Main Icon

باب : میت کے غسل اور کفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1640

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهٗ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ. دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “الْمَيِّتُ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ التِي يَمُوتُ فِيهَا” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي سعيد الخدري أنه لما حضره الموت. دعا بثياب جدد فلبسها ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها” . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ آپ کو جب موت آئی تو آپ نے نئے کپڑے منگائے انہیں پہنا پھر فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میت انہیں کپڑوں میں اٹھے گی جن میں مرے گی ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ نے اس حدیث کو ظاہری معنی پرمحمول کیا جیسے کہ حضرت عدی ابن حاتم نے"الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ"میں سوتی دھاگہ سمجھا تھا حالانکہ وہاں صبح کے نورانی ڈورے مراد ہیں،ایسے ہی اس حدیث میں کپڑوں سے مراد حال اور اعمال ہیں یعنی ایمان و کفر،تقویٰ اور فسق،جس حال میں مرے گا اسی میں قیامت کے دن اٹھے گا،ورنہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سب مردے اپنی قبروں سے ننگے و بے ختنہ اٹھیں گے،رب فرماتا ہے:"کَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیۡدُہٗبعض علماء نے اس کی توجیہ یوں کی کہ میت قبروں سے کپڑوں میں اٹھے گی محشر میں ننگی پہنچے گی لیکن یہ معنی بہت ہی بعید ہیں۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1640