Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5891

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَوَلّٰى صَحَابَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهٖ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللهُ وَقَسَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنائِمَهُمْ بَينَ الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن سلمة بن الأكوع قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا فولى صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما غشوا رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل عن البغلة ثم قبض قبضة من تراب من الأرض ثم استقبل به وجوههم فقال شاهت الوجوه فما خلق الله منهم إنسانا إلا ملأ عينيه ترابا بتلك القبضة فولوا مدبرين فهزمهم الله وقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم غنائمهم بين المسلمين . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرمایا ہم نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ حنین کیا تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی پیٹھیں پھر گئیں پھر جب کفار نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا ۲؎تو آپ خچر سے اترے پھر زمین سے مٹی کی مٹھی لی پھر اسے کفار کے چہروں کے سامنے کیا پھر فرمایا بگڑ گئے یہ چہرے ۳؎تو ان میں سے انے کوئی انسان نہ پیدا فرمایا مگر انے اس کی آنکھیں اس مٹھی کی مٹی سے بھردیں پھر وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے ۴؎انے انہیں شکست دے دی اور رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی غنیمتیں مسلمانوں میں تقسیم فرمائیں ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اصحاب سے مراد بعض صحابہ ہیں نہ کہ سارے۔(مرقات)پیٹھ پھیرنے کی وجہ ابھی پچھلی احادیث میں ذکر کی گئی ان حضرات صحابہ کا ناتجربہ کار کم ہتھیار ہونا اور اپنی زیادتی پر اعتماد کرنا مقابل کفار کا بہت نشانہ باز تیر انداز ہونا کہ ان کا کوئی تیر بغیر زخمی کیے نہ گرتا تھا۔
۲
؎غشوابنا ہےغشیانسےبمعنی چھا جانا گھیر لینا،سینکڑوں کفار نے ایک ذات کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو گھیر لیا تھا مگر حضور انور کے قلب پاک پر گھبراہٹ مطلقًا نہیں آئی۔
۳
؎اس موقعہ پر حضور انور نے تین کام کیے تلوار سونت کر خچر سے اترنا، وہ رجز پڑھنا کہانا النبی لا کذب،انا ابن عبد المطلب۔ تیسرا یہ عمل کہ مٹھی بھر کر مٹی کافروں پر پھینکنا۔ خیال رہے کہ بعض موقعوں پر حضور انور کے منہ شریف سے بے تکلف شعر صادر ہوئے ہیں یہ شعر بھی انہیں میں سے ہے لہذا یہ واقعہ اس آیت کے خلاف نہیں"وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ"وہاں مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم شعر نہیں یا ہم نے محبوب کو شعر گانے کا ملکہ نہیں دیا۔شاھتکے معنی ہیں بگڑ گئے،پھرگئے۔
۴
؎اس واقعہ میں حضور انور کے تین معجزے ہیں: (۱)ان سب کی آنکھوں میں مٹی پہنچ جانا(۲)اتنی تھوڑی مٹی سے چار ہزار کافروں کی آنکھیں بھر جانا(۳)ان سب کا ایک مٹھی مٹی سے شکست کھا جانا کہ کفار کو شکست مسلمانوں کی تلوار سے ہوئی مگر اس کی ابتداء اس مٹھی مٹی سے ہوئی۔
۵
؎یعنی مسلمانوں کو فتح،عزت مال،غنیمت،غلام لونڈیاں سب کچھ ہی ملیں مگر ان کے غلام لونڈیاں بعد میں واپس کردیں گئیں اور ان کے مال بطور غنیمت تقسیم کیے اس لیے تقسیم مال کا خصوصیت سے ذکر فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5891