Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5890

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللّٰهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهٖ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهٖ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وفي رواية لهما قال البراء كنا والله إذا احمر البأس نتقي به وإن الشجاع منا للذي يحاذي به يعني النبي صلى الله عليه وسلم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے معنی ہیں ان دونوں کی روایت میں ہے کہ براء کہتے ہیں خدا کی قسم جب جنگ سخت ہوتی تھی تو ہم حضور کی پناہ لیتے تھے ۱؎اور ہم میں بہادر وہ تھا جو ان کے یعنی صلی اعلیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوتا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور جہادوں میں سب مجاہدین کی جائے پناہ ہوتے تھے کہ ہر طرف سے آپ ہی کے پاس آیا جاتا تھا بلکہ قیامت تک ہر مسلمان کی پناہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں ہر مصیبت ہر آفت میں حضور کی پناہ لو ابلیس کے دھوکوں سے حضور کی پناہ میں آؤ،فرماتے ہیںانا فئۃ المسلمینمیں مسلمانوں کی پناہ ہوں۔
۲
؎عمومًا جہادوں میں سردار محفوظ مقامات میں کھڑے ہوتے ہیں مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جہاد میں مشکل ترین جگہ پر کھڑے ہوتے تھے جہاں حضور ہوتے تھے وہاں ہی جنگ کا زور ہوتا تھا اس لیے آپ کے ساتھ آپ کے پاس کھڑے ہونا ہر شخص کا کام نہ تھا بہت بہادر ہی وہ جگہ سنبھالتا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5890