Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5932

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتّٰى كَانَ عَشِيَّةً فَجَاءَ فَارِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي طَلَعْتُ عَلٰى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلٰى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلٰى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تِلْكَ غَنِيمَةُ المُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ أَنَا يَارَسُولَ اللّٰهِ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهٗ فَقَالَ: «اسْتَقْبِلْ هٰذَاالشِّعْبَ حَتّٰى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَلْ حَسِسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟ قَالُوا يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا حَسِسْنَا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتّٰى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلٰى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتّٰى وَقَفَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتّٰى كُنْتُ فِي أَعْلٰى هٰذَاالشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ طَلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ قَالَ لَا إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا » . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن سهل بن الحنظلية أنهم ساروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فأطنبوا السير حتى كان عشية فجاء فارس فقال يا رسول الله إني طلعت على جبل كذا وكذا فإذا أنا بهوازن على بكرة أبيهم بظعنهم ونعمهم اجتمعوا إلى حنين فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال تلك غنيمة المسلمين غدا إن شاء الله ثم قال من يحرسنا الليلة قال أنس بن أبي مرثد الغنوي أنا يارسول الله قال اركب فركب فرسا له فقال: «استقبل هذاالشعب حتى تكون في أعلاه» . فلما أصبحنا خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مصلاه فركع ركعتين ثم قال هل حسستم فارسكم؟ قالوا يا رسول الله ما حسسنا فثوب بالصلاة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وهو يلتفت إلى الشعب حتى إذا قضى الصلاة قال أبشروا فقد جاء فارسكم فجعلنا ننظر إلى خلال الشجر في الشعب فإذا هو قد جاء حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني انطلقت حتى كنت في أعلى هذاالشعب حيث أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما أصبحت طلعت الشعبين كليهما فلم أر أحدا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم هل نزلت الليلة قال لا إلا مصليا أو قاضي حاجة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فلا عليك أن لا تعمل بعدها » . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے۱؎کہ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو انہوں نے بہت دراز سفر کیا حتی کہ شام ہوگئی ۲؎تو ایک سوار آیا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو میں نے ہوازن کو دیکھا جو سارے کا سارا قبیلہ اپنی عورتوں جانوروں کے ساتھ حنین میں جمع ہوگیا ہے ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ارشاد کیا کہ انشاء اللہ یہ سب کچھ کل مسلمانوں کی غنیمت ہوگی ۴؎پھر فرمایا کہ آج رات ہماری حفاظت کون کرے گا ۵؎انس ابن مرثد غنویٰ بولے یارسول اللہ میں کروں گا ۶؎فرمایا سوار ہوجاؤ۔چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے فرمایااس گھاٹی کے سامنے جاؤ حتی کہ اس کی بلندی پر پہنچ جاؤ ۷؎پھر جب ہم نے سویرا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر تشریف لائے دو رکعتیں پڑھیں ۸؎پھر فرمایا کہ کیا تم نے اپنے سوار کو محسوس کیا ایک صاحب نے کہا یارسول اللہ ہم نے تو محسوس نہ کیا ۹؎پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھنے لگے ۱۰؎حتی کہ جب نماز پوری فرمائی تو فرمایا خوش ہوجاؤ تمہارا سوار آپہنچا ۱۱؎توہم گھاٹی میں درختوں کی طرف دیکھنے لگے تو ناگاہ وہ آرہا تھا حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکھڑا ہوا ۱۲؎تو عرض کیا کہ میں چلا حتی کہ میں اس گھاٹ کی چوٹی پر پہنچ گیا جہاں کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا پھر جب میں نے سویرا کیا تو میں ان دونوں گھاٹیوں(پہاڑیوں)پر چڑھ گیا ۱۳؎تو میں نے کسی ایک کو نہ دیکھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس رات نیچے اترے عرض کیا نہیں سواء نماز کے یا ادا حاجت کے ۱۴؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد کوئی عمل نہ کرنا تم کو مضر نہیں ۱۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حنظلیہ حضرت سہل کی ماں یا دادی کا نام ہے آپ کے والد کا نام ربیع ابن عمرو ہے حضرت سہل بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے بڑے عابد،لوگوں سے علیحدہ رہنے والے گوشہ نشین تھے لاولد رہے آخر میں دمشق میں رہتے تھے وہاں ہی خلافت ا میر معاویہ میں وفات پائی رضی اللہ عنہ۔(مرقات)
۲
؎یعنی تمام دن ہم چلتے رہے حتی کہ شام ہوگئی۔
۳
؎بکرہ کہتے ہیں جوان اونٹنی کو،اہلِ عرب جب کسی قوم کی کثرت بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ قوم ساری کی ساری بہت تعداد میں آگئی تو کہتے ہیںعلی بکرۃ ابیھم ظعنبوڑھی عورتیں،نعم ہر قسم کے جانور یعنی قبیلہ ہوازن اپنی ساری جماعت سارے مال کے ساتھ حنین میں آپ سے جنگ کرنے کے لیے جمع ہوچکے ہیں ہوازن جناب حلیمہ کی قوم تھی آپ قبیلہ بنی ہوازن سے تھیں رضی اللہ عنہا۔
۴
؎یعنیان شاءاللهکل جہاد ہوگا اس میں یہ لوگ قیدی ہوں گے ان کے مال مسلمانوں کی غنیمت بنیں گے ایسا ہی ہوا۔یہ ہوا حضور کے علم غیب کا معجزہ۔
۵
؎دشمن کے خطرہ کے وقت سارا لشکر رات کو نہیں سوجاتا کیونکہ شب خون کا خطرہ ہوتا ہے اس لیے کوئی شخص حفاظت کرتا ہے پھر لشکر سوتا ہے اس قاعدے سے حضور انور نے یہ فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی بندے کی حفاظت لینا نہ تو شرک ہے اور نہ توکل کے خلاف نہ"فَاللهُ خَیۡرٌ حٰفِظًا"کے مخالف حقیقی حفاظت رب تعالٰی کی ہے بندے اس حفاظت کے مظہر ہیں خود حضور انور ساری امت کے محافظ ہیں"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَهِیۡدًا"شہید بمعنی رقیب(محافظ)۔
۶
؎حضرت ابو مرثد کا نام کنار یا انیس ہے آپ خود اور آپ کے باپ دادا بھائی سب صحابی ہیں فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے، ۲۰ھ؁ ∞میں وفات پائی۔
(۷)یعنی تم رات اس پہاڑی پر جاگ کر گزارو ہر چہار طرف نظر رکھو کسی طرف سے دشمن کو آتا دیکھو تو ہم کو خبر دو۔آج رات ان کے لیے یہ جاگنا پہرہ دینا اعلیٰ درجہ کی عبادت تھی۔شعر
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
۸
؎یعنی سنت فجر ادا کیں معلوم ہوا کہ سفر میں سنت و نفل سب پورے پڑھے جائیں گے صرف چار رکعت والے فرض میں قصر ہوگا کہ وہ بجائے چار کے دو ہوں گے۔
۹
؎یعنی کیا آج رات میں کسی وقت ابو مرثد نیچے اترے تم نے انہیں دیکھا معلوم ہوا کہ سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے دنیاوی بات کرلینا جائز ہے اس میں حرج نہیں ہاں بلا ضرورت زیادہ بات نہ کرے(از اشعہ)معلوم یہ بھی ہوا کہ حضور کو اپنے نوکروں چاکروں خدام کی فکر رہتی ہے،آج بھی جو لوگ خدمت دین کررہے ہیں حضور کو ان کی فکر ہے پھر ہمیں اپنی فکر کیوں ہو وہ فکر کرنے والے سلامت رہیں صلی اللہ علیہ وسلم شعر۔
