Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5870

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قال سَمِعَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ بِمَقْدَمِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَرْضٍ يَخْتَرِفُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ: فَمَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ وَمَا يَنْزِعُ الوَلَدَ إِلٰى أبيهِ أَو إِلٰى أُمِّهٖ؟ قا ل: «أَخْبَرَنِي بهنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى المَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهٗ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزْعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ نَزَعَتْ» . قَالَ: أَشْهدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعلَمُوا بِإِسْلَامِي مِنْ قَبْلِ أَنْ تَسْأَلهُمْ يَبْهَتُونَنِي فَجَاءَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ: «أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰهِ فِيكُمْ؟» قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سيدِنَا فَقَالَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ؟» قَالُوا أَعَاذَهُ اللّٰهُ مِنْ ذٰلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا فَانْتَقَصُوهُ قَالَ: هٰذَاالَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللهِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أنس قال سمع عبد الله بن سلام بمقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في أرض يخترف فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال إني سائلك عن ثلاث لا يعلمهن إلا نبي: فما أول أشراط الساعة وما أول طعام أهل الجنة؟ وما ينزع الولد إلى أبيه أو إلى أمه؟ قا ل: «أخبرني بهن جبريل آنفا أما أول أشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب وأما أول طعام يأكله أهل الجنة فزيادة كبد حوت وإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد وإذا سبق ماء المرأة نزعت» . قال: أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله يا رسول الله إن اليهود قوم بهت وإنهم إن يعلموا بإسلامي من قبل أن تسألهم يبهتونني فجاءت اليهود فقال: «أي رجل عبد الله فيكم؟» قالوا: خيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيدنا فقال: «أرأيتم إن أسلم عبد الله بن سلام؟» قالوا أعاذه الله من ذلك. فخرج عبد الله فقال أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فقالوا: شرنا وابن شرنا فانتقصوه قال: هذاالذي كنت أخاف يا رسول الله رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ عبداا بن سلام نے رسول اکی تشریف آوری کی خبر سنی حالانکہ وہ ایک زمین میں کام کر رہے تھے ۱؎تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،عرض کیا کہ میں آپ سے تین ایسی باتیں پوچھتا ہوں جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۲؎قیامت کی پہلی علامت کیا ہے اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے اور بچے کو کون سی چیز اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچتی ہے۳؎راوی نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ ابھی مجھے ان کی خبر جبریل علیہ اسلام نے دی۴؎قیامت کی پہلی نشانی وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک پہنچادے گی ۵؎اور پہلا وہ کھانا جسے جنتی کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہے ۶؎اور جب مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوجاوے تو مرد بچہ کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہوجاوے تو وہ کھینچ لیتی ہے ۷؎عبدابولے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اکے سواء کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اکے رسول ہیں ۸؎یارسول ایہود بہتان لگانے والی قوم ہے اگر آپ کی پوچھ گچھ سے پہلے وہ میرے اسلام کو جان لیں تو مجھے بہتان لگادیں گے۹؎چنانچہ یہود آئے تو حضور نے فرمایا کہ تم میں عبداکیسے شخص ہیں وہ بولے کہ ہم میں بہترین ہیں اور ہمارے بہترین کے بیٹے ہیں ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۱۰؎فرمایا بتاؤ تو اگر عبداابن سلام مسلمان ہوجائیں وہ بولے کہ انہیں ااس سے پناہ دے ۱۱؎تو عبدانکلے بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ اکے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد اکے رسول ہیں تو یہود بولے کہ وہ ہمارے بدترین ہیں اور ہمارے بدترین کے بیٹے ہیں۱۲؎ان کی بہت برائی کی، عبدانے کہا یارسول ایہ ہی وہ چیز ہے جس سے میں ڈرتا تھا۱۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎باغ میں پھل چن رہے تھے وہ پھل آپ کی گود میں تھے دامن پیچھے سے بندھا ہوا تھا،حضور انور کے پاس آئے تو خوشی کے مارے وہ پھل گھر میں رکھ دینا بھول گئے اسی طرح پھل گود میں لیے ہوئے حاضر ہوگئے۔
۲
؎یعنی ان تین سوالوں کے جوابات صرف نبی کو یا ان کے وسیلہ سے،ان کی کتابوں سے،ان کی تعلیم سے دوسروں کو معلوم ہو سکتے ہیں۔مجھے خبر ہے کہ آپ نے کوئی آسمانی کتاب کسی عالم سے پڑھی نہیں ان نبیوں کی تعلیمات آپ تک پہنچی نہیں تو اب آپ نور نبوت سے جواب دے سکتے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ عبداابن سلام بھی تو نبی نہ تھے انہیں یہ جوابات کیسے معلوم تھے کیونکہ حضرت عبداتوریت کے بڑے عالم ماہر تھے۔
۳
؎خیال تو کرو کہ کیسے گہرے سوالات ہیں جن میں ابتداء انتہا سب کا سوال ہے کہ بیٹا یا بیٹی باپ کے ہم شکل یا ماں کی صورت پر کیوں ہوتے ہیں یکساں کیوں نہیں ہوتے،یہ مبداء کے متعلق سوال ہے اور اہلِ جنت کو پہلی غذا کیا دی جاوے گی،یہ انتہا کے متعلق سوال ہے،حضور انور نے یہ نہ فرمایا کہ مجھ سے نماز وغیرہ کے مسائل عقائد اسلامیہ پوچھو مجھے ان باتوں کی کیا خبر۔ معلوم ہوا کہ نبی یقینًا ہر بات جانتے ہیں،نبی کے معنی غیبی خبر والے یعنی غیبی خبریں دینے والے یا خبریں رکھنے والے یا سب کی خبر لینے والے۔ان سوالات نے نبی کا مقام بتادیا نبی بے خبر نہیں ہوتے اور بے خبر نبی نہیں ہوتے۔
۴
؎خیال رہے کہ نبی کو علوم غیبیہ آہستگی سے عطا ہوتے ہیں۔چنانچہ یہاں اس کا ذکر ہے کہ اس وقت جبریل امین کے ذریعہ مجھے اس وقت ان کے جوابات بتائے اس میں حضرت ابن سلام کی نہایت ہی عزت افزائی ہے کہ ان کے سوالات کے جوابات آسمان سے آئے۔
۵
؎اس کا تفصیلی ذکرباب علامات القیامتمیں ہوچکا ہے۔یہ آگ قریب قیامت عدن سے اُٹھے گی لوگ آگے آگے بھاگیں آگ پیچھے پیچھے ہوگی،رات کو ٹھہرا کرے گی تاکہ لوگ آرام کرسکیں،سب کو فلسطین یا شام میں پہنچا کر غائب ہوجائے گی۔ اول علامت سے مراد ہے قیامت سے بالکل متصل بڑی علامت پہلی یہ ہوگی۔
۶
