Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5927

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلٰى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتّٰى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَثْفَرَ، وَقَالَ: قَدْ عَمَدْتُ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللّٰهُ أَخَذْتُهُ، ثُمَّ انْتَزَعْتَهٗ مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَاللّٰهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هٰذَارَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضٰى وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ، وَأَسْلَمَ، فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِنَّهَا أَمَارَاتٌ بَيْنَ يَدَي السَّاعَةِ، ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يُحَدِّثَهٗ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهٗ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهٗ بَعْدَهٗ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أبي هريرة قال جاء ذئب إلى راعي غنم فأخذ منها شاة فطلبه الراعي حتى انتزعها منه قال فصعد الذئب على تل فأقعى واستثفر، وقال: قد عمدت إلى رزق رزقنيه الله أخذته، ثم انتزعته مني فقال الرجل تالله إن رأيت كاليوم ذئب يتكلم فقال الذئب أعجب من هذارجل في النخلات بين الحرتين يخبركم بما مضى وما هو كائن بعدكم، قال: فكان الرجل يهوديا، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره، وأسلم، فصدقه النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم "إنها أمارات بين يدي الساعة، ، قد أوشك الرجل أن يخرج فلا يرجع حتى يحدثه نعلاه وسوطه بما أحدث أهله بعده". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیا کسی بکریوں کے چرواہے کی طرف گیا ان میں سے ایک بکری پکڑی اسے چرواہے نے تلاش کیا حتیٰ کہ بکری کو اس سے چھڑالیا ۱؎فرمایا کہ بھیڑیا ٹیلہ پر چڑھ گیا ہےوہاں بیٹھ گیا اور دم دبالی اور بولا کہ میں نے اس روزی کا ارادہ کیا جو مجھے اللہ نے دی میں نے اسے لیا پھر تو نے وہ مجھ سے چھین لی ۲؎تو یہ شخص بولا اللہ کی قسم میں نے آج جیسا واقعہ کبھی نہ دیکھا بھیڑیا باتیں کررہا ہے ۳؎تو بھیڑیا بولا کہ اس سے عجیب تو یہ ہے کہ ایک صاحب دو پہاڑوں کے بیچ کھجوروں کے جھنڈوں میں ۴؎تم کو ساری گزشتہ اور آنے والی باتوں کی خبر دے رہے ہیں ۵؎وہ شخص یہودی تھا ۶؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو آپ کو یہ خبر دی اور مسلمان ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ یہ قیامت کے آگے نشانیاں ہیں ۷؎قریب ہے کہ ایک شخص نکلے گا تو نہ بولے گا حتیٰ کہ اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان باتوں کی خبریں دیں گے جو اس کے پیچھے اس کے گھر والوں نے کیں ۸؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی چرواہے نے بھیڑیئے کا پیچھا کرکے شور مچا کر اس کو مار پیٹ کر اس کے منہ سے بکری چھڑالی یہ اس کی بہادری تھی ورنہ بلی کے منہ سے چڑیا چھڑانا مشکل ہے۔
۲
؎یعنی تو نے مجھ پر ظلم کیا کہ رب کی دی ہوئی روزی مجھ سے چھین لی۔
۳
؎یعنی میں نے ایسا کبھی نہ دیکھا نہ سنا کہ بھیڑیا انسان سے ایسی فصیح زبان میں باتیں کرے یہ تو عجیب تربات ہے یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات شریف میں ہوا جب کہ حضور ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آگئے تھے یہ شخص حضور انور سے بالکل بے خبر تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۴
؎اس سے مراد زمین مدینہ ہے کہ یہ دو سیاہ پہاڑوں کے بیچ میں ہے اور اس میں کھجوروں کے درخت بہت ہیں جیسا کہ زیارت کرنے والوں پر ظاہر ہے۔
۵
؎یعنی تمام غیبی خبریں دے رہے ہیں از آدم علیہ السلام تا روز قیامت ہر بات لوگوں کو بتارہے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ حضور کا علم غیب جانور بھی مانتے تھے جو انسان ہو کر اس کا انکار کرے وہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے۔
۶
؎یہ شخص وہ صحابی ہیں جنہیں بھیڑیئے کے ذریعہ ایمان ملا،بعض صحابہ کو تابعین کے ذریعہ ایمان ملا جیسے حضرت عمرو بن عاص کو ایمان ملا نجاشی شاہ حبشی کے ذریعہ اور نجاشی تابعی تھے۔یار کے جلوے رنگ برنگے ہیں کسی کو صحابہ کے ذریعہ ایمان دیتا ہے اور کسی کے ذریعہ صحابی کو ایمان ملتا ہے۔اس یہودی کا نام ہبار ابن اوس خزاعی ہے اور اس کا لقب معلم الذئب ہے،یعنی جس سے بھڑیئے نے کلام کیا۔(از مرقات)
۷
؎یعنی بھیڑیئے کا انسان سے یہ کلام کرنا علامات قیامت سے ہے اب قیامت قریب ہے اور یہ حضور انور کا معجزہ بھی ہے معجزہ کے لیے تصر ف ضروری نہیں۔حسن یوسفی،لحن داؤدی ان حضرات کے معجزے تھے حالانکہ وہ ان میں تصرف نہیں کرتے تھے۔
۸
؎یعنی قریب قیامت کوئی شخص اپنا جوتا اپنا کوڑا اپنے گھر چھوڑجاوے گا وہ دونوں گھر والوں کی آوازیں ان کے کام کیچ کرلیں گے اس شخص کے آنے پر یہ دونوں سب کچھ بتادیں گے۔یہ زمانہ اب بہت ہی قریب معلوم ہوتا ہے۔ایسے آلات ایجاد ہوچکے ہیں کہ جو آوازیں صورتیں کیچ(جذب)کرلیتے ہیں اور مشین پر لگانے سے سب کچھ بول دیتے ہیں جیسے ٹیپ ریکارڈر وغیرہ،ٹیلی ویژن نے تو کمال کردیا ہے کہ وہ تو صورت بھی اپنے میں کیچ کرکے سب کو دکھادیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5927