Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5920

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهٖ مُلْجَمًا مُسْرَجًا، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ جِبْرَئِيلُ: أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هٰذَا ؟قَالَ: فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللّٰهِ مِنْهُ قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بالبراق ليلة أسري به ملجما مسرجا، فاستصعب عليه فقال له جبرئيل: أبمحمد تفعل هذا ؟قال: فما ركبك أحد أكرم على الله منه قال: فارفض عرقا. رواه الترمذي وقال هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس رات جس رات میں معراج کرائی گئی براق لایا گیا لگام و زین دیا ہوا تو آپ پر اس نے سرکش کی۱؎تو اس سے جبریل نے کہا کہ کیا محمد کے ساتھ تو یہ کرتا ہے ۲؎ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک عزت والا تجھ پر کوئی نہیں سوار ہوا ۳؎فرمایا وہ پسینہ سے نچوڑ گیا(۴)(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کودنے اچھلنے لگا یہ کودنا اچھلنا خوشی میں تھا مگر اس سے سواری میں دقت واقع ہوئی۔خیال رہے کہ معراج میں براق کی سواری حضور کے اعزاز کے لیے تھی ورنہ حضور کو سواری کی کوئی ضرورت نہ تھی حضرات انبیاء کرام اس رات بیت المقدس میں پھر آسمانوں پر بغیر سواریوں کے گئے کیونکہ وہ حضرات اس رات براتی تھے۔حضور دولہا تھے دولہا سواری پر ہوتے ہیں براتی پیدل۔
۲
؎یعنی اے براق تیری یہ شوخی اگرچہ فخر یا خوشی سے ہے مگر بے ادبی ظاہر کررہی ہے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم کر یہاں ادب کی جگہ ہے۔
۳
؎بعض لوگوں نے اس عبارت سے دھوکا کھایا ہے کہ اس براق پر حضرات انبیاء کرام سوار ہوتے رہے ہیں آج حضور سوار ہورہے ہیں مگر یہ استدلال بہت کم زور ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اور لوگ سوار تو ہوئے ہیں مگر وہ حضور کی طرح معزز و مکرم نہ تھے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی سوار ہوا ہی نہیں یہ تجھ پر پہلے سوار ہیں اور سب سے بے مثال ہیں،کسی نبی کو نہ تو معراج ہوئی نہ انہیں کبھی براق کی سواری کی ضرورت پیش آئی۔
۴
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ براق کی اچھل کود خوشی میں تھی اور یہ پسینہ آنا بے ادبی کی شرمندگی سے ہوا۔بعض واعظین بیان کرتے ہیں کہ براق نے حضور سے وعدہ لیا کہ قیامت میں آپ مجھے اپنی سواری کے لیے منتخب فرمائیں وعدہ فرمایا تب وہ خاموش کھڑا ہوگیا۔یہ روایت کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی۔و الله اعلم!اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اچھل کود ناز کی تھی۔شعر
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیا زمند نہ کیوں عاجزی سے ناز کرے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5920