Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5909

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ وَهُوَ بِالزَّوْرَاءِ فَوَضَعَ يَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهٖ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: ثَلَاثَ مِئَةٍ أَوْ زُهَاءُ ثَلَاثِ مِئَةٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بإناء وهو بالزوراء فوضع يده في الإناء فجعل الماء ينبع من بين أصابعه فتوضأ القوم قال قتادة: قلت لأنس: كم كنتم؟ قال: ثلاث مئة أو زهاء ثلاث مئة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک برتن لایا گیا آپ زوراء میں تھے ۱؎تو حضور نے برتن میں اپنا ہاتھ رکھا تو پانی آپ کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا۲؎قوم نے وضوکرلیا قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے کہا کہ تم کتنے تھے فرمایا تین سو یا تین سو کے قریب ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎زوراء مدینہ منورہ کا مشہور مقام ہے جہاں آج کل مدینہ کا بازار ہےیعنی سبزی منڈی۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ پانی خود انگلیوں کے درمیان یعنی گاہیوں میں سے ایسے پھوٹا جیسے پتھر سے پانی کا چشمہ جاری ہوتا ہے۔حضور کا یہ معجزہ موسیٰ علیہ السلام کے اس معجزہ سے افضل اور عجیب تر ہے کہ پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹے،بعض نے جو کہا ہے کہ اس سے مراد پانی میں برکت ہوگئی غلط ہے حدیث کی منشاء کے خلاف ہے۔
۳
؎غالب یہ ہے کہ پانی کی قلت ہوگئی ہوگی اور وضو کرنے والے زیادہ ہوں گے عرب میں کبھی بستیوں میں بھی پانی کم ہوجاتا ہے۔ہمارے ہاں گجرأت میں ایک بار پانی کی بہت ہی کمی ہوگئی تھی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ شہر میں پانی کی کمی کیسی وہاں تو پانی ہوتا ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5909