Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5918

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذٰلِكَ يَمُرُّونَ بِهٖ فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ قَالَ فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتّٰى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هٰذَاسَيِّدُ الْعَالَمِينَ هٰذَارسولُ ربِّ الْعَالِمِينَ يَبْعَثُهُ اللّٰهُ رَحْمَةً لِلْعَالِمِينَ فَقَالَ لَهٗ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مَا عِلْمُكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ وَإِنِّي أَعْرِفُهٗ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهٖ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهٖ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الْإِبِلِ فَقَالَ أَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهٗ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْم وَجَدَهُمْ قَدْ سَبقُوهُ إِلَى فَيْءِ شَجَرَةٍ فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ فَقَالَ انْظُرُوا إِلٰى فَيْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللّٰهِ أَيُّكُمْ وَلِيُّهٗ قَالُوا أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهٗ حَتّٰى رَدَّهٗ أَبُو طَالِبٍ وَبَعَثَ مَعَهٗ أَبُو بَكْرٍ بِلَالًا وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ.
(علق الشَّيْخ أَن ذكر بِلَال فِي الحَدِيث خطأ إِذْ لم يكن خلق بعد)

عن أبي موسى قال: خرج أبو طالب إلى الشام وخرج معه النبي صلى الله عليه وسلم في أشياخ من قريش فلما أشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم فخرج إليهم الراهب وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج إليهم قال فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم الراهب حتى جاء فأخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هذاسيد العالمين هذارسول رب العالمين يبعثه الله رحمة للعالمين فقال له أشياخ من قريش ما علمك فقال إنكم حين أشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر إلا خر ساجدا ولا يسجدان إلا لنبي وإني أعرفه بخاتم النبوة أسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة ثم رجع فصنع لهم طعاما فلما أتاهم به وكان هو في رعية الإبل فقال أرسلوا إليه فأقبل وعليه غمامة تظله فلما دنا من القوم وجدهم قد سبقوه إلى فيء شجرة فلما جلس مال فيء الشجرة عليه فقال انظروا إلى فيء الشجرة مال عليه فقال أنشدكم بالله أيكم وليه قالوا أبو طالب فلم يزل يناشده حتى رده أبو طالب وبعث معه أبو بكر بلالا وزوده الراهب من الكعك والزيت.
(علق الشيخ أن ذكر بلال في الحديث خطأ إذ لم يكن خلق بعد)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف گئے ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سرداروں کی جماعت میں تشریف لے گئے ۱؎جب وہ اس راہب پر پہنچے تو اترے اپنی سواریاں کھولیں ۲؎ان کے پاس وہ راہب آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس پر گزرتے تھے وہ ان کے پاس نہ آتا تھا ۳؎فرمایا کہ لوگ اپنے سامان کھول رہے تھے راہب ان لوگوں کے درمیان گھسنے لگا ۴؎حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا بولا یہ تمام نبیوں کے سردار ہیں یہ رب العالمین کے رسول ہیں اللہ انہیں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا۵؎تو سرداران قریش نے اس سے کہا کہ تجھے کیسے علم ہوا ۶؎وہ بولا کہ تم جب اس گھاٹی سے سامنے آئے تو کوئی درخت پتھر نہ رہا مگر وہ سجدے میں گر گیا۷؎یہ مخلوق نبی کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتی ۸؎اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کی