Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5902

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْم الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللّٰهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرٰى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا وَضَعَهَا حَتّٰى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهٖ حَتّٰى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلٰى لِحْيتِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرنَا يَوْمنَا ذٰلِك، وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعدِ الْغَدِ حَتَّى الجُمُعَةِ الْأُخْرٰى وَقَامَ ذٰلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهٗ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرَقَ الْمَالُ فَادْعُ اللّٰهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ إِلٰى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةٌ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللّٰهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال أصابت الناس سنة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فبينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب في يوم الجمعة قام أعرابي فقال يا رسول الله هلك المال وجاع العيال فادع الله لنا فرفع يديه وما نرى في السماء قزعة فوالذي نفسي بيده ما وضعها حتى ثار السحاب أمثال الجبال ثم لم ينزل عن منبره حتى رأيت المطر يتحادر على لحيته صلى الله عليه وسلم فمطرنا يومنا ذلك، ومن الغد ومن بعد الغد حتى الجمعة الأخرى وقام ذلك الأعرابي أو قال غيره فقال يا رسول الله تهدم البناء وغرق المال فادع الله لنا فرفع يديه فقال اللهم حوالينا ولا علينا فما يشير إلى ناحية من السحاب إلا انفرجت وصارت المدينة مثل الجوبة وسال الوادي قناة شهرا ولم يجئ أحد من ناحية إلا حدث بالجود وفي رواية قال: «اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر»قال: فأقلعت وخرجنا نمشي في الشمس. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں لوگوں کو سخت قحط سالی پہنچی تو جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے جمعہ کے دن ایک دیہاتی اٹھا بولا یا رسول امال برباد ہوگیا اور بچے بھوکے ہوگئے ۱؎آپ ہمارے لیے اسے دعا فرمائیں تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے ۲؎ہم آسمان میں بادل نہیں دیکھتے تھے ۳؎تو اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضور نے ہاتھ نیچے نہ کیے حتی کہ بادل پہاڑوں کی طرح اٹھا پھر حضور اپنے منبر سے نہ اترے حتی کہ میں نے آپ کی داڑھی پر بارش ٹپکتے دیکھی ۴؎پھر ہم پر آج اور کل اور پرسوں ہوتی رہی دوسرے جمعہ تک اور یہ ہی بدوی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا عرض کیا یارسول اعمارتیں گر گئیں مال ڈوب گئے آپ اسے دعا کریں ۵؎تو حضور نے عرض کیا یاالٰہی ہمارے آس پاس برسا ہم پر نہ برسا ۶؎پھر آپ بادل کے کسی گوشہ کی طرف اشارہ نہ فرماتے مگر وہ چر جاتا۷؎اور مدینہ تالاب کی طرح ہوگیا ۸؎اور وادی قنات ایک مہینہ تک بہتی رہی ۹؎کسی طرف سے کوئی نہ آیا مگر اس نے بارش کی خبر دی ۱۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ الٰہی ہم پر نہ برسا ہمارے آس پاس برسا الٰہی ٹیلوں پر اور پہاڑیوں پر اور جنگلوں کے اندرون پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۱۱؎فرمایا تو بارش رک گئی اور ہم دھوپ میں چلنے لگے ۱۲؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ اپنے فقر و فاقہ کی شکایت حضور سے کرنا انہیں اپنے دکھ درد سنانا سنت صحابہ ہے، ہم بھی عرض کرسکتے ہیں کہ یارسول اگناہوں نے ہماری پیٹھ توڑ دی پناہ دو مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر
