Main Icon

باب : میت کے غسل اور کفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1645

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهٗ فَأَمَرَ بِهٖ فَاُخْرِجَ فَوَضَعَهٗ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهٖ وَأَلْبَسَهٗ قَمِيصَهٗ قَالَ: وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله بن أبي بعدما أدخل حفرته فأمر به فاخرج فوضعه علی ركبتيه فنفث فيه من ريقه وألبسه قميصه قال: وكان كسا عباسا قميصا (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عبد الله ابن ابی کے پاس اس کے غار میں رکھ دیئے جانے کے بعد پہنچے آپ نے حکم دیا وہ نکالا گیا اس کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اس میں اپنا لعاب شریف ڈالا اسے اپنی قمیص پہنچائی ۱∞؎راوی فرماتے ہیں کہ عبد الله نے حضرت عباس کو قمیص پہنائی تھی۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ میت کو برکت کے لیے بزرگوں کو لعاب ڈالنا،اسے بزرگوں کاکپڑا دینا سنت ہے اگرچہ کافر و منافق اس سے فائدہ نہ حاصل کرسکیں،مگر بادل تو ہر اچھی بری،پاک و گندی زمین پر برستا ہے آگے زمین کی تقدیر کہ بارش سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے،لہذا اس حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہوتاہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم عبد الله ابن ابی کے نفاق سے بے خبر تھے اور نہ یہ کہ آپ کو خبر نہ تھی کہ کافر کو یہ تبرکات مفید نہیں۔صحیح روایات میں ہے کہ عبد الله ابن ابی منافق کا بیٹا عبید الله سچا مؤمن صحابی تھا،اس کی دلجوئی کے لیے بھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ عمل کیا اورحضور صلی الله علیہ وسلم کے اس رحم خسروانہ کو دیکھ کر بہت سے منافق مخلص مؤمن بن گئے۔دیکھو ہماری کتاب"جاء الحق۲؎اس جگہ مرقاۃ نے دو واقعہ بیان کیے:ایک یہ کہ حضرت عباس جب بدر میں قید ہوکر آئے تو ننگے تھے،عبد الله ابن ابی منافق نے اپنی قمیص آپ کو پہنادی کیونکہ وہ آپ کے ٹھیک تھی کہ وہ بھی لمبا تھا اور آپ بھی دراز قامت،حضورصلی الله علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اس منافق کا احسان میرے چچا پر رہ جائے اس لیے اسے مرنے کے بعد اپنی قمیص دے دی۔دوسرے یہ کہ جب یہ منافق بیمار ہوا تو اس نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو بلایا،حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد الله کو محبت یہودہ جاہ نے ہلاک کردیا،وہ بولا کہ یارسول الله میں نے آپ کو طعنے دینے کے لیے نہیں بلایا ہے بلکہ دعا کے لیے بلایا ہے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ میری نماز جنازہ پڑھائیں اور مجھے اپنی قمیص برکت کے لیے عطا کریں،اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے عبید الله نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو اس کی موت کی خبر دی تب حضورصلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے،حضور صلی الله علیہ وسلم کے اس عمل میں چچا کا بدلہ بھی تھا اور اس کے صحابی بیٹے کی دلداری بھی اور تبلیغ بھی۔چنانچہ اس واقعہ کو دیکھ کر ابن ابی کی قوم کے ایک ہزار آدمی مسلمان ہوئے۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردے کو قبر میں رکھنے کے بعدبھی ضرورتًانکالاجاسکتا ہے۔خیال رہے کہ اس واقعہ کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖتب حضورصلی الله علیہ وسلم نے منافقین کی نماز جنازہ اور دعا سب چھوڑدی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1645