باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5870
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قال سَمِعَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ بِمَقْدَمِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ: فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَمَا يَنْزِعُ الوَلَدَ إِلٰى أبيهِ أَو إِلٰى أُمِّهٖ؟ قا ل: «أَخْبَرَنِي بهنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى المَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهٗ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزْعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ» . قَالَ: أَشْهدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعلَمُوا بِإِسْلَامِي مِنْ قَبْلِ أَنْ تَسْأَلهُمْ يَبْهَتُونَنِي فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ: «أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰهِ فِيكُمْ؟» قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سيدِنَا فَقَالَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ؟» قَالُوا أَعَاذَهُ اللّٰهُ مِنْ ذٰلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا فَانْتَقَصُوهُ قَالَ: هٰذَاالَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللهِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن أنس قال سمع عبد الله بن سلام بمقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في أرض يخترف فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال إني سائلك عن ثلاث لا يعلمهن إلا نبي: فما أول أشراط الساعة وما أول طعام أهل الجنة؟ وما ينزع الولد إلى أبيه أو إلى أمه؟ قا ل: «أخبرني بهن جبريل آنفا أما أول أشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب وأما أول طعام يأكله أهل الجنة فزيادة كبد حوت وإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد وإذا سبق ماء المرأة نزعت» . قال: أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله يا رسول الله إن اليهود قوم بهت وإنهم إن يعلموا بإسلامي من قبل أن تسألهم يبهتونني فجاءت اليهود فقال: «أي رجل عبد الله فيكم؟» قالوا: خيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيدنا فقال: «أرأيتم إن أسلم عبد الله بن سلام؟» قالوا أعاذه الله من ذلك. فخرج عبد الله فقال أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فقالوا: شرنا وابن شرنا فانتقصوه قال: هذاالذي كنت أخاف يا رسول الله رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ عبداﷲا بن سلام نے رسول اﷲکی تشریف آوری کی خبر سنی حالانکہ وہ ایک زمین میں کام کر رہے تھے ۱؎تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،عرض کیا کہ میں آپ سے تین ایسی باتیں پوچھتا ہوں جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۲؎قیامت کی پہلی علامت کیا ہے اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے اور بچے کو کون سی چیز اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچتی ہے۳؎راوی نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ ابھی مجھے ان کی خبر جبریل علیہ اسلام نے دی۴؎قیامت کی پہلی نشانی وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک پہنچادے