- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1361
باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1361
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ و فِیْہِ الصَّعْقَۃُ فَأَكْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليَّ» فَقَالُوا: يَا رَسُول الله وَكَيْفَ تَعْرُضُ صَلَاتُنَا عَلَيْك وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلَيتَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ
وعن أوس بن أوس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة و فیہ الصعقۃ فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي» فقالوا: يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت؟ قال: يقولون: بليت قال: «إن الله حرم علی الأرض أجساد الأنبياء» . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي والبيهقي في الدعوات الكبير
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت اوس ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم پیدا ہوئے اور اسی میں وفات دیئے گئے اور اسی میں صور پھونکنا ہے اور اسی میں بے ہوشی ہے لہذا اس دن میں مجھ پر درود زیادہ پڑھو ۱∞؎کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش ہوتے ہیں ۲؎لوگ بولے یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمارے درود آپ پر کیسے پیش ہوں گے آپ تو رمیم ہوچکے ہوں گے(یعنی گلی ہڈی)۳؎فرمایا کہ الله نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کردیئے ۴؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی۔بیہقی نےدعوات کبیرمیں)۵؎
شرح حدیث
۱∞؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس تاریخ اور جس دن میں کوئی ا ہم واقعہ کبھی ہوجائے وہ دن اور تاریخ تاقیامت اہم بن جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس دن اور اس تاریخ میں ان واقعات کی یادگار یں قائم کرنا بہتر ہے۔تیسرے یہ کہ وہ یادگاریں عبادات سے قائم کی جائیں نہ کہ لہو اور کھیل کود سے،یعنی اس دن زیادہ عبادتیں کی جائیں۔میلاد شریف،گیارھویں شریف،عید معراج،عرس بزرگاں کا یہی مقصد ہے اور ان سب کی اصل یہ حدیث اور قرآن شریف کی یہ آیتیں ہیں،دیکھو "جاءالحق"حصہ اول۔۲؎یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل کہ اس میں ایک نیکی کا ثواب ستر ۷۰ گنا ہے اور درود دوسری عبادتوں سے افضل،لہذا افضل دن میں افضل عبادت کروکیونکہ اس دن کا درود خصوصی طور پر ہماری بارگاہ میں پیش ہوتا ہے اور ہم قبول فرماتے ہیں۔خیال رہے کہ ہمیشہ ہی درود شریف حضورصلی الله علیہ وسلم پر پیش ہوتاہے مگر جمعہ کے دن خصوصی پیشی ہوتی ہے،خصوصی قبولیت۔(مرقاۃ)۳؎یہ سوال انکار کے لیئے نہیں بلکہ کیفیت پوچھنے کے لیئے ہے،یعنی آپ کی وفات کے بعد ہمارے درودوں کی پیشی فقط آپ کی روح شریف پر ہوگی یا روح مع الجسم پر جیسے زکریا علیہ السلام نے رب تعالٰی کی طرف سے بیٹے کی خوش خبری پاکر عرض کیا تھا خدایا میرے بیٹا کیسے ہوگا؟میں بوڑھا ہوں،میری بیوی بانجھ۔یہ سوال بھی کیفیت پوچھنے کے لیئے ہے نہ کہ انکارًا،لہذا اس پر روافض کوئی اعتراض نہیں کرسکتے۔خیال رہے کہ اولاد کے اعمال ماں باپ پر پیش ہوتے ہیں،مرید کے شیخ پر مگر وہاں پیشی کبھی کبھی ہوتی ہے وہ بھی فقط روح پر حضور صلی الله علیہ وسلم پر یہ پیشی ہر وقت ہوتی ہے اور روح مع الجسم پر۔(مرقاۃ)۴؎لہذا ان کے اجسام زمین کھا سکتی ہی نہیں اور وہ گلنے سے محفوظ ہیں۔قرآن کریم فرمارہا ہے کہ حضرت سلیمان بعد وفات چھ ماہ یا ایک سال نماز کی ہیئت پر لکڑی کے سہارے کھڑے رہے پھر دیمک نے آپ کی لاٹھی تو کھائی لیکن آپ کا پاؤں شریف نہ کھایا۔اس حدیث کی بنا پربعض علماءفرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام کے زخموں پر جراثیم نہ تھے اور نہ انہوں نے آپ کا گوشت کھایا کوئی اور بیماری تھی کیونکہ پیغمبرکا جسم کیڑا نہیں کھا سکتا۔جنہوں نے یہ واقعہ درست مانا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم بعد وفات ہے،زندگی میں امتحانًایہ ہوسکتا ہے جیسے تلوار جادو اور ڈنگ ان پر اثر کردیتے ہیں۔شیخ نے فرمایا اس جملہ کے معنی ہیں کہ انبیاءعلیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں،وہ زندگی بھی دنیاوی جسمانی اور حقیقی ہے نہ کہ شہیدوں کی طرح صرف معنوی اور روحانی۔اس کی پوری تحقیقجَذْبُ الْقُلُوْباورتَارِیْخ مَدِیْنَہْمیں ملاحظہ کیجئے۔(اشعۃ)اور علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتابشَرْحُ الصُّدُوْرِفِیْ اَحْوَالِ الْقُبُوْرِمیں حیات انبیاء پر بہت ہی نفیس بحث فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرات اپنی قبروں میں فرشتوں کی طرح کھانے پینے سے بے نیاز ہیں مگر نمازیں پڑھتے ہیں،قرآن کی تلاوت کرتے ہیں،ذکر الله کی لذت پاتے ہیں۔(مرقاۃ)۵؎اس روایت کو ابن حبان،ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا،حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے،علی شرط بخاری ہے،نووی کہتے ہیں کہ اس کی اسنادصحیح ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1361