Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1368

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ قَرَأَ: (اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ)الْآيَةَ وَعِنْدَهٗ يَهُودِيٌّ فَقَالَ: لَوْ نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيْدَيْنِ فِي يَوْم جُمُعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عباس أنه قرأ: (اليوم أكملت لكم دينكم)الآية وعنده يهودي فقال: لو نزلت هذه الآية علينا لاتخذناها عيدا فقال ابن عباس : فإنها نزلت في يوم عيدين في يوم جمعة ويوم عرفة. رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی "اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ"الایۃآپ کے پاس ایک یہودی تھا وہ بولا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیت دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہودی نے یہ اعتراض کیا کہ مسلمان ناقدرے ہیں اور ہم قدر دان ہیں کہ ان کے قرآن میں ایسی عظیم الشان آیت ہے جس میں اسلام کے مکمل اور غیرمنسوخ ہونے کی خبر دی گئی،لیکن انہوں نے اس کے نزول پرکوئی خوشی نہ منائی،ہم ایسے قدر دان ہیں کہ اگر یہ آیت ہماری توریت میں ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن تا قیامت عید مناتے۔آپ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ بے وقوف جس دن یہ آیت اتری ہے اس دن قدرتی طور پر اسلام کی دو عیدیں جمع تھیں۔عرفہ کا دن وہ عید اور جمعہ بھی عید۔خیال رہے کہ یہ آیت حج اکبر کے دن عرفات کے میدان میں حضور صلی الله علیہ وسلم پر اتری۔اس سے معلوم ہوا کہ جن تاریخوں میں الله کی نعمت ملے انہیں عید بنانا شرعًا اچھا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ سوال کرنے والے حضرت کعب احبار اور ان کی جماعت تھی جنہوں نے قبول اسلام سے پہلے یہ سوال کیا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1368