باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5902
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلٰى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْم الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللّٰهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرٰى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا وَضَعَهَا حَتّٰى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهٖ حَتّٰى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلٰى لِحْيتِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرنَا يَوْمنَا ذٰلِك، وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعدِ الْغَدِ حَتَّى الجُمُعَةِ الْأُخْرٰى وَقَامَ ذٰلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهٗ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرَقَ الْمَالُ فَادْعُ اللّٰهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ إِلٰى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةٌ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللّٰهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن أنس قال أصابت الناس سنة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فبينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب في يوم الجمعة قام أعرابي فقال يا رسول الله هلك المال وجاع العيال فادع الله لنا فرفع يديه وما نرى في السماء قزعة فوالذي نفسي بيده ما وضعها حتى ثار السحاب أمثال الجبال ثم لم ينزل عن منبره حتى رأيت المطر يتحادر على لحيته صلى الله عليه وسلم فمطرنا يومنا ذلك، ومن الغد ومن بعد الغد حتى الجمعة الأخرى وقام ذلك الأعرابي أو قال غيره فقال يا رسول الله تهدم البناء وغرق المال فادع الله لنا فرفع يديه فقال اللهم حوالينا ولا علينا فما يشير إلى ناحية من السحاب إلا انفرجت وصارت المدينة مثل الجوبة وسال الوادي قناة شهرا ولم يجئ أحد من ناحية إلا حدث بالجود وفي رواية قال: «اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر»قال: فأقلعت وخرجنا نمشي في الشمس. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں لوگوں کو سخت قحط سالی پہنچی تو جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے تھے جمعہ کے دن ایک دیہاتی اٹھا بولا یا رسول اﷲمال برباد ہوگیا اور بچے بھوکے ہوگئے ۱؎آپ ہمارے لیے اﷲسے دعا فرمائیں تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے ۲؎ہم آسمان میں بادل نہیں دیکھتے تھے ۳؎تو اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضور نے ہاتھ نیچے نہ کیے حتی کہ بادل پہاڑوں کی طرح اٹھا پھر حضور اپنے منبر سے نہ اترے حتی کہ میں نے آپ کی داڑھی پر بارش ٹپکتے دیکھی ۴؎پھر ہم پر آج اور کل اور پرسوں ہوتی رہی دوسرے جمعہ تک اور یہ ہی بدوی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا عرض کیا یارسول اﷲعمارتیں گر گئیں مال ڈوب گئے آپ اﷲسے دعا کریں ۵؎تو حضور نے عرض کیا یاالٰہی ہمارے آس پاس برسا ہم پر نہ برسا ۶؎پھر آپ بادل کے کسی گوشہ کی طرف اشارہ نہ فرماتے مگر وہ چر جاتا۷؎اور مدینہ تالاب کی طرح ہوگیا ۸؎اور وادی قنات ایک مہینہ تک بہتی رہی ۹؎کسی طرف سے کوئی نہ آیا مگر اس نے بارش کی خبر دی ۱۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ الٰہی ہم پر نہ برسا ہمارے آس پاس برسا الٰہی ٹیلوں پر اور پہاڑیوں پر اور جنگلوں کے اندرون پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا ۱۱؎فرمایا تو بارش رک گئی اور ہم دھوپ میں چلنے لگے ۱۲؎(بخاری،مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ اپنے فقر و فاقہ کی شکایت حضور سے کرنا انہیں اپنے دکھ درد سنانا سنت صحابہ ہے، ہم بھی عرض کرسکتے ہیں کہ یارسول اﷲگناہوں نے ہماری پیٹھ توڑ دی پناہ دو مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر
یارسول اﷲبدرگاہت پناہ آوردہ ام ہمچو کا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام
ان دکھڑے سنانے کی اصل یہ حدیث ہے صحابہ نے خود اﷲتعالٰی سے دعا بارش نہ کری حضور سے دعا کے لیے عرض کیا معلوم ہوا کہ ہماری دعاؤ ں اور حضور کی دعا میں فرق ہے۔
۲؎اس سے معلوم ہوا کہ استسقاء کے لیے نماز استسقاء پڑھنا شرط نہیں ہے صرف دعا بھی استسقاء ہے یہ امام اعظم کی دلیل ہے۔امام اعظم نماز استسقاء کا انکار نہیں کرتے بلکہ اسے شرط نہیں مانتے دیکھو حضور نے صرف دعا کی اور بارش آگئی،یہ بھی معلوم ہوا کہ عین خطبہ جمعہ میں دعا مانگ سکتے ہیں۔
۳؎قزعہبادل کا چھوٹا ٹکڑا یعنی آسمان بالکل صاف تھا شیشہ کی طرح۔
۴؎اﷲ اکبر!دعا تھی یہ کہ تیر تھا جو قبولیت کے نشانہ پر لگا خطبہ ختم ہونے سے پہلے بادل جمع بھی ہوگیا اور برس بھی پڑا۔مسجد کی چھت ٹپکنے بھی لگی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر قربان ہو کر گرنے بھی لگی۔اللھم صل وسلم وبارك علیہ،یارسول اﷲہمارے خشک دلوں پر بھی کرم کی بارش برسا دو۔شعر
انا فی عطش وسخاك اتم اے گیسوئے پا اے ابر کرم برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گراجانا
۵؎صحابہ کرام سمجھتے تھے کہ جن کی دعا بارش لائی ہے انہی کی دعاء ہٹائے گی اس لیے بارش تھمنے کی دعا خود نہ کی بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرائی۔معلو م ہوا کہ کوئی شخص کسی درجہ پر پہنچ کر حضور سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔اعلیٰ حضرت نے خوب فرمایا۔شعر۔
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا ہے خلیل اﷲکو حاجت رسول اﷲکی
۶؎اس سے معلوم ہوا کہ بارش اگر مضر ہو تو اس کے بند کرنے کی دعا کرنا جائز ہے بارش حد میں ہو تو رحمت ہے اور حد سے بڑھ جاوے تو زحمت ہے،جو لوگ کہتے ہیں کہ بارش رحمت ہے اس کے رکنے کی دعا نہیں کرنا چاہیے غلط ہے۔
۷؎حضور انور نے دعا کے بعد اپنے اختیار خداداد کا اظہار بھی کیا کہ ایک بار اسی انگلی کے اشارے سے چاند چیر دیا تھا اسی اشارہ سے ڈوباہوا سورج خیبر میں واپس لوٹایا تھا،اسی انگلی کے اشارہ سے جما ہوا بادل پھاڑ دیا اور اسے واپس لوٹادیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہوا دی گئی تھی"فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ"حضور کے قبضہ میں ساری خدائی دے دی صلی اﷲعلیہ وسلم۔
۸؎زمین مدینہ میں پانی ایسا بھرا تھا جیسے تالاب میں بھرا ہوتا ہے اس پانی پر اب دھوپ پڑھ رہی تھی۔(مرقات)یاجوبۃکے معنی ہیں بڑی گیند یعنی مدینہ کے اوپر آسمان گیند کی طرح ہوگیا کہ یہاں بادل کوئی نہیں آس پاس بادل تھا اور ضرورت کی جگہ برس رہا تھا(اشعہ)جو فرمایا تھا بادل نے وہ ہی عمل کیا۔
۹؎قناۃایک جنگل کا نام ہے اس میں پہاڑی پانی آتا تھا گویا یہ ایک نالہ تھا جو ویسے خشک رہتا تھا بارش میں بہتا تھا۔فرماتے ہیں کہ اتنی بارش ہوچکی تھی کہ ایک ماہ تک پہاڑ سے پانی اس جنگل میں آتا رہا اور یہ نالہ برابر بہتا رہا۔
۱۰؎معلوم ہوتا ہے کہ اولاً بارش صرف مدینہ منورہ پر ہوئی دوسری دعا سے اردگرد مقامات پر ہوئی اور دوسری دعا کے بعد لوگ جس طرف سے بھی آئے بارش کی خبر لائے۔حضور کا فیضان عام ہوا جس سے دور نزدیک سب نے فائدہ اٹھایا۔شعر
کرم سب پر ہے کوئی ہو کہیں ہو تم ایسے رحمۃ للعالمین ہو
۱۱؎ان دونوں روایتوں میں تعارض نہیں بلکہ پچھلی روایت میں اجمال ہے اس میں تفصیل۔
۱۳؎گزشتہ جمعہ کو یہ حضرات دھوپ میں مسجد میں آئے تھے بارش لے کر گھروں کو گئے تھے،آج اس کے برعکس بارش میں مسجد شریف آئے دھوپ میں گھر گئے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5902