- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1634
باب : میت کے غسل اور کفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1634
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهٗ“ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذٰلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا اَذَنَّاهٗ فَأَلْقَى اليْنَا حَقْوَهٗ وَقَالَ: “أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ” وَفِي رِوَايَةٍ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ". وَقَالَتْ فَضَفَّرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ فَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن أم عطية قالت: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته“ فقال: اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الآخرة كافورا أو شيئا من كافور فإذا فرغتن فآذنني فلما فرغنا اذناه فألقى الينا حقوه وقال: “أشعرنها إياه” وفي رواية: " اغسلنها وترا: ثلاثا أو خمسا أو سبعا وابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها ". وقالت فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فألقيناها خلفها(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں ہم پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۲؎تو فرمایا کہ انہیں تین بار یا پانچ بار اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری سے غسل دو۳؎آخر میں کافور(یا فرمایا کچھ کافور)ڈال دو۴؎جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند شریف پھینکا اور فرمایا کہ اسے ان کے کفن کے نیچے رکھ دو ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں طاق تین یا پانچ یا سات بارغسل دو اور داہنی طرف اور اعضائے وضو سے ابتداءکرو ۶؎فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کے تین حصے کئے جنہیں ان کے پیچھے ڈالا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کانام نسیبہ بنت کعب ہے،انصاریہ ہیں،اکثرحضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ غزوؤں میں شریک رہیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھی۔۲؎یہ صاحبزادی حضرت زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم زوجہ ابوالعاص ابن ربیع ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی تمام اولاد میں بڑی تھیں، ۸ھ میں وفات پائی،بعض نے فرمایا کہ امّ کلثوم زوجہ حضرت عثمان تھیں جن کی وفات ۹ھ میں ہوئی مگر قول اول قوی ہے۔۳؎اس طرح کہ بیری کے پتے پانی میں جوش دے لوکیونکہ بیری سے میل خوب کٹتا ہے،جوئیں وغیرہ صاف ہوتی ہیں اور اس سے میت کا بدن جلد بگڑتا نہیں۔تین بارغسل دینا سنت ہے،سات بار تک جائز اور بلاوجہ اس سے زیادہ مکروہ۔بیری کا استعمال پہلی بار میں سنت ہے،باقی میں جائز۔خیال رہے کہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی نہیں۔۴؎یعنی آخری بار جو پانی ان پر بہاؤ اس میں کچھ کافور ملا ہو کیونکہ یہ بہترین خوشبو ہے،اس سےکیڑے مکوڑے جسم کے قریب نہیں آتے۔جمہور علماءیہی فرماتےہیں کہ کافور آخری پانی میں ملایا جائے،بعض نے فرمایا کہ اسے خوشبوؤں میں شامل کیا جائے۔بہتر یہ ہے کہ دونوں جگہ استعمال کیا جائے۔۵؎شعار وہ کپڑا کہلاتا ہے جو جسم سے ملا رہے،شعریعنی بالوں سے ملا ہوا،دثاراوپر والےکپڑے کو یعنی میرا تہبند شریف ان کے جسم سے ملا ہوا رکھو اورکفن اوپر۔یہ تہبند کفن میں شمار نہ تھا بلکہ برکت اور قبر کی مشکلات حل کرنے کے لیے رکھا گیا۔اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگوں کے بال،ناخن،ان کے استعمال کے کپڑے تبرک ہیں جن سے دنیا،قبر و آخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں،قرآن شریف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیض کی برکت سے یعقوب علیہ السلام کی نابینا آنکھیں روشن ہوگئیں۔احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت امیرمعاویہ،عمرو ابن عاص و دیگرصحابہ کرام نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے ناخن،بال وتہبند شریف اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کے لیے محفوظ رکھے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اور قرآنی آیت یا دعا کسی کپڑے یا کاغذ پرلکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرنا جائز بلکہ سنت ہے۔تیسرے یہ کہ ان چیزوں کے متعلق یہ خیال نہ کیا جائے کہ جب میت پھولے پھٹے گی تو ان کی بے حرمتی ہوگی،دیکھو سورۂ فاتحہ لکھ کر دھوکر بیمار کوپلاتے ہیں،یونہی آبِ زمزم برکت کے لیے پیتے ہیں حالانکہ پانی پیٹ میں پہنچ کر کیا بنتا ہے سب کو معلوم ہے۔کفنی الفی لکھنے اورتبرکات کفن میں رکھنے کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔۶؎یعنی پہلے میت کو وضو کراؤ پھر اس طرح غسل دو کہ اولًا داہنا حصہ دھوؤ پھر بایاں،یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اگر غسال انگلی پر کپڑا لپیٹ کر تر کرکے اس کے دانتوں اورنتھنوں پرپھیر دے تو مستحب ہے۔۷؎حضرت ام عطیہ کا یہ عمل اپنی رائے سے ہوگا کہ عمومًا عورتیں بالوں کے تین حصے کرکے چوٹی بُنتی ہیں جس سے وہ سارے بال پیٹھ کے پیچھے رہتے ہیں۔سنت یہ ہے کہ میت عورت کے بال کے دو حصے کیے جائیں ایک حصہ داہنی طرف سے دوسرا بائیں سے سینہ پر ڈال دیا جائے،سارے بالوں کا پیچھے رہنا مسنون نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1634