- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1366
باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1366
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهٗ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ المَلَائِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهٗ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْهَا» قَالَ: قُلْتُ: وَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ:«إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللهِ حَيٌّ يُرْزَقُ».رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة فإنه مشهود تشهده الملائكة وإن أحدا لم يصل علي إلا عرضت علي صلاته حتى يفرغ منها» قال: قلت: و بعد الموت؟ قال:«إن الله حرم علی الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء فنبي الله حي يرزق».رواه ابن ماجه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھ پر جمعہ کے دن درود زیادہ پڑھو کیونکہ یہ حاضری کا دن ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱∞؎اور مجھ پرکوئی درود نہیں پڑھتا مگر