گی ۵؎اور پہلا وہ کھانا جسے جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہے ۶؎اور جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوجاوے تو مرد بچہ کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہوجاوے تو وہ کھینچ لیتی ہے ۷؎عبداﷲبولے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اﷲکے رسول ہیں ۸؎یارسول اﷲیہود بہتان لگانے والی قوم ہے اگر آپ کی پوچھ گچھ سے پہلے وہ میرے اسلام کو جان لیں تو مجھے بہتان لگادیں گے۹؎چنانچہ یہود آئے تو حضور نے فرمایا کہ تم میں عبداﷲکیسے شخص ہیں وہ بولے کہ ہم میں بہترین ہیں اور ہمارے بہترین کے بیٹے ہیں ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۱۰؎فرمایا بتاؤ تو اگر عبداﷲابن سلام مسلمان ہوجائیں وہ بولے کہ انہیں اﷲاس سے پناہ دے ۱۱؎تو عبداﷲنکلے بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲکے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد اﷲکے رسول ہیں تو یہود بولے کہ وہ ہمارے بدترین ہیں اور ہمارے بدترین کے بیٹے ہیں۱۲؎ان کی بہت برائی کی، عبداﷲنے کہا یارسول اﷲیہ ہی وہ چیز ہے جس سے میں ڈرتا تھا۱۳؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎باغ میں پھل چن رہے تھے وہ پھل آپ کی گود میں تھے دامن پیچھے سے بندھا ہوا تھا،حضور انور کے پاس آئے تو خوشی کے مارے وہ پھل گھر میں رکھ دینا بھول گئے اسی طرح پھل گود میں لیے ہوئے حاضر ہوگئے۔
۲؎یعنی ان تین سوالوں کے جوابات صرف نبی کو یا ان کے وسیلہ سے،ان کی کتابوں سے،ان کی تعلیم سے دوسروں کو معلوم ہو سکتے ہیں۔مجھے خبر ہے کہ آپ نے کوئی آسمانی کتاب کسی عالم سے پڑھی نہیں ان نبیوں کی تعلیمات آپ تک پہنچی نہیں تو اب آپ نور نبوت سے جواب دے سکتے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ عبداﷲابن سلام بھی تو نبی نہ تھے انہیں یہ جوابات کیسے معلوم تھے کیونکہ حضرت عبداﷲتوریت کے بڑے عالم ماہر تھے۔
۳؎خیال تو کرو کہ کیسے گہرے سوالات ہیں جن میں ابتداء انتہا سب کا سوال ہے کہ بیٹا یا بیٹی باپ کے ہم شکل یا ماں کی صورت پر کیوں ہوتے ہیں یکساں کیوں نہیں ہوتے،یہ مبداء کے متعلق سوال ہے اور اہلِ جنت کو پہلی غذا کیا دی جاوے گی،یہ انتہا کے متعلق سوال ہے،حضور انور نے یہ نہ فرمایا کہ مجھ سے نماز وغیرہ کے مسائل عقائد اسلامیہ پوچھو مجھے ان باتوں کی کیا خبر۔ معلوم ہوا کہ نبی یقینًا ہر بات جانتے ہیں،نبی کے معنی غیبی خبر والے یعنی غیبی خبریں دینے والے یا خبریں رکھنے والے یا سب کی خبر لینے والے۔ان سوالات نے نبی کا مقام بتادیا نبی بے خبر نہیں ہوتے اور بے خبر نبی نہیں ہوتے۔
۴؎خیال رہے کہ نبی کو علوم غیبیہ آہستگی سے عطا ہوتے ہیں۔چنانچہ یہاں اس کا ذکر ہے کہ اس وقت جبریل امین کے ذریعہ مجھے اس وقت ان کے جوابات بتائے اس میں حضرت ابن سلام کی نہایت ہی عزت افزائی ہے کہ ان کے سوالات کے جوابات آسمان سے آئے۔
۵؎اس کا تفصیلی ذکرباب علامات القیامتمیں ہوچکا ہے۔یہ آگ قریب قیامت عدن سے اُٹھے گی لوگ آگے آگے بھاگیں آگ پیچھے پیچھے ہوگی،رات کو ٹھہرا کرے گی تاکہ لوگ آرام کرسکیں،سب کو فلسطین یا شام میں پہنچا کر غائب ہوجائے گی۔ اول علامت سے مراد ہے قیامت سے بالکل متصل بڑی علامت پہلی یہ ہوگی۔
۶؎اس کا ذکر بھیباب صفۃ الجنۃ واھلھامیں ہوچکا کہ جنتیوں کو سب سے پہلے زمین کی روٹی اور مچھلی جس پر زمین اٹھانے والی گائے کھڑی ہے اس کی کلیجی کا مزیدار کنارہ کھلایا جاوے گا اس کے بعد انہیں کبھی بھوک نہ لگے گی،پھل فروٹ لذت کے لیے کھایا کریں گے۔
۷؎یعنی اگر رحم میں پہلے مرد کی منی گرے تو بچہ باپ کے ہم شکل ہوتا ہے اور اگر پہلے عورت کی منی گرے تو ماں کی ہم شکل ہوتا ہے،اگر مرد کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکا ہوتا ہے اور ماں کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکی ہوتی ہے اس لیے جس عورت کے لڑکیاں ہی ہوتی ہوں اسے شروع حمل میں بعض دوائیں کھلائی جاتی ہیں جن سے مرد کا نطفہ قوی ہوجاوے اور بچہ لڑکا بنے، تعویذ دعائیں بھی اسی مقصد کے لیے دیئے جاتے ہیں۔یہ مضمون کچھ فرق کے ساتھکتاب الطہارۃ باب الغسلمیں گزر چکا ہے۔
۸؎یعنی حضور کے ان جوابات سے مجھے حضور کی نبوت کا یقین ہوگیا۔کوئی یار کا رخسار دیکھ کر ایمان لایا،کوئی گفتار سن کر،کوئی رفتار دیکھ کر،کسی نے دلیل سے مانا،کسی نے دل سے،حضرت عبداﷲچہرہ انور دیکھ کر ہی دل سے ایمان لاچکے تھے مگر زبانی اقرار کے لیے احتیاطًا یہ سوالات کیے وہ سمجھے کہ پانی پینا چھان کر مرشد کرنا جان کر۔
۹؎یعنی یارسول اﷲمیں چاہتا ہوں کہ حضور انور یہود میں میرا مقام معلوم فرمالیں میرے اسلام کی یہود کو خبر نہ دیں ورنہ وہ جھوٹ بول کر مجھے بگاڑ کر پیش کریں گے بلکہ حضور پہلے ان سے میرے متعلق دریافت کریں کہ میرے متعلق ان کا اعتقاد کیا ہے پھر میرے اسلام کی انہیں خبر دیں یہ فخر نہیں بلکہ رب کی نعمت کا اظہار ہے۔
۱۰؎یعنی خاندانی لحاظ سے بھی وہ ہم سب میں بہتر ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،ان کا خاندان ان کا نسب ہم سب میں اعلیٰ ہے،وہ حسب و نسب میں بہت اونچے ہیں اور علمی عملی لحاظ سے ہم سب سے افضل ہیں،توریت کے بڑے عالم اور اس پر عامل ہیں۔خیرنا و سیدنامیں یہ فرق ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ اولاد نبی ہونا اﷲکی نعمت ہے بشرطیکہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ ہو کیونکہ حضور انور نے ان یہود کے اس قول کی تردید نہیں فرمائی یونہی علمی خاندان سے ہونا اﷲکی نعمت ہے۔ان تمام کے متعلق ہماری کتابالکلام المقبول فی طہارۃ نسب الرسولکا مطالعہ کرو جس میں کہا گیا ہے کہ حضور کا نسب شریف طیب و طاہر اور قیامت میں کام آنے والا ہے۔
۱۱؎ان کے نزدیک اسلام ایک مصیبت تھی انہوں نے یہ کہا کہ ابن اسلام کے متعلق یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان ہو جاویں یہ لفظ یا خبر ہے یا دعا۔
۱۲؎یہود کی ہٹ دھرمی تو دیکھو کہ سیدنا ابن اسلام کا ایمان دیکھ کر بجائے اس کے کہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہوجاتے حضرت عبداﷲابن سلام بلکہ ان کے خاندان کی شرافت کا انکار کر بیٹھے۔خیال رہے کہ قرآن مجید نے حضرت عبداﷲابن سلام کے اسلام قبول کرلینے کو اسلام کی حقانیت کی دلیل قرار دیا ہے،فرماتاہے:"اَوَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ اٰیَۃً اَنۡ یَّعۡلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ"کسی چیز کو علماء حقانی کا مان لینا اس چیز کی حقانیت کی دلیل ہے۔
۱۳؎یعنی اگر حضور انور پہلے ہی سے انہیں میرے اسلام کی خبر دے دیتے تو یہ لوگ میری متعلق وہ ہی کہتے جو اب کہتے ہیں،یہ لوگ ایسے سرکش ہیں اگر حضور انور کو یہ نہ مانیں تو حضور غمگین نہ ہوں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5870