Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5939

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلٰى زَيْدٍ يَعُودُهٗ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهٖ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ بَأْسٌ وَلٰكِنْ كَيْفَ لَكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيَتَ؟»قَالَ:أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ. قَالَ:«إِذًا تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ».قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثمَّ ردَّ اللّٰهُ بَصَرَهٗ ثُمَّ مَاتَ

وعن أنيسة بنت زيد بن أرقم عن أبيها إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على زيد يعوده من مرض كان به قال: «ليس عليك من مرضك بأس ولكن كيف لك إذا عمرت بعدي فعميت؟»قال:أحتسب وأصبر. قال:«إذا تدخل الجنة بغير حساب».قال: فعمي بعد ما مات النبي صلى الله عليه وسلم ثم رد الله بصره ثم مات

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انیسہ بنت زید ابن ارقم سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب زید کے پاس ایک مرض میں مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے،فرمایا اس بیماری سے تم پر کوئی خطرہ نہیں ۲؎مگر تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم کو میرے بعد دراز عمر ملے گی۳؎تو تم نابینا ہوجاؤ گے۴؎عرض کیا کہ میں صبر اور طلب اجر کروں گا۵؎فرمایا تو جنت میں بے حساب جاؤ گے ۶؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ نابینا ہوگئے پھر الله نے ان کی نظر لوٹا دی پھر وہ فوت ہوئے ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎انیسہ الف کے پیش ن کے فتحہ سے،آپ حضرت زید ابن ارقم کی صاحبزادی ہیں،خود تابعین سے ہیں اور زید ابن ارقم صحابی ہیں اس لیے آپ کی کنیت ابو انیسہ بھی ہے اور ابو عمر بھی،انصاری خزرجی ہیں،آخر میں کوفہ میں رہے،وہاں ۷۸؁ ∞ اٹھتر میں وفات پائی،اٹھاون سال عمر ہوئی رضی الله عنہ۔
۲
؎یعنی تم اس مرض سے وفات نہیں پاؤ گے ابھی تمہاری عمر باقی ہے،یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا علم غیب کہ لوگوں کی زندگی اور موت سے خبردار ہیں۔
۳
؎یعنی تم میرے بعد بہت دراز عمر پاؤ گے۔
۴
؎یعنی تم آخر میں نابینا ہوجاؤ گے۔
۵
؎صبر سے مراد علاج نہ کرنا نہیں بلکہ رب کی شکایت نہ کرنا گھبراہٹ ظاہر نہ کرنا ہے دوا اور دعا صبر کے خلاف نہیں بے صبری چیز ہی اور ہے۔طلب اجر کا مطلب یہ ہے کہ میں سمجھوں گا کہ رب تعالٰی مجھے اس تکلیف اور صبر پر جنت عطا فرمائے گا۔
۶
؎یعنی اگر تم نے بے صبری پر صبر اور طلب اجر کر لیا تو تم ان لوگوں میں سے ہوؤ گے جو قیامت کے حساب و کتاب سے مستثنٰی ہیں بے حساب جنتی ہیں۔
۷
؎خیال رہے کہ حضور انور کو اس شفا کی بھی خبر تھی مگر آپ نے انہیں بتایا نہیں تاکہ ان کا امتحان اور صبر اعلیٰ درجہ کے ہوں۔ (مرقات)ظاہر یہ ہے کہ دوبارہ انہیں روشنی ملنا دوا اور دعا سے ہوا جو خلاف صبر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5939