Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5937

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا: مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي عَبْدَ اللّٰهِ ابْن مَسْعُودٍ أَنَّهٗ قَالَ: آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن معن بن عبد الرحمن قال سمعت أبي قال: سألت مسروقا: من آذن النبي صلى الله عليه وسلم بالجن ليلة استمعوا القرآن؟ قال حدثني أبوك يعني عبد الله ابن مسعود أنه قال: آذنت بهم شجرة. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معن ابن عبدالرحمن سے فرمایا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ فرمایا میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات جنات نے قرآن سنا ہے تو جنات کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی ۱؎انہوں نے کہا کہ مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ ابن مسعود نے بتایا کہ ان کی خبر ایک درخت نے دی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنات ایک ناری مخلوق ہے جو نظر نہیں آتی۔یہ لوگ حضور انور کا قرآن مجید سننے آئے حضور نے ان کی آمد کی خبر صحابہ کو دی تو یہ تابعی پوچھ رہے ہیں کہ حضور انور کو خبر ان جنات کی آمد کی کس نے دی۔
۲
؎یعنی ان جنات کی آمد کی خبر ایک قریب والے درخت نے دی کہ یارسول اللہ جنات حاضر ہیں حضور پر ایمان لانا چاہتے ہیں تب حضور تشریف لے گئے انہیں قرآن مجید سنایا اور مسلمان کیا،جنات کا یہ واقعہ دوسرا ہے اور قرآن مجید میں جو واقعہ مذکور ہے وہ واقعہ دوسرا"قُلْ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5937