالیں اسے دین و دنیا میں امان مل جاتی ہے۔شیطان،شیطانی انسان بلکہ ساری مخلوق سے اسےامن مل جاتی ہے۔اعلیٰ حضرت نے خوب فرمایا۔شعر
خوف نہ کر ذرہ رضا تو تو ہے عبد مصطفی تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے
۸؎سبحان الله!کیسا پیارا سچا جواب ہے یعنی میں نہیں جانتا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں حضرت علی کو کیا خبر تھی کہ حضور ابھی تک مکہ معظمہ میں ہیں یا کہیں باہر تشریف لے گئے جواب نہایت ہی سچا ہے۔
۹؎خیال رہے کہ کچھ دور تو حضور انور کے ساتھ حضرت صدیق چلے کبھی آپ کے داہنے کبھی بائیں آگے کبھی پیچھے پھر حضور کو اپنے کندھے پر لے لیا اور نرم زمین پر اپنے پنجوں سے اس طرح چلے کہ جب پنجے اٹھاتے تو گھما کر پنجوں کا نشان مٹاتے جاتے کہ کوئی کھوجیا کھوج نہ لگا سکے کفار کھوج وہاں تک ہی لگاسکے جہاں تک حضرت صدیق ساتھ تھے آگے اپنے اندازے سے گئے پہاڑ پر بھی اندازے سے چڑھے ورنہ پتھریلی زمین میں اور پہاڑ پر نقش قدم نہیں پڑا کرتے۔
۱۰؎اب بھی وہاں زائرین کے لیے غار ثور مشتبہ ہوجاتا ہے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر چند غار واقع ہیں وہاں کسی رہبر کے بغیر پہنچنا مشکل ہوتا ہے ہم بھی وہاں اللہ کے کرم اور رہبر کے ذریعہ حاضر ہوئے نوافل پڑھے۔
۱۱؎اس غار کے دروازے پر پہنچ کر بعض کافر بولے کہ اس کے اندر جاکے دیکھ لو تو دوسرے بولے کہ اگر اس میں کوئی گھسا ہوتا توجالا اور کبوتری کے انڈے ٹوٹ جاتے ایک بولا کہ یہ جالا تیری پیدائش سے پہلے کا ہے۔حالانکہ حضور کے اندر پہنچ جانے کے بعد وہ جالا مکڑی نے تنا تھا کبوتری نے انڈے دیئے تھے اگر رب چاہے تو اپنے محبوب کو مکڑی کے جالے کے ذریعہ بچائے غضب کرے تو فرعون کو اس کے قلعہ کی دیواریں نہ بچا سکیں۔بزرگان دین فرماتے ہیں کہ حرم کے کبوتر اسی کبوتری کی نسل ہیں جس نے وہاں انڈے دیئے تھے ان کا اب تک احترام ہے واللہ ورسولہ اعلم۔امام ابوصیری فرماتے ہیں:شعرظنوا الحمام وظنوا العنکبوت علی
خیر البریۃ لم تنسج ولم تجم۱۲؎اس غار کے دو دروازے ہیں کفار اس دروازے پر پہنچے جس سے حضور داخل ہوئے تھے اس دروازے کی لمبائی ایک ہاتھ ہے چوڑائی صرف ایک بالشت یہ فقیر اس غار شریف سے نکلتے وقت دروازے میں پھنس گیا تھا رگڑ سے کچھ سر کے بال اڑ گئے وہاں پہلے بہت سوراخ تھے مگر اب کوئی سوارخ نہیں ہے۔اندر چھ سات آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اس غار میں حضرت صدیق نے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ اگر کفار اپنے قدموں کو دیکھ لیں تو ہم کو دیکھ لیں فرمایا"لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا"جو قرآن کریم نے نقل فرمایا جناب صدیق کو تو اس غار میں مار(سانپ)نے کاٹا حیرت ہے کہ کفار نے جو کچھ کہا حضور انور اور حضرت صدیق نے اندر سب کچھ سن لیا مگر ان حضرات نے جو اندر باتیں کیں وہ کفار نہ سن سکے۔حالانکہ فاصلہ ایک ہی تھا یہ ہے حضور کا معجزہ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5934