Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5924

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، قَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ تُحِبُّ أَنْ نُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ نَعَمْ فَنَظَرَ إِلٰى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهٖ فَقَالَ ادْعُ بِهَا فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ وَقَامَت بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي حَسْبِي. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن أنس قال جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس حزين، قد تخضب بالدم من فعل أهل مكة، فقال: يا رسول الله! هل تحب أن نريك آية؟ قال نعم فنظر إلى شجرة من ورائه فقال ادع بها فدعا بها فجاءت وقامت بين يديه فقال مرها فلترجع فأمرها فرجعت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حسبي حسبي. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جب کہ آپ غمگین بیٹھے تھے مکہ والوں کی ایذا رسانی کی وجہ سے کہ خون سے رنگین تھے۱؎عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشان دکھاؤں ۲؎فرمایا ہاں انہوں نے آپ کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا عرض کیا اسے بلائیے۔حضور نے اسے بلایا وہ آگیا آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا ۳؎پھر عرض کیا اسے حکم دیجئے کہ لوٹ جائے حضور نے اسے حکم دیا وہ لوٹ گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کافی ہے ۴؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ غزوہ احد کا ہے جب کہ حضور انور پر تلوار و نیزوں کے ستر۷۰ وار کیے گئے جن سے اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا مگر ایک پتھر سر مبارک پر لگادوسرا دانت شریف پر ایک پتھر سے آپ کی انگلی شریف زخمی ہوگئی ان تین زخموں کی وجہ سے آپ خونا خون ہوگئے اور آپ کو بہت تکلیف پہنچی۔(مرقات،لمعات،اشعہ)
۲
؎یعنی آپ کو آپ کی سلطنت خداداد دکھاؤں کہ اللہ نے آپ کا راج ساری مخلوق پر قائم فرمایا ہے اگرچہ بعض لوگ نادانی سے آپ کی حکومت نبوت نہ مانیں آیت سے مراد حضور کا وہ معجزہ ہے جس کا تعلق حضور کے خدا داد اختیار سے ہے۔۳؎یعنی حضور کے بلانے پر درخت بے توقف چلا آیا۔
۴
؎یعنی اب مجھے کفار کی مخالفت یا ان کی ایذا رسانی کی کوئی پرواہ نہیں جب مجھے اللہ تعالٰی نے ایسی حکومت بخشی ہے تو ان کفار کا نہ ماننا مجھے ایذائیں دینا ایک عارضی چیز ہے یہ سب میرے زیر نگیں آنے والے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5924