یارسول ا
بدرگاہت پناہ آوردہ ام ہمچو کا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام
ان دکھڑے سنانے کی اصل یہ حدیث ہے صحابہ نے خود ا
تعالٰی سے دعا بارش نہ کری حضور سے دعا کے لیے عرض کیا معلوم ہوا کہ ہماری دعاؤ ں اور حضور کی دعا میں فرق ہے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ استسقاء کے لیے نماز استسقاء پڑھنا شرط نہیں ہے صرف دعا بھی استسقاء ہے یہ امام اعظم کی دلیل ہے۔امام اعظم نماز استسقاء کا انکار نہیں کرتے بلکہ اسے شرط نہیں مانتے دیکھو حضور نے صرف دعا کی اور بارش آگئی،یہ بھی معلوم ہوا کہ عین خطبہ جمعہ میں دعا مانگ سکتے ہیں۔
۳
؎قزعہبادل کا چھوٹا ٹکڑا یعنی آسمان بالکل صاف تھا شیشہ کی طرح۔
۴
؎اﷲ اکبر!دعا تھی یہ کہ تیر تھا جو قبولیت کے نشانہ پر لگا خطبہ ختم ہونے سے پہلے بادل جمع بھی ہوگیا اور برس بھی پڑا۔مسجد کی چھت ٹپکنے بھی لگی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر قربان ہو کر گرنے بھی لگی۔اللھم صل وسلم وبارك علیہ،یارسول اہمارے خشک دلوں پر بھی کرم کی بارش برسا دو۔شعر
انا فی عطش وسخاك اتم اے گیسوئے پا اے ابر کرم برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گراجانا
۵
؎صحابہ کرام سمجھتے تھے کہ جن کی دعا بارش لائی ہے انہی کی دعاء ہٹائے گی اس لیے بارش تھمنے کی دعا خود نہ کی بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرائی۔معلو م ہوا کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔اعلیٰ حضرت نے خوب فرمایا۔شعر۔
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا ہے خلیل ا
کو حاجت رسول اکی
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ بارش اگر مضر ہو تو اس کے بند کرنے کی دعا کرنا جائز ہے بارش حد میں ہو تو رحمت ہے اور حد سے بڑھ جاوے تو زحمت ہے،جو لوگ کہتے ہیں کہ بارش رحمت ہے اس کے رکنے کی دعا نہیں کرنا چاہیے غلط ہے۔
۷
؎حضور انور نے دعا کے بعد اپنے اختیار خداداد کا اظہار بھی کیا کہ ایک بار اسی انگلی کے اشارے سے چاند چیر دیا تھا اسی اشارہ سے ڈوباہوا سورج خیبر میں واپس لوٹایا تھا،اسی انگلی کے اشارہ سے جما ہوا بادل پھاڑ دیا اور اسے واپس لوٹادیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہوا دی گئی تھی"فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"حضور کے قبضہ میں ساری خدائی دے دی صلی اعلیہ وسلم۔
۸
؎زمین مدینہ میں پانی ایسا بھرا تھا جیسے تالاب میں بھرا ہوتا ہے اس پانی پر اب دھوپ پڑھ رہی تھی۔(مرقات)یاجوبۃکے معنی ہیں بڑی گیند یعنی مدینہ کے اوپر آسمان گیند کی طرح ہوگیا کہ یہاں بادل کوئی نہیں آس پاس بادل تھا اور ضرورت کی جگہ برس رہا تھا(اشعہ)جو فرمایا تھا بادل نے وہ ہی عمل کیا۔
۹
؎قناۃایک جنگل کا نام ہے اس میں پہاڑی پانی آتا تھا گویا یہ ایک نالہ تھا جو ویسے خشک رہتا تھا بارش میں بہتا تھا۔فرماتے ہیں کہ اتنی بارش ہوچکی تھی کہ ایک ماہ تک پہاڑ سے پانی اس جنگل میں آتا رہا اور یہ نالہ برابر بہتا رہا۔
۱۰
؎معلوم ہوتا ہے کہ اولاً بارش صرف مدینہ منورہ پر ہوئی دوسری دعا سے اردگرد مقامات پر ہوئی اور دوسری دعا کے بعد لوگ جس طرف سے بھی آئے بارش کی خبر لائے۔حضور کا فیضان عام ہوا جس سے دور نزدیک سب نے فائدہ اٹھایا۔شعر
کرم سب پر ہے کوئی ہو کہیں ہو تم ایسے رحمۃ للعالمین ہو
۱۱
؎ان دونوں روایتوں میں تعارض نہیں بلکہ پچھلی روایت میں اجمال ہے اس میں تفصیل۔
۱۳
؎گزشتہ جمعہ کو یہ حضرات دھوپ میں مسجد میں آئے تھے بارش لے کر گھروں کو گئے تھے،آج اس کے برعکس بارش میں مسجد شریف آئے دھوپ میں گھر گئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5902