Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1354

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هٰذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِم يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةَ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ لَهٗ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارٰى بَعْدَ غَدٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ» . وَذَكَرَ نَحوَهُ الٰى آخِرِهٖ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا وأوتيناه من بعدهم ثم هذا يومهم الذي فرض عليهم يعني يوم الجمعة فاختلفوا فيه فهدانا الله له والناس لنا فيه تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد»(متفق عليه)وفي رواية لمسلم قال: «نحن الآخرون الأولون يوم القيامة ونحن أول من يدخل الجنة بيد أنهم» . وذكر نحوه الى آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے ۱∞؎بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۲؎پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھےہمیں الله نے اس کی ہدایت دے دی ۳؎اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں ۴؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ ہم پیچھے ہیں اور قیامت کے دن آگے جنت میں ہم ہی پہلے جائیں گے۵؎اور اس کے سواء کہ انہیں الخ۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں اور میری امت یہاں وجود میں پیچھے ہیں کہ ہم آخری نبی اور یہ امت آخری امت اور وہاں شہود میں پہلے ہوں گے کہ سب سے پہلے ہماری امت کا فیصلہ ہوگا اور ساری امتوں سے پہلے یہی جنت میں جائے گی۔۲؎یعنی یہود و نصاریٰ کو توریت و انجیل ہم سے پہلے مل گئی،ہمیں قرآن بعد میں دیا گیا تاکہ قرآن ناسخ ہو وہ کتابیں منسوخ اور ان کے عیوب ہم کو معلوم ہوں اور اس امت کے عیوب پوشیدہ رہیں اس بعدیت میں بھی الله کی رحمت ہے۔۳؎یعنی عظمت والا دن الله تعالٰی کے نزدیک جمعہ ہی ہے۔رب تعالٰی چاہتاتھا کہ میرے بندے یہ دن میری عبادت کے لیئے خالی رکھیں مگر یہودونصاریٰ کو بتایا نہ گیا بلکہ انہیں اختیار دیا گیا کہ تم جو دن چاہو اپنی عبادت کے لیئے چن لو۔یہود نے ہفتہ منتخب کرلیا،نصاریٰ نے اتوار،جمعہ کی طرف کسی کا خیال نہ گیا، الله تعالٰی نے یہ انتخاب ہم پر نہ چھوڑا بلکہ ہمیں خود جمعہ بتادیا گیاتاکہ ہم انتخاب میں غلطی نہ کریں،بلکہ مرقات نے ابن سیرین سے روایت فرمائی کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ کے انصار نے سوچا کہ جب یہودیوں اور عیسائیوں کا عبادت کا دن مقرر ہے تو ہم بھی کوئی دن کیوں نہ مقرر کرلیں۔ا نہوں نے جمعہ کے دن حضرت سعد ابن زرارہ کو امام بنا کر ان کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور اس دن کا نام بجائے عروبہ کے جمعہ رکھا،اس کی تائید ابن خزیمہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ انصار کہتے ہیں سعد ابن زرارہ وہ ہیں جنہوں نے ہجرت سے پہلے ہمیں مدینہ میں جمعہ پڑھایا اس بنا پر یہاںفَھَدٰنَا اللهُکے معنی یہ ہوں گے کہ رب تعالٰی نے میری امت کے خیال کو صحیح فرمایا۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ سوموار کو پہنچے اورجمعرات تک بنی عمرو ابن عوف میں مقیم رہے،پھر وہاں سے جمعہ کے دن بنی سالم ابن عوف میں تشریف لائے اور اس مسجد میں جمعہ پڑھا جو بطن وادی میں ہے۔یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا پہلا جمعہ تھا جو اس مسجد میں ادا ہو ا۔فقیر نے اس کی زیارت کی ہے اور وہاں دو نفل پڑھے ہیں،مسجد قبا کے راستہ میں ہے شکستہ حال ہے۔۴؎یعنی ہفتہ کا پہلا دن جمعہ ہمیں ملا اور دوسرا دن یعنی شنبہ یہودیوں کو اور تیسرا دن اتوار یہ عیسائیوں کو جیسے ہمارا دن ان کے دنوں سے پہلے ہے ایسے ہی ہم بھی ان پر مقدم۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ ہفتہ جمعہ سے شروع ہوتا ہے اور پنج شنبہ پر ختم۔۵؎اس طرح کہ نبیوں سے پہلے جنت میں حضور صلی الله علیہ وسلم جائیں گے اورامتوں میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی امت پہلے جائے گی،پھر دوسری امتیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1354