Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5895

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ: ادْعُ اللّٰهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: «اللّٰهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ» . فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صِرْتُ إِلَى البَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٍ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ فَقَالَتْ مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ قَالَ فَاغْتَسَلَتْ فَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتِ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ فَرَجَعْتُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرْحِ، فَحَمِدَ اللهَ وَقَالَ خَيْرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال كنت أدعو أمي إلى الإسلام وهي مشركة فدعوتها يوما فأسمعتني في رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أكره فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي قلت يا رسول الله: ادع الله أن يهدي أم أبي هريرة فقال: «اللهم اهد أم أبي هريرة» . فخرجت مستبشرا بدعوة النبي صلى الله عليه وسلم فلما صرت إلى الباب فإذا هو مجاف فسمعت أمي خشف قدمي فقالت مكانك يا أبا هريرة وسمعت خضخضة الماء قال فاغتسلت فلبست درعها وعجلت عن خمارها ففتحت الباب ثم قالت يا أبا هريرة أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي من الفرح، فحمد الله وقال خيرا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ مشرکہ تھی ایک دن میں نے اسے دعوت دی ۱؎تو اس نے مجھے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق و ہ باتیں سنائیں جو میں ناپسند کرتا ہوں ۲؎تو میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روتا ہوا گیا میں نے عرض کیا یا رسول ارب سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے حضور نے کہا اے اابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے تومیں خوشی خوشی نکلا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا سے ۳؎تو جب میں دروازے تک پہنچا تو وہ بند تھا ۴؎میری ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو بولیں اے ابوہریرہ وہاں ہی رہو اور میں نے پانی کی چھلک سنی انہوں نے غسل کیا پھر اپنی قمیص پہنی اور اپنے دوپٹہ سے جلدی کی ۵؎دروازہ کھولا پھر بولیں اے ابوہریرہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اکے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد اکے بندے اور اس کے رسول ہیں تو میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹا میں خوشی سے رورہا تھاحضور نے اکا شکر کیا اور دعا خیر کی ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ اپنے والدین کو بھی تبلیغ کی جاوے جب وہ کافر مشرک بت پرست ہوں یوں ہی اگر وہ مصیبت میں گرفتار ہوں تو بھی انہیں تبلیغ کی جاوے۔
۲
؎یعنی میری ماں نے شان مصطفوی میں ایسی گستاخی کی جس کا خیال کرنا منہ سے نکالنا کسی کو سنانا بھی ناپسند کرتا ہوں۔
۳
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سنتے ہی مجھے یقین ہوگیا کہ میری ماں کو ضرور ہدایت ملے گی اوران شاءاﷲابھی ملے گی اس لیے میں خوش ہو کر قدرت خدا کا نظارہ کرنے اپنے گھر گیا۔
۴
؎اور یہ بندش دروازہ خلاف عادت تھی اس لیے مجھے تعجب ہوا۔
۵
؎یعنی میری والدہ خوشی خوشی دروازہ کھولنے اتنی جلدی آئیں کہ انہوں نے صرف تہبند اور قمیص ہی پہنی دوپٹہ نہ اوڑھا اسی حالت میں دروازہ کھولا اور مجھے کلمہ طیبہ سنایا اور مجھے اپنے ایمان کا گواہ بنایا۔
۶
؎کہ خدا تعالٰی ان کو دین پر استقامت دے۔معلوم ہوا کہ نو مسلم کے لیے دعا استقامت کرنا سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5895