طرح ہے ۹؎پھر وہ لوٹ گیا ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کیا جب ان لوگوں کے پاس کھانا لایا اور حضور اونٹ چرانے میں مشغول تھے تو بولا انہیں بلا بھیجو ۱۰؎چنانچہ آپ آئے آپ پر بادل تھا جو سایہ کررہا تھا ۱۱؎جب آپ قوم سے قریب ہوئے تو ان کو درخت کے سایہ میں پہلے پہنچا ہوا پایا جب حضور بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ۱۲؎وہ بولا دیکھو درخت کا سایہ کہ آپ پر جھک گیا پھر بولا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ان کا ولی کون ہے لوگوں نے کہا ابو طالب ہیں وہ انہیں قسمیں دیتا رہا حتی کہ حضور کو ابوطالب نے لوٹا دیا ۱۳؎اور حضور کے ساتھ ابوبکر نے بلال کو بھیجا ۱۴؎اس راہب نے آپ کو بسکٹ اور تیل کا توشہ دیا ۱۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس وقت حضور کی عمر بارہ سال تھی ابو طالب تجارتی قافلہ لے کر مکہ معظمہ سے شام کی طرف گئے تھے حضور انور بخوشی تشریف لے گئے(ازاشعہ)تشریف لے جانے میں وہ راز تھا جو آگے آرہا ہے یعنی بحیرہ راہب کو جمال دکھا کر ایمان بخشنا۔
۲
؎اس عیسائی پادری کا نام بحیرہ تھا اور اس منزل کا نام بصری تھا یہ جگہ شام میں واقع ہے۔(اشعہ)بحیرہ عیسائیوں کا بڑا عالم بھی تھا بڑا عابد بھی لہذا ان روایات میں تعارض نہیں جن میں اسے عالم کہا گیا ہے بعض میں عابد۔
۴
؎بعض علماء کو میں نے فرماتے سنا کہ یہ راہب اس راستہ پر اس لیے بیٹھا تھا کہ اسے معلوم ہوا تھا کہ نبی آخر زمان اس راہ سے کبھی گزریں گے وہ شوق زیارت میں یہاں تھا۔والله و رسولہ اعلم۔ قافلے اس پر گزرتے تھے وہ پرواہ بھی نہ کرتا تھا کیونکہ ان قافلوں میں اسے تجلی و انوار نظر نہ آتے تھے۔آج اس نے اس قافلہ میں آثار نبوت دیکھے۔شعر
ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف بہ امید ز آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
دوسرے شکاری شکار کو ڈھونڈھتے ہیں وہ ایسے شکاری ہیں کہ شکار انہیں ڈھونڈتے ہیں۔
۴
؎یعنی اس قافلہ کے رکتے ہی وہ اس قافلہ میں آن گھسا اور فردًا فردًا۔ایک ایک کو دیکھنے لگاخاتم النبیینکا جو نقشہ اس کے ذہن میں تھا بہ تعلیم انجیل وہ کسی کے مطابق نہ ہوا۔
۵
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ العالمین سے مراد اولین و آخرین تمام جہان ہے حضور گزشتہ موجودہ آئندہ ساری مخلوق کے نبی رحمت اور سردار ہیں اب سارے انبیاء کرام اور ان کی امتیں حضور کی امت ہیں۔(ازمرقات)اللہ تعالٰی رب العالمین ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سید العالمین رحمۃ للعالمین،رسول عالمین ہیں۔
۶
؎یعنی تو نے حضور کے یہ اوصاف حمیدہ کس ذریعہ سے پہچا نے ابھی تو نے ان کے حالت دیکھے بھی نہیں ہیں۔خیال رہے کہ اہل مکہ ولادت پاک سے بھی حضور انور کے معجزات جنہیں ارہاص کہتے ہیں دیکھا کرتے تھے،ان میں سے بعض لوگ حضور کی نبوت پہچان گئے تھے مگر بحیرہ نے تو ابھی کچھ بھی نہ دیکھا تھا۔اس لیے انہوں نے بطور تعجب پوچھا۔
۷
؎بحیرہ راہب اس زمانہ کے اولیاء اللہ میں سے تھا اس نے اپنے کشف سے ان تمام کا سجدہ میں گرنا دیکھ لیا اور لوگ نہیں دیکھ سکے درخت و پتھروں کے سجدہ کی نوعیت کیا تھی یہ تو دیکھنے والے ہی جانیں۔خیال رہے کہ اولیاء اللہ کا وجود دین کی حقانیت کی دلیل ہے جس دین میں اولیاء اللہ ہوں وہ سچا ہے جس درخت میں پھل پھول ہو اس کی جڑ ہری ہے چونکہ اس وقت عیسائیت تھی وہاں اولیاء اللہ تھے منسوخ ہوتے ہی وہاں ولایت نہ رہی مسلمانوں کے صدہا فرقے ہیں مگر سوا ء اہل سنت کے اولیاء اللہ کسی فرقہ میں نہیں ٖپتہ لگا کہ یہ ہی مذہب برحق ہیں۔
۸
؎خیال رہے کہ انسانوں کے سوا تمام چیزیں حضور کو سجدہ کرتی تھیں اونٹوں نے حضور کو سجدہ کیا یہاں معلوم ہوا کہ درختوں پتھروں نے حضور کو سجدہ کیا۔انسانوں کو بھی سجدۂ سر حرام ہے دل و جان و ایمان حضور کو سجدہ کناں ہیں۔شعر
