باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5935
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا من الْيَهُود فَجَمَعُوا لَهٗ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ قَالُوا فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذبْتُمْ بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ" قَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ قَالَ: «هَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ» قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَمَا عَرَفْتَهٗ فِي أَبِينَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَّا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللّٰهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا"، ثُمَّ قَالَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ: «هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هٰذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "فَمَا حَمَلَكُمْ عَلٰى ذَلِكَ؟ "، قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ نَسْتَرِيحَ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَمْ يَضُرَّكَ.. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن أبي هريرة قال لما فتحت خيبر أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة فيها سم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اجمعوا لي من كان ها هنا من اليهود فجمعوا له فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إني سائلكم عن شيء فهل أنتم مصدقي عنه قالوا نعم يا أبا القاسم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم من أبوكم قالوا فلان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم كذبتم بل أبوكم فلان" قالوا: صدقت وبررت قال: «هل أنتم مصدقي عن شيء إن سألتكم عنه» قالوا نعم يا أبا القاسم وإن كذبناك عرفت كما عرفته في أبينا قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل النار قالوا نكون فيها يسيرا ثم تخلفونا فيها فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم اخسئوا فيها والله لا نخلفكم فيها أبدا"، ثم قال فهل أنتم مصدقي عن شيء إن سألتكم عنه قالوا نعم يا أبا القاسم قال: «هل جعلتم في هذه الشاة سما؟ " قالوا: نعم، قال: "فما حملكم على ذلك؟ "، قالوا: أردنا إن كنت كاذبا أن نستريح منك، وإن كنت صادقا لم يضرك.. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر تھا ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنے یہودی یہاں ہیں انہیں ہمارے پاس جمع کرو وہ سب حضور کے آگے جمع ہوئے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں کیا تم مجھ سے سچ بولو گے انہوں نے کہا ہاں اے ابو القاسم تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا باپ کون ہے ۲؎وہ بولے فلاں فرمایا تم نے جھوٹ بولا بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے وہ بولے آپ نے سچ کہا اور درست کہا ۳؎فرمایا تو کیا اب تم مجھ سے سچ کہو گے جس چیز کے متلعق اگر میں تم سے پوچھو وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم ۴؎اور اگر ہم آپ سے جھوٹ بولیں تو آپ پہچان لیں گے جیسے ہمارے باپ کے متعلق پہچان لیا ۵؎تو ان سے فرمایا کہ آگ والے کون ہیں وہ بولے کچھ دن ہم اس میں رہیں گے ۶؎پھر اس میں ہمارے نائب آپ لوگ ہوں گے ۷؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ورے ہو اس میں رہو اللہ کی قسم ہم اس میں تمہارے نائب کبھی نہیں بنیں گے ۷؎پھر فرمایا کہ کیا اب مجھ سے سچ بولو گے اس چیز کے متعلق جو میں تم سے پوچھوں وہ بولے ہاں اے ابوالقاسم فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ڈالا ہے وہ بولے ہاں ۸؎فرمایا تم کو اس پر کس چیز نے جرأت دی وہ بولے ہم نے چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہم آپ سے راحت پاجائیں اور اگر سچے ہیں تو آپ کو نقصان نہ دے گا ۹؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ بکری خیبر کے یہود نے ہدیہ کے طور پر بھیجی تھی بھیجنے والی یہودیہ کا نام زینب تھا یہ واقعہ ابھی دوسری فصل میں گزر چکا۔
۲؎یعنی تمہارے قبیلہ کا مورث اعلیٰ جد کون ہے تم سب کس کی اولاد میں ہو۔
۳؎یہ ہے حضور انور کا علم غیب کہ حضور لوگوں کی نسلوں تک سے واقف ہیں پھر آپ پر گوشت کا زہر کیسے مخفی رہ سکتا ہے اس زہر کھالینے میں وہ حکمتیں تھیں جو ابھی دوسری فصل میں عرض کی گئیں،حضور مرضی الٰہی سے واقف اسرار الہیہ سے خبردار ہیں جو کچھ ہوااللہ رسول کے درمیان طے شدہ پروگرام کے ما تحت ہوا۔
۴؎یہود نامسعود اکثر حضور انور کا نام نہیں لیتے تھے کنیت شریف سے پکارتے تھے کیونکہ حضور کا نام شریف توریت میں مذکور تھا یہ آپ کی نبوت کی دلیل تھی اس سے انہیں موت آتی تھی۔
۵؎معلوم ہوا کہ وہ یہود بھی حضور کے علمِ غیب کے قائل ہوچکے تھے تب ہی تو بولے کہ ہمارا جھوٹ آپ پرچھپ نہ سکے گا جو حضور کے علم کا انکار کرے وہ ان یہود سے بدتر ہے۔حضور کو سب کی نسل واصل کی خبر ہے کسی کا بیٹا ہونا ایسی غیبی خبر ہے جسے بجز پروردگار کوئی نہیں جانتا۔حضور کو رب نے یہ بھی بتا دیا ہے۔
۶؎ان یہود کا عقیدہ یہ تھا کہ جتنے روز ہمارے باپ دادوں نے بچھڑا پرستی کی ہے اتنے روز ہم دوزخ میں رہیں گے پھر نکال کر جنت میں پہنچادیئے جائیں گے،رب فرماتا ہے:"لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوۡدَۃً" مسلمان وہاں ہمیشہ رہیں گے یہ وہ ہی بکواس ہے۔
۷؎یعنی تم اس خبر میں بھی جھوٹے ہو پہلی خبر واقعہ اور تمہارے علم دونوں کے خلاف تھی یہ خبر واقعہ کے خلاف ہے تمہارے عقیدے کے اگرچہ موافق ہو۔
۸؎اگرچہ زہر ملانے والی صرف ایک یہودن عورت تھی مگر چونکہ یہ کام ان سب کے مشورہ سے ہوا تھا لہذا سب کا فعل تھا اس لیے ان سے حضور انور نے یہ سوال فرمایا اور انہوں نے یہ مذکورہ جواب دیا اگر وہ لوگ حضور کا علمِ غیب ابھی ابھی آزماچکے نہ ہوتے تو ہر گز اپنا جرم قبول نہ کرتے وہ سمجھ گئے کہ۔ ع !
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
علیم و خبیر حاکم کے سامنے اقرار ہی کرنا پڑتا ہے۔
۹؎اس کی شرح ابھی دوسری فصل میں گزر گئی کہ ان یہود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ دیکھنا چاہا کہ اگر حضور کو زہر مضر نہ ہو تو آپ سچے نبی ہیں انہیں یہ معجزہ دکھادیا گیا۔چنانچہ زینب جو زہر ملانے والی تھی غالبًا وہ اور دوسرے چند یہودی ایمان لے آئے جیساکہ پہلے کہا گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5935