Main Icon

باب : میت کے غسل اور کفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1638

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اَلْبِسُوْا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مَنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَمِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ فَإِنَّهٗ يُنْبِتُ الشِّعْرُ وَيَجْلُوا الْبَصَرَ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم ومن خير أكحالكم الإثمد فإنه ينبت الشعر ويجلوا البصر” . رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سفیدکپڑے پہنوکیونکہ یہ تمہارے تمام کپڑوں سے بہتر ہیں اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو ۱∞؎اور بہتر سرمہ اثمد ہے کہ وہ بال اگاتا ہے نگاہ تیزکرتا ہے۲؎(ابو داؤد،ترمذی)ابن ماجہ نےموتاکمتک روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم استحبابی ہے کہ زندوں اور مُردوں کے لیے سفید کپڑا مستحب ہے ورنہ عورت میت کے لیے ریشمی، سوتی، سرخ، پیلا ہر طرح کا کفن جائز ہے اگرچہ بہتر سفید اور سوتی ہے۔۲؎یہاں سرمہ سے زندوں کا سرمہ مراد ہے کیونکہ مردے کو سرمہ لگانا سنت نہیں، اثمد سرمہ سے مراد سادہ اصفہانی سرمہ ہے یعنی پتھر والا۔حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم روزانہ شب کو سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین سلائی لگاتے تھے، اس سے پلک کے بال بڑھتے ہیں اور آنکھوں میں روشنی ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1638