Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5907

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ مَالِكٍ كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدُمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدُمَ بَيْتِهَا حَتّٰى عَصَرَتْهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَصَرْتِيهَا» قَالَتْ نَعَمْ قَالَ: «لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: إن أم مالك كانت تهدي للنبي صلى الله عليه وسلم في عكة لها سمنا فيأتيها بنوها فيسألون الأدم وليس عندهم شيء فتعمد إلى الذي كانت تهدي فيه للنبي صلى الله عليه وسلم فتجد فيه سمنا فما زال يقيم لها أدم بيتها حتى عصرته فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «عصرتيها» قالت نعم قال: «لو تركتيها ما زال قائما» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ام مالک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے ڈبہ میں گھی کا ہدیہ بھیجا کرتی تھیں ۱؎ان کے پاس ان کے بچے آتے ان سے سالن مانگتے حالانکہ ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس ڈبے کی طرف جاتیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدیہ بھیجتی تھیں تو اس میں گھی پاتیں تھیں ۲؎ان کے لیے ان کے گھر کا سالن رہا۳؎حتی کہ انہوں نے اسے نچوڑ لیا ۴؎پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمایا کیا تم نے اسے نچوڑ لیا عرض کیا ہاں فرمایا اگر تم اسے چھوڑ دیتیں تو وہ باقی رہتا۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک ڈبہ میں حضور انور کی خدمت میں گھی ڈال کر بطور ہدیہ حضور کی خدمت میں بھیجا کرتی تھی گھی کو نسبت ہوجاتی تھی حضور سے اور ڈبہ کو اس گھی سے اس دور کی نسبت نے بھی رنگ دکھادیا؎تجھ سے در در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت میری گردن میں بھی ہے دورکا ڈورا تیرا
حضرت جبریل کی گھوڑی کی ٹاپ کی خاک نے سامری کے سونے کے بچھڑے میں جان ڈال دی تھی۔شعر
اے ہزاراں جبریل اندر بشر بہر حق سوئے غریباں یک نظر
۲
؎سبحان اﷲ!اس ذاتِ کریم سے نسبت سے خالی بھی بھر جاتے ہیں اس ڈبہ کو حضور انور سے صرف اتنی نسبت تھی کہ اس میں حضور سرکار کے لیے گھی حاضر کیا جاتا تھا تو یہ ڈبہ خالی ہو کر بھی بھرا ہوتا تھا،اگر ہمارے خالی دلوں پر حضور نظر کریمانہ فرمادیں تو یہ ایمان و عرفان سے بھرجاویں۔
۳
؎یعنی بہت عرصہ تک یہ ڈبہ گھر بھر کو سالن دیتا رہا یہ گھر کبھی بے سالن نہ ہوا۔عرب میں صرف گھی یا صرف زیتون کے تیل بلکہ صرف کھجوروں سے روٹی کھالیتے ہیں۔
۴
؎تاکہ بہت سا گھی نکل آوے یہ ہے ہوس اس لیے اس نے کام بگاڑ دیا کہ آئندہ پھر گھی نکلنا بند ہوگیا(مرقات)برکت کی چیز کو ناپنا تولنا،نچوڑنا،جھاڑنا اچھا نہیں۔
۵
؎یعنی تمہاری پشتہاپشت تک یا قیامت تک اس ڈبے سے گھی نکلتا رہتا۔اس حدیث کے ماتحت صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ اس ڈبہ پر حضور انور نے کچھ دم نہیں کیا۔اسے ہاتھ نہیں لگایا۔صرف دور کی نسبت حضور سے ہوگئی تو برکت کا یہ حال ہوا۔لہذا جس چیز پر حضور کا نام پڑجاوے اس میں بھی برکت ہوگی لہذا جو چیز حضور کے نام پر لگادی جاوے کہ اس کھانا پر حضور کی فاتحہ پڑھ دی جاوے یا کہا جاوے کہ یہ دودھ حضور کا میرا بیٹا حضور کا غلام ہےان شاءاﷲاس میں برکت ہوگی۔مجھ گنہگار کو میرے والد نے حضور قطب ربانی محبوب سبحانی سید عبدالقادر جیلانی رضی اعنہ کے درکار فقیر بنادیا ہے میرے پیدا ہوتے ہی انہوں نے فرمایا تھا کہ میرا یہ بچہ حضور سرکار بغداد کا غلام ان کے در کا فقیر ہے تو یہ گنہگار اپنے ہر کام میں اپنے گھر میں برکت دیکھتا ہے،بزرگوں سے نسبت بڑی چیز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5907