سن اے دشمن میں بگڑنے کا نہیں وہ سلامت ہیں بنانے والے
۱۰
؎یعنی حضور نے نماز فجر ہم کو پڑھائی مگر اس طرح کہ حضور کا گوشہ چشم اس راستہ کی طرف تھا جس سے حضور کے خادم نے آنا تھا۔رب کی نماز میں اپنے خادم کا انتظار فرمایا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ سفر میں نماز باجماعت ادا کی جاوے اذان تکبیر وغیرہ سب کچھ ہو،دوسرے یہ کہ نماز میں گوشہ چشم سے ادھر ادھر دیکھنا نماز کو ناقص نہیں کرتا ہاں منہ پھیرنا مکروہ ہے اور سینہ پھیرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے،تیسرے یہ کہ حضور انور تو اپنے خدام کو نماز میں ملاحظہ کرتے تھے اور حضرات صحابہ عین نماز میں حضور کی نگاہوں کو دیکھتے تھے کیونکہ ان راوی نے فجر کی نماز میں دیکھا کہ حضور گوشہ چشم سے اس طرف دیکھ رہے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ نماز بھی عبادت ہے اور حضور کی ادائیں دیکھنا بھی عبادت ہے اس میں دو عبادتوں کا اجتماع ہے حضور کو دیکھنا وہ عبادت ہے کہ مؤمن کو صحابی بنادیتا ہے۔
۱۱
؎یعنی سلام پھیرتے ہی دعا سے پہلے ہم کو ابو مرثد کے بخیریت پہنچنے کی خوشخبری دی یہ ہے کرم کریمانہ اس میں بھی حضور کے علم کا ظہور ہے کہ ابو مرثد ابھی نمودار بھی نہ ہوئے تھے حضور نے آڑ کے پیچھے سے یار کو دیکھ لیا اور خبر دے دی۔
۱۲
؎خیال رہے کہ ابو مرثد نے فجر کی جماعت میں شرکت نہ کی آج ان کے لیے پہاڑی چوٹی کعبہ تھی اور ان کا وہاں رہنا جماعت تھی۔حضور کی اطاعت اصل عبادت ہے ان کی ترک جماعت پر ہماری لاکھوں باجماعت نمازیں قربان ہوں ان کی قضا پر ہماری ادائیں نچھاور ہوں۔
۱۳
؎ابو مرثد نے آج رات کی کاروائی صحابہ کرام کو بلکہ خود حضور انور کو سنائی۔خیال رہے کہ اپنی عبادت صحابہ کرام یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسنانا نہ تو ریا ہے نہ عبادت ناقص ہونے کا ذریعہ بلکہ یہ تو عبادات کو زیادہ قبول بنانے کا ذریعہ ہے۔حضور انور کی خوشنودی عبادات کا مغز ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاللهُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡهُ"ساری عبادات میں اللہ تعالٰی کی رضا کے ساتھ حضور کو راضی کرنے کی بھی نیت کرو۔
۱۴
؎یعنی میں آج رات پورے طور پر ہی حضور کی طرف سے سپرد کردہ خدمات انجام دیتا رہا ہوں میں سواء نماز یا استنجے کے کسی کام کے لیے بھی نیچے نہیں اترا۔
۱۵
؎یعنی اب اگر تم کوئی نفلی عبادت نہ کرو یا تم اگر اب جہاد نہ کرو تو تمہارے درجے میں کمی نہ ہوگی کیونکہ تم نے آج ایسی بڑی عبادت کرلی یعنی اللہ کے رسول کی حفاظت جس سے تم جنت کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ گئے لہذا عمل سے مراد عمل نفلی یا جہاد نفلی ہے۔(مرقات،اشعہ)مگر فقیر کہتا ہے کہ عمل سے مراد مطلقًا عمل ہے فرض ہو یا نفل کیونکہ نفلی عبادات کا چھوڑنا ویسے بھی مضر نہیں ہوتا نفل تو کہتے ہی اسے ہیں جس کا کرنا ثواب نہ کرنا گناہ نہ ہو لہذا یہ ہی مطلب ہے کہ اگر تم فرضی عبادات بھی نہ کرو تو تم کو مضر نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت عثمان غنی سے فرمایا تھا کہ تم جو چاہو کرو تم جنتی ہوچکے اس کا مقصد یہ نہیں کہ تم پر فرض عبادات فرض نہ رہیں۔یہ فرمان ایسے ہیں جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس سے کہو کہ اڑتا پھر اب وہ اڑے کیسے دل پر قبضہ حضور نے کرلیا اب اس میں ترک عبادت کا خیال کیسے پیدا ہو اس فرمان عالی کے بعد انہوں نے نوافل اور زیادہ شروع کردیئے ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5932