Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1361

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ و فِیْہِ الصَّعْقَۃُ فَأَكْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليَّ» فَقَالُوا: يَا رَسُول الله وَكَيْفَ تَعْرُضُ صَلَاتُنَا عَلَيْك وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلَيتَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

وعن أوس بن أوس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة و فیہ الصعقۃ فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي» فقالوا: يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت؟ قال: يقولون: بليت قال: «إن الله حرم علی الأرض أجساد الأنبياء» . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اوس ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم پیدا ہوئے اور اسی میں وفات دیئے گئے اور اسی میں صور پھونکنا ہے اور اسی میں بے ہوشی ہے لہذا اس دن میں مجھ پر درود زیادہ پڑھو ۱∞؎کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش ہوتے ہیں ۲؎لوگ بولے یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہمارے درود آپ پر کیسے پیش ہوں گے آپ تو رمیم ہوچکے ہوں گے(یعنی گلی ہڈی)۳؎فرمایا کہ الله نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کردیئے ۴؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی۔بیہقی نےدعوات کبیرمیں)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس تاریخ اور جس دن میں کوئی ا ہم واقعہ کبھی ہوجائے وہ دن اور تاریخ تاقیامت اہم بن جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس دن اور اس تاریخ میں ان واقعات کی یادگار یں قائم کرنا بہتر ہے۔تیسرے یہ کہ وہ یادگاریں عبادات سے قائم کی جائیں نہ کہ لہو اور کھیل کود سے،یعنی اس دن زیادہ عبادتیں کی جائیں۔میلاد شریف،گیارھویں شریف،عید معراج،عرس بزرگاں کا یہی مقصد ہے اور ان سب کی اصل یہ حدیث اور قرآن شریف کی یہ آیتیں ہیں،دیکھو "جاءالحق"حصہ اول۔۲؎یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل کہ اس میں ایک نیکی کا ثواب ستر ۷۰ گنا ہے اور درود دوسری عبادتوں سے افضل،لہذا افضل دن میں افضل عبادت کروکیونکہ اس دن کا درود خصوصی طور پر ہماری بارگاہ میں پیش ہوتا ہے اور ہم قبول فرماتے ہیں۔خیال رہے کہ ہمیشہ ہی درود شریف حضورصلی الله علیہ وسلم پر پیش ہوتاہے مگر جمعہ کے دن خصوصی پیشی ہوتی ہے،خصوصی قبولیت۔(مرقاۃ)۳؎یہ سوال انکار کے لیئے نہیں بلکہ کیفیت پوچھنے کے لیئے ہے،یعنی آپ کی وفات کے بعد ہمارے درودوں کی پیشی فقط آپ کی روح شریف پر ہوگی یا روح مع الجسم پر جیسے زکریا علیہ السلام نے رب تعالٰی کی طرف سے بیٹے کی خوش خبری پاکر عرض کیا تھا خدایا میرے بیٹا کیسے ہوگا؟میں بوڑھا ہوں،میری بیوی بانجھ۔یہ سوال بھی کیفیت پوچھنے کے لیئے ہے نہ کہ انکارًا،لہذا اس پر روافض کوئی اعتراض نہیں کرسکتے۔خیال رہے کہ اولاد کے اعمال ماں باپ پر پیش ہوتے ہیں،مرید کے شیخ پر مگر وہاں پیشی کبھی کبھی ہوتی ہے وہ بھی فقط روح پر حضور صلی الله علیہ وسلم پر یہ پیشی ہر وقت ہوتی ہے اور روح مع الجسم پر۔(مرقاۃ)۴؎لہذا ان کے اجسام زمین کھا سکتی ہی نہیں اور وہ گلنے سے محفوظ ہیں۔قرآن کریم فرمارہا ہے کہ حضرت سلیمان بعد وفات چھ ماہ یا ایک سال نماز کی ہیئت پر لکڑی کے سہارے کھڑے رہے پھر دیمک نے آپ کی لاٹھی تو کھائی لیکن آپ کا پاؤں شریف نہ کھایا۔اس حدیث کی بنا پربعض علماءفرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام کے زخموں پر جراثیم نہ تھے اور نہ انہوں نے آپ کا گوشت کھایا کوئی اور بیماری تھی کیونکہ پیغمبرکا جسم کیڑا نہیں کھا سکتا۔جنہوں نے یہ واقعہ درست مانا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم بعد وفات ہے،زندگی میں امتحانًایہ ہوسکتا ہے جیسے تلوار جادو اور ڈنگ ان پر اثر کردیتے ہیں۔شیخ نے فرمایا اس جملہ کے معنی ہیں کہ انبیاءعلیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں،وہ زندگی بھی دنیاوی جسمانی اور حقیقی ہے نہ کہ شہیدوں کی طرح صرف معنوی اور روحانی۔اس کی پوری تحقیقجَذْبُ الْقُلُوْباورتَارِیْخ مَدِیْنَہْمیں ملاحظہ کیجئے۔(اشعۃ)اور علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتابشَرْحُ الصُّدُوْرِفِیْ اَحْوَالِ الْقُبُوْرِمیں حیات انبیاء پر بہت ہی نفیس بحث فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرات اپنی قبروں میں فرشتوں کی طرح کھانے پینے سے بے نیاز ہیں مگر نمازیں پڑھتے ہیں،قرآن کی تلاوت کرتے ہیں،ذکر الله کی لذت پاتے ہیں۔(مرقاۃ)۵؎اس روایت کو ابن حبان،ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا،حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے،علی شرط بخاری ہے،نووی کہتے ہیں کہ اس کی اسنادصحیح ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1361