Main Icon

باب : میت کے غسل اور کفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1634

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهٗ“ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذٰلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا اَذَنَّاهٗ فَأَلْقَى اليْنَا حَقْوَهٗ وَقَالَ: “أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ” وَفِي رِوَايَةٍ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ". وَقَالَتْ فَضَفَّرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ فَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أم عطية قالت: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته“ فقال: اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الآخرة كافورا أو شيئا من كافور فإذا فرغتن فآذنني فلما فرغنا اذناه فألقى الينا حقوه وقال: “أشعرنها إياه” وفي رواية: " اغسلنها وترا: ثلاثا أو خمسا أو سبعا وابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها ". وقالت فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فألقيناها خلفها(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں ہم پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۲؎تو فرمایا کہ انہیں تین بار یا پانچ بار اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری سے غسل دو۳؎آخر میں کافور(یا فرمایا کچھ کافور)ڈال دو۴؎جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند شریف پھینکا اور فرمایا کہ اسے ان کے کفن کے نیچے رکھ دو ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں طاق تین یا پانچ یا سات بارغسل دو اور داہنی طرف اور اعضائے وضو سے ابتداءکرو ۶؎فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کے تین حصے کئے جنہیں ان کے پیچھے ڈالا ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کانام نسیبہ بنت کعب ہے،انصاریہ ہیں،اکثرحضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ غزوؤں میں شریک رہیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھی۔۲؎یہ صاحبزادی حضرت زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم زوجہ ابوالعاص ابن ربیع ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی تمام اولاد میں بڑی تھیں، ۸ھ میں وفات پائی،بعض نے فرمایا کہ امّ کلثوم زوجہ حضرت عثمان تھیں جن کی وفات ۹ھ میں ہوئی مگر قول اول قوی ہے۔۳؎اس طرح کہ بیری کے پتے پانی میں جوش دے لوکیونکہ بیری سے میل خوب کٹتا ہے،جوئیں وغیرہ صاف ہوتی ہیں اور اس سے میت کا بدن جلد بگڑتا نہیں۔تین بارغسل دینا سنت ہے،سات بار تک جائز اور بلاوجہ اس سے زیادہ مکروہ۔بیری کا استعمال پہلی بار میں سنت ہے،باقی میں جائز۔خیال رہے کہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی نہیں۔۴؎یعنی آخری بار جو پانی ان پر بہاؤ اس میں کچھ کافور ملا ہو کیونکہ یہ بہترین خوشبو ہے،اس سےکیڑے مکوڑے جسم کے قریب نہیں آتے۔جمہور علماءیہی فرماتےہیں کہ کافور آخری پانی میں ملایا جائے،بعض نے فرمایا کہ اسے خوشبوؤں میں شامل کیا جائے۔بہتر یہ ہے کہ دونوں جگہ استعمال کیا جائے۔۵؎شعار وہ کپڑا کہلاتا ہے جو جسم سے ملا رہے،شعریعنی بالوں سے ملا ہوا،دثاراوپر والےکپڑے کو یعنی میرا تہبند شریف ان کے جسم سے ملا ہوا رکھو اورکفن اوپر۔یہ تہبند کفن میں شمار نہ تھا بلکہ برکت اور قبر کی مشکلات حل کرنے کے لیے رکھا گیا۔اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگوں کے بال،ناخن،ان کے استعمال کے کپڑے تبرک ہیں جن سے دنیا،قبر و آخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں،قرآن شریف میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیض کی برکت سے یعقوب علیہ السلام کی نابینا آنکھیں روشن ہوگئیں۔احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت امیرمعاویہ،عمرو ابن عاص و دیگرصحابہ کرام نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے ناخن،بال وتہبند شریف اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کے لیے محفوظ رکھے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اور قرآنی آیت یا دعا کسی کپڑے یا کاغذ پرلکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرنا جائز بلکہ سنت ہے۔تیسرے یہ کہ ان چیزوں کے متعلق یہ خیال نہ کیا جائے کہ جب میت پھولے پھٹے گی تو ان کی بے حرمتی ہوگی،دیکھو سورۂ فاتحہ لکھ کر دھوکر بیمار کوپلاتے ہیں،یونہی آبِ زمزم برکت کے لیے پیتے ہیں حالانکہ پانی پیٹ میں پہنچ کر کیا بنتا ہے سب کو معلوم ہے۔کفنی الفی لکھنے اورتبرکات کفن میں رکھنے کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔۶؎یعنی پہلے میت کو وضو کراؤ پھر اس طرح غسل دو کہ اولًا داہنا حصہ دھوؤ پھر بایاں،یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اگر غسال انگلی پر کپڑا لپیٹ کر تر کرکے اس کے دانتوں اورنتھنوں پرپھیر دے تو مستحب ہے۔۷؎حضرت ام عطیہ کا یہ عمل اپنی رائے سے ہوگا کہ عمومًا عورتیں بالوں کے تین حصے کرکے چوٹی بُنتی ہیں جس سے وہ سارے بال پیٹھ کے پیچھے رہتے ہیں۔سنت یہ ہے کہ میت عورت کے بال کے دو حصے کیے جائیں ایک حصہ داہنی طرف سے دوسرا بائیں سے سینہ پر ڈال دیا جائے،سارے بالوں کا پیچھے رہنا مسنون نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1634