گو سجدہ سر ہے ان کو منع لیکن دل و جان ہیں سجدہ کناں ہے حکم شریعت سر پہ رواں دل و جان نے اجازت پائی ہے
۹
؎بعض روایات میں ہے کہ اس نے حضور کی مہر نبوت کی زیارت کی اور اہل مکہ سے حضور انور کے سونے جاگنے کھانے پینے چلنے پھرنے وغیرہ کے حالات پوچھے سب کچھ انجیل کی مذکورہ علامات کے موافق پایا۔(اشعہ)غضروفوہ نرم ہڈی جو جوڑوں کے ملنے کی جگہ ہوتی ہے نہ گوشت کی طرح بالکل نرم نہ ہڈی کی طرح ایک دم سخت(لمعات)یہ ہڈی اور گوشت کے درمیان وابسطہ ہوتی ہے۔
۱۰
؎یعنی یہ راہب کھانا پکا کر ان لوگوں کے پاس لایا یہ سب لوگ اپنی جگہ موجود تھے حضور انور یہاں نہ تھے آپ اونٹ چرانے کچھ فاصلے پر تھے اس نے سمجھا کہ جس دولہا کی خاطر یہ کھانا پکایا گیا ہے وہ تو یہاں موجود نہیں برات بغیر دولہا کیسے سجے بولا دولہا کو بلاؤ پھر کھانا کھاؤ۔
۱۱
؎خیال رہے کہ گرمی میں دن کے وقت حضور انور پر بادل سایہ کرتا تھا،رات کو کبھی نہیں،دن میں سردی کے موسم میں بادل سایہ نہیں کرتاتھا تاکہ گرمی میں حضور کو دھوپ کی تکلیف نہ ہو اور اول ہی سے جسم پاک بے سایہ تھا خوشبو دار تھا کبھی جسم اقدس پر مکھی نہیں بیٹھتی تھی یہ حضور انور کے ارہاصات ہیں جو ظہور نبوت سے پہلے ظاہر تھے،بعض نادان کہتے ہیں کہ جب حضور انور پر بادل سایہ کیے رہتا تھا تو جسم اقدس کا بے سایہ ہوناکیونکر معلوم ہوا۔ان کا یہ سوال عبث ہے کیونکہ سایہ صرف دھوپ میں نہیں پڑتا بلکہ چاندی میں شمع کے سامنے بھی پرتا ہے،نیز رات میں اور سردیوں کے دن میں بادل سایہ نہیں کرتا تھا اس سے بے سایہ ہونا ظاہر ہوجاتا تھا۔
۱۲
؎یعنی جس درخت کے نیچے ان تمام کو کھانا کھلانے کا انتظام کیا گیا تھا اس درخت کا سایہ پر ہوچکا تھا لوگ وہاں بیٹھ چکے تھے حضور انور مجمع کے کنارے پر بیٹھ گئے۔جہاں درخت کا سایہ نہ تھا۔خیال رہے کہ بادل حضور پر چھتری کی طرح سایہ کرتا تھا کہ صرف آپ پر سایہ رہے تاکہ معجزہ ہونا ثابت ہو لہذا یہاں یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کہ حضور کو درخت کے سایہ کی ضرورت ہی نہ تھی آپ پر تو بادل کا سایہ تھا،نیز درخت بھی حضور انور کی خدمت کرنا چاہتا تھا،رب کی مرضی تھی کہ محبوب کا یہ دوسرا معجزہ ظاہر ہو۔خیال رہے کہ یہ درخت حضور کی خدمت میں جھک گیا۔اس بے سایہ والے پر اپنا سایہ ڈال دیا۔اس طرح کہ دوسرے کنارہ کے لوگ سایہ سے نکل کر دھوپ میں ہوگئے تاکہ سب کو اس معجزہ کا مشاہدہ ہو مرقات نے فرمایا کہ اس وقت بادل ہٹ گیا اور درخت کا سایہ حضور پر پڑنے گا۔
۱۳
؎بحیرہ نے کہا کہ ان کی شہرت دنیا بھر میں پہنچ چکی ہے رومی کفار ان کے درپئے آزار ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو قتل کردیں ان کی حفاظت کرو مکہ واپس بھیج دو۔ابو طالب نے منظور کرلیا،حاکم کی روایت میں ہےکہ اس دوران میں راہب کو سات رومی ملے جو حضور انور کے قتل کے ارادے سے اس طرف آتے تھے انہیں بھی کاہنوں نے پتہ بتایا تھا کہ نبی آخر الزماں اس ماہ اس راستہ سے گزریں گے بحیرہ نے بمشکل انہیں واپس کیا(اشعہ)
۱۴
؎ابن حجر نے اصابہ میں فرمایا کہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے راوی سارے ثقہ ہیں اتنی عبارت کہ ابوبکر صدیق نے بلال کو حضور انور کے ساتھ بھیجا کسی کی ملائی ہوئی ہے یہ باطل محض ہے کیونکہ بلال تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ڈھائی سال حضور سے چھوٹے تھے۔اس وقت حضور انور کی عمر بارہ سال تھی تو جناب صدیق کی عمر ساڑھے نو سال تھی۔غرضکہ اتنی روایت غلط ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ)
۱۵
؎امام قیروی کعب نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد کے تمام راوی مسلم بخاری کے راوی ہیں سارے ثقہ ہیں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5918