؎اس کا ذکر بھیباب صفۃ الجنۃ واھلھامیں ہوچکا کہ جنتیوں کو سب سے پہلے زمین کی روٹی اور مچھلی جس پر زمین اٹھانے والی گائے کھڑی ہے اس کی کلیجی کا مزیدار کنارہ کھلایا جاوے گا اس کے بعد انہیں کبھی بھوک نہ لگے گی،پھل فروٹ لذت کے لیے کھایا کریں گے۔
۷
؎یعنی اگر رحم میں پہلے مرد کی منی گرے تو بچہ باپ کے ہم شکل ہوتا ہے اور اگر پہلے عورت کی منی گرے تو ماں کی ہم شکل ہوتا ہے،اگر مرد کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکا ہوتا ہے اور ماں کی منی قوی ہو تو بچہ لڑکی ہوتی ہے اس لیے جس عورت کے لڑکیاں ہی ہوتی ہوں اسے شروع حمل میں بعض دوائیں کھلائی جاتی ہیں جن سے مرد کا نطفہ قوی ہوجاوے اور بچہ لڑکا بنے، تعویذ دعائیں بھی اسی مقصد کے لیے دیئے جاتے ہیں۔یہ مضمون کچھ فرق کے ساتھکتاب الطہارۃ باب الغسلمیں گزر چکا ہے۔
۸
؎یعنی حضور کے ان جوابات سے مجھے حضور کی نبوت کا یقین ہوگیا۔کوئی یار کا رخسار دیکھ کر ایمان لایا،کوئی گفتار سن کر،کوئی رفتار دیکھ کر،کسی نے دلیل سے مانا،کسی نے دل سے،حضرت عبداچہرہ انور دیکھ کر ہی دل سے ایمان لاچکے تھے مگر زبانی اقرار کے لیے احتیاطًا یہ سوالات کیے وہ سمجھے کہ پانی پینا چھان کر مرشد کرنا جان کر۔
۹
؎یعنی یارسول امیں چاہتا ہوں کہ حضور انور یہود میں میرا مقام معلوم فرمالیں میرے اسلام کی یہود کو خبر نہ دیں ورنہ وہ جھوٹ بول کر مجھے بگاڑ کر پیش کریں گے بلکہ حضور پہلے ان سے میرے متعلق دریافت کریں کہ میرے متعلق ان کا اعتقاد کیا ہے پھر میرے اسلام کی انہیں خبر دیں یہ فخر نہیں بلکہ رب کی نعمت کا اظہار ہے۔
۱۰
؎یعنی خاندانی لحاظ سے بھی وہ ہم سب میں بہتر ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،ان کا خاندان ان کا نسب ہم سب میں اعلیٰ ہے،وہ حسب و نسب میں بہت اونچے ہیں اور علمی عملی لحاظ سے ہم سب سے افضل ہیں،توریت کے بڑے عالم اور اس پر عامل ہیں۔خیرنا و سیدنامیں یہ فرق ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ اولاد نبی ہونا اکی نعمت ہے بشرطیکہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ ہو کیونکہ حضور انور نے ان یہود کے اس قول کی تردید نہیں فرمائی یونہی علمی خاندان سے ہونا اکی نعمت ہے۔ان تمام کے متعلق ہماری کتابالکلام المقبول فی طہارۃ نسب الرسولکا مطالعہ کرو جس میں کہا گیا ہے کہ حضور کا نسب شریف طیب و طاہر اور قیامت میں کام آنے والا ہے۔
۱۱
؎ان کے نزدیک اسلام ایک مصیبت تھی انہوں نے یہ کہا کہ ابن اسلام کے متعلق یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان ہو جاویں یہ لفظ یا خبر ہے یا دعا۔
۱۲
؎یہود کی ہٹ دھرمی تو دیکھو کہ سیدنا ابن اسلام کا ایمان دیکھ کر بجائے اس کے کہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہوجاتے حضرت عبداابن سلام بلکہ ان کے خاندان کی شرافت کا انکار کر بیٹھے۔خیال رہے کہ قرآن مجید نے حضرت عبداابن سلام کے اسلام قبول کرلینے کو اسلام کی حقانیت کی دلیل قرار دیا ہے،فرماتاہے:"اَوَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہُمۡ اٰیَۃً اَنۡ یَّعۡلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ"کسی چیز کو علماء حقانی کا مان لینا اس چیز کی حقانیت کی دلیل ہے۔
۱۳
؎یعنی اگر حضور انور پہلے ہی سے انہیں میرے اسلام کی خبر دے دیتے تو یہ لوگ میری متعلق وہ ہی کہتے جو اب کہتے ہیں،یہ لوگ ایسے سرکش ہیں اگر حضور انور کو یہ نہ مانیں تو حضور غمگین نہ ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5870