Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5917

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أَصْحَابِي وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَايَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُم تَكْفِيهِمُ الدُّبَيْلَةُ: سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتّٰى تَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: «لَأُعْطِيَنَّ هٰذِهِ الرَّايَةَ غَدًا» فِي«بَابِ مَنَاقِبِ عَلِيٍّ» رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَحَدِيثَ جَابِرٍ «مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ» فِي «بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ» إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى

وعن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " في أصحابي وفي رواية قال: في أمتي اثنا عشر منافقا لايدخلون الجنة ولا يجدون ريحها حتى يلج الجمل في سم الخياط، ثمانية منهم تكفيهم الدبيلة: سراج من نار يظهر في أكتافهم حتى تنجم في صدورهم ". رواه مسلم وسنذكر حديث سهل بن سعد: «لأعطين هذه الراية غدا» في«باب مناقب علي» رضي الله عنه وحديث جابر «من يصعد الثنية» في «باب جامع المناقب» إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میرے ساتھیوں میں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں۔۱؎جو جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجاوے ۲؎ان میں سے آٹھ وہ ہیں جنہیں ایک پھوڑا ہی کافی ہوگا آگ کا شعلہ جو ان کے کندھوں میں ظاہر ہوگا حتی کہ ان کے سینوں میں پار ہوجاوے گا ۳؎(مسلم)ہم سہل ابن سعد کی حدیث کہ میں یہ جھنڈا کل دوں گا جناب علی رضی اعنہ کے فضائل میں ذکر کریں گے اور حضرت جابر کی حدیث کہ جو اس گھاٹی پر چڑھ جاوےان شاءاﷲ جامع المناقبباب میں ہم ذکر کریں گے۔

شرح حدیث

۱∞؎ان منافقوں کو اصحاب یا امت لغوی معنی سے فرمایا گیا ہے ورنہ منافق نہ صحابی ہے نہ حضور کا امتی(یعنی مسلمان) صحابی وہ ہے جو بحالت ایمان حضور کی زیارت کرے اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہو۔خیال رہےکہ یہ فرمان عالی غزوہ تبوک کےموقعہ پر ہوا جب کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک سے واپس لوٹ رہے تھے تو ایک شب جسے لیلۃ العقبہ کہتے ہیں حضور انور ایک گھاٹی میں اترے آپ کے ساتھ عمار ابن یاسر اور حذیفہ ابن یمان تھے چوتھا منافقین نے سازش کی غار میں پہنچ کر حضور انور پر حملہ کردیں اس ارادے سے وہ غار میں پہنچے مگر حذیفہ و عمار کو دیکھ کر بھاگ گئے۔حضور نے جناب حذیفہ سے پوچھا کہ کیا تم ان لوگوں کے نام جانتے ہو عرض کیا کہ نہیں فرمایا ہم جانتے ہیں تم کو ان کے نام بتائیں گئے ان سے دو توبہ کرلیں گے اور بارہ دوزخی ہیں یہاں یہ واقعہ مذکور ہے بعد میں حضور انور نے جناب حذیفہ کو ان کے نام بتائے تابعین میں اکثر لوگ حضرت حذیفہ سے ان بارہ کے نام پوچھا کرتے تھے۔(مرقات)
۲
؎یعنی ان میں سے آٹھ منافق کفر پر مریں گے جنت میں ہرگز نہ جاسکیں گے۔اس فرمان کا ماخذ قرآن مجید کی یہ آیت ہے"وَلَا یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ"یہ ہے حضور انور کا علم غیب کہ لوگوں کی موت اس کی کیفیت سعادت شقاوت سے خبردار ہیں حالانکہ یہ چیزیں علوم خمسہ سے ہیں۔
۳
؎دبیلہتصغیر ہےدبلۃکی،دبلہاندرون جسم میں ایک پھوڑا ہوتا ہے جو اندر ہی پھوٹ جاتا ہے آدمی مرجاتا ہے اسے فارسی میں عرسلک کہتے ہیں غالباٍ یہ کینسر پھوڑا ہے۔جسے سرطان بھی کہا جاتا ہے،بعض شارحین نے کہ فرمایا کہ یہ طاعون کی گلٹی ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔اس پھوڑے میں اس غضب کی سوزش اور بدبو ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ اسی لیے حضرت حذیفہ نے دبیلہ کی تفسیرسراج من نارسے کی یعنی اس پھوڑے سے بیمار کو ایسی سوزش وجلن ہوتی ہے جیسے اس کے جسم میں آگ کا شعلہ بھڑکا ہوا ہے۔خلاصہ فرمان یہ ہے کہ ان آٹھ منافقوں کو دنیا میں یہ عذاب ہوگا کہ ان کی موت ایسی مصیبت اور ذلت و خواری سے ہوگی،اخروی عذاب یہ ہے کہ وہ کفر پر مریں گے ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے،دیکھو حضور انور کا علم کہ حضور کو ہرشخص کی دنیا و دین دونوں کی خبر ہے نبی کے معنی ہیں خبردار۔
۴
؎یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں تھیں ہم نے وہاں بیان کیں کہ وہاں کے مناسب ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5917