Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5881

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ أَنَسٌ:كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِيَ غَنْمٍ مَوْكِبَ جِبْرَئِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى بَنِي قُرَيْظَةَ

وفي رواية للبخاري قال أنس:كأني أنظر إلى الغبار ساطعا في زقاق بني غنم موكب جبرئيل عليه السلام حين سار رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بني قريظة

حدیث ترجمہ

اور بخاری میں روایت ہے کہ جناب انس نے فرمایا گویا کہ میں بنی غنم کی گلیوں میں غبار پھیلا ہوا دیکھ رہا ہوں ۱؎حضرت جبریل کے سواروں سے جب کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم بنی قریظہ کی طرف چلے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎بنی غنم انصارکا ایک قبیلہ تھا جن کا محلہ بنی قریظہ کے راستہ میں پڑتا تھا یہاں اس کی نشاندہی فرمائی جارہی ہے۔
۲
؎موکب میم کے فتحہ کاف کے کسرہ سے سواروں کی جماعت جو آہستہ آہستہ چلے یعنی ہم نے اپنی آنکھوں سے بنی غنم کی گلیوں میں غبار اڑتا ہوا دیکھا مگر کوئی چلنے والا نظر نہیں آتا تھا، ہوا بھی تیز نہ تھی حضور انور نے بتایا کہ یہ غبار فرشتوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھ رہا ہے اس واقعہ میں حضور انور کے بہت سے معجزات کااظہار ہے۔خیال رہے کہ فرشتوں کی جماعت کے سردار حضرت جبریل علیہ السلام تھے اس لیے صرف انہیں کا ذکر فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5881