Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1357

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَزَاد مُسْلِمٌ: «وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ».وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ:«إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِم يُصَلِّي يَسْأَلُ اللهَ خَیْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ»

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن في الجمعة لساعة لا يوافقها عبد مسلم يسأل الله فيها خيرا إلا أعطاه إياه. (متفق عليه)وزاد مسلم: «وهي ساعة خفيفة».وفي رواية لهما قال:«إن في الجمعة لساعة لا يوافقها مسلم قائم يصلي يسأل الله خیرا إلا أعطاه إياه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں ایک گھڑی ہے جسے بندہ مؤمن نہیں پاتا کہ اس میں الله سے خیر مانگے مگر الله اسے وہ ضرور دیتا ہے ۱∞؎(مسلم، بخاری)مسلم نے زیادہ کیا فرمایا وہ چھوٹی سی گھڑی ہے۔اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جمعہ میں ایک ساعت ہے جسے مسلمان نہیں پاتا کہ کھڑا ہو ا نماز پڑھتا ہو الله سے خیر مانگے مگر الله اسے ضرور دیتا ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ ساعت قبولیت دعا کی ہے،رات میں روزانہ وہ ساعت آتی ہے مگر دنوں میں صرف جمعہ کے دن۔یقینًا نہیں معلوم کہ وہ ساعت کب ہے۔غالب یہ ہے کہ دوخطبوں کے درمیان یا مغرب سے کچھ پہلے۔۲؎یعنی اس ساعت میں مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ کافر کی۔نمازی متقی کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ فساق و فجار کی جو جمعہ تک نہ پڑھیں صرف دعاؤں پر ہی زور دیں۔یُصَلِّیمیں اسی جانب اشارہ ہے ورنہ نماز کی حالت میں دعا کیسے مانگی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1357