Main Icon

باب : میت کے غسل اور کفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1637

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهٗ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهٗ فَإِنَّهٗ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مُلَبِّيًا» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ خَبَّابٍ: قَتْلُ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللهُ

وعن عبد الله بن عباس قال: إن رجلا كان مع النبي صلى الله عليه وسلم فوقصته ناقته وهو محرم فمات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا رأسه فإنه يبعث يوم القيمة ملبيا» (متفق عليه) وسنذكر حديث خباب: قتل مصعب بن عمير في باب جامع المناقب إن شاء الله

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عباس فرماتے ہیں ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھا جسے بحالت احرام اس کی اونٹنی نے کچل دیا وہ فوت ہوگیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور اس کے دوکپڑوں ہی میں کفن دو اور نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ سر ڈھکو کہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا اٹھے گا ۱∞؎(مسلم،بخاری)اورہم خباب کی حدیث کہ مصعب ابن عمیرقتل کیےگئےان شاءاللّٰہ تعالٰی"بابجامع المناقب" میں ذکر کریں گے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎احناف کے ہاں یہ حدیث اس میت کی خصوصیات میں سے ہے۔ہرمحرم کا جو اپنے احرام میں فوت ہوجائے یہ حکم نہیں اسے دیگر مُردوں کی طرح ہی کفن دے کر دفن کیا جائے گا اسی لیے حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس ہی کا ذکر فرمایا یہ نہ فرمایا کہ ہر محرم کے ساتھ تم یہی کیاکرناکیونکہ کفن دفن کے احکام کی احادیث عام ہیں ان میں محرم اور غیرمحرم کا فرق نہیں۔۲؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی لیکن ہم نے اسے اس باب کے مناسب نہ سمجھا،لہذا بجائے یہاں کے وہاں لائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1637