باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5888
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَى المُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى المُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهٗ قِبَلَ الْكُفَّارِ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ بنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلٰى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ فَقَالَ وَاللّٰهِ لَكَأَنَّ عَطَفْتُهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةَ الْبَقَرِ عَلٰى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ قَالَ فَاقْتَتِلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلٰى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلٰى بَغْلَتِهٖ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلٰى قِتَالِهِمْ فَقَالَ حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَرَمٰى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ فَوَاللّٰهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهٖ فَمَا زِلْتُ أَرٰى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن عباس قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فلما التقى المسلمون والكفار ولى المسلمون مدبرين فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يركض بغلته قبل الكفار وأنا آخذ بلجام بغلة رسول الله صلى الله عليه وسلم أكفها إرادة أن لا تسرع وأبو سفيان بن الحارث آخذ بركاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أي عباس ناد أصحاب السمرة فقال عباس وكان رجلا صيتا فقلت بأعلى صوتي أين أصحاب السمرة فقال والله لكأن عطفتهم حين سمعوا صوتي عطفة البقر على أولادها فقالوا يا لبيك يا لبيك قال فاقتتلوا والكفار والدعوة في الأنصار يقولون يا معشر الأنصار يا معشر الأنصار قال ثم قصرت الدعوة على بني الحارث بن الخزرج فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على بغلته كالمتطاول عليها إلى قتالهم فقال حين حمي الوطيس ثم أخذ حصيات فرمى بهن وجوه الكفار ثم قال انهزموا ورب محمد فوالله ما هو إلا أن رماهم بحصياته فما زلت أرى حدهم كليلا وأمرهم مدبرا. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عباس سے فرماتے ہیں کہ میں حنین کے دن رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حاضر ہوا ۱؎تو جب مسلمان و کفار بھڑ پڑے تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے ۲؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کفار کی طرف اپنے خچر کو ایڑھ ماررہے تھے میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے خچر کی لگام پکڑے تھا ۳؎اسے روک رہا تھا کہ کہیں تیز نہ چل پڑے۴؎اور ابوسفیان ابن حارث ۵؎رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی رکاب پکڑے ہوئے تھے ۶؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عباس بیعت الرضوان والوں کو پکارو ۷؎تو جناب عباس نے کہا اور وہ تھے بہت بلند آواز ۸؎آپ نے اپنی بلند آواز سے پکارا کہ بیعت رضوان والے کہاں ہیں فرمایا اﷲکی قسم گویا جب انہوں نے میری آواز سنی تو میں نے انہیں ایسے پھیرلیا جیسے گائے اپنے بچوں پر موڑتی ہے ۹؎وہ بولے ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں حضور نے فرمایا کفار سے جنگ کرو انصار کے متعلق پکار یہ تھی کہ کہتے تھے اے گروہ انصار اے گروہ انصار راوی نے فرمایا کہ پھر بنی حارث ابن خزرج پر بلاوا محدود ہوگیا۱۰؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے نظر دوڑائی حالانکہ آپ اپنے خچر پر تھے گویا آپ اس پر جہاد کفار کے منتظر تھے ۱۱؎تو فرمایا کہ یہ لڑائی گرم ہونے کا وقت ہے۱۲؎پھر چند کنکریاں لیں وہ کفار کے منہ کی طرف پھینکیں پھر فرمایا قسم رب محمد کی یہ بھاگ نکلے۱۳؎تو خدا کی قسم کچھ نہ ہوا سوا اس کے کہ حضور نے ان پر کنکریاں پھینکیں میں دیکھتا رہا ان کی دھار کنداور ان کا معاملہ ذلت والا ۱۴؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎حنین ایک جنگل کا نام ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان واقع ہے اس گنہگار نے وہاں کی زیارت کی ہے۔غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد ہوا، بنی ہوازن سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تھا پہلے مسلمانوں کے قدم اکھڑگئے تھے پھر اﷲنے مسلمانوں کو فتح کامل عطا فرمائی یہ بنی ہوازن جناب حلیمہ دائی کی ہم قوم تھی اس علاقہ میں جناب حلیمہ کا گھر تھا۔حضور انور نے وہاں ہی پرورش پائی تھی غزوہ حنین بھی ۸ ہجری میں ہوا۔(مرقات)
۲؎اس غزوہ میں مسلمان بارہ ہزار تھے اور کفار قریبًا چار ہزار،مسلمانوں کو خیال ہوا کہ آج ہم زیادہ ہیں فتح پائیں گے رب تعالٰی کی طرف سے عتاب ہوا فرماتاہے:"اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ كَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنۡکُمْ شَیْـًٔا"ہوا یہ کہ حضرات صحابہ حضور انور سے آگے کفار سے لڑرہے تھے،مسلمان قبیلہ ہوازن کی تیر اندازی کی تاب نہ لاسکے اس لیے ان کے قدم اکھڑ گئے تتر بتر ہو کر بھاگ پڑے،یہاںالمسلمونسے مراد اکثر مسلمان ہیں سارے نہیں۔
۳؎یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شجاعت و بہادری کہ ایسی حالت میں خاطر اقدس پر قطعًا گھبراہٹ نہیں تنہا ہیں مگر کفار کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔
۴؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنا خچر کفار کی طرف دوڑانا چاہتے تھے اور جناب عباس اسے روکتے تھے آپ چاہتے تھے مسلمان سب جمع ہو جاویں تب حضور کا خچر کفار میں پہنچے۔
۵؎آپ کا نام مغیرہ ہے کنیت ابو سفیان آپ ابن حارث ابن عبدالمطلب ہیں حضور کے چچا زاد بھائی بھی ہیں اور رضاعی بھائی بھی کیونکہ حلیمہ بنت ابو ذویب سعدیہ نے آپ کو بھی دودھ پلایا زمانہ کفر میں حضور انور کے سخت خلاف تھے حضور کے خلاف قصیدے لکھا کرتے تھے،فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور زندگی بھر حضور انور کے سامنے کبھی سر نہ اٹھایا شرم وحیاء کی وجہ سے ۰ ۲ بیس ہجری میں وفات پائی،حضرت عمر نے جنازہ پڑھایا دارعقیل میں دفن ہوئے۔(اکمال)
۶؎اس و قت حضور انور کے ساتھ صرف یہ دو حضرات ہی تھے باقی صحابہ کرام جن کے قدم نہ اکھڑے تھے۔وہ اپنے اپنے مقام معین پر کھڑے تھے۔
۷؎سمرہ والے وہ حضرات ہیں جنہوں نے بیعۃ الرضوان میں شرکت کی تھی یعنی بیعت رضوان والے صحابہ چونکہ یہ بیعت ایک خار دار درخت کے نیچے ہوئی تھی اس لیے انہیں اصحاب سمرہ کہا جاتا ہے انہیں پکارنا مدد کے لیے تھا اور یہ بتانے کے لیے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم یہاں ہیں ادھر آؤ۔
۸؎بعض روایات میں ہے کہ حضرت عباس کی آواز چند میل تک پہنچتی تھی۔صیتامبالغہصائتکاصائتبمعنی آواز والاصیتًابہت بڑی آواز و الا۔
۹؎یعنی جیسے گائے کے بچھڑے ہوئے بچے اپنی ماں کی آواز سن کر شوق و محبت میں دوڑے آتے ہیں ایسے ہی وہ حضرات میری آواز سن کر حضور انور کی طرف بڑے شوق سے آئے اور دوڑے ہوئے آئے۔
۱۰؎یعنی ان تمام گروہوں کو علیحدہ علیحدہ آوازیں دی گئیں اور وہ سب حضرات آتے گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اردگرد جمع ہوتے گئے۔
۱۱؎معلوم ہوا کہ بندوں سے مدد لینا انہیں مدد کے لیے بلانا سنت رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم ہے بلکہ سنت انبیاء کرام ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مدد کے لیے لوگوں کو پکارا"مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللهِ"۔تطاولکے معنی ہیں انتظار میں کسی کو گردن اٹھا کر دیکھنا کہ وہ ہماری مدد کرے۔
۱۲؎حمیکے معنی ہیں گرم ہونا۔وطیسبمعنی تنور اس سے مراد جنگ و جہاد ہے(اشعہ)یعنی اب دیر نہ کرو جلد جہاد کرو یہ وقت رحمتِ الٰہی کے نزول کا ہے۔
۱۳؎اس فرمان عالی میں غیبی خبر ہے چونکہ اس خبر کا وقوع یقینی تھا اس لیے مستقبل کو ماضی سے تعبیر فرمایا یعنی یقین کرلو کہ وہ بھاگ ہی گئے۔
۱۴؎دھار کند ہونے سے مراد ہے ان کی تیزی ختم ہوجانا جوش ٹھنڈا پڑ جانا اور معاملہ ذلیل ہونے سے مراد ہے ان کفار کا ذلیل و خوار ہوجانا شکست کھا جانا۔اس واقعہ میں حضور انور کے دومعجزے ظاہر ہوئے: ایک فعلی دوسرا قولی۔فعلی معجزہ تو ایک مٹھی کنکروں کا تقسیم ہو کر سب کی آنکھوں میں پڑ جانا ہے اور قولی معجزہ ہے کہ یہ شکست کھا گئے پھر فورًا ہوا بھی ایسا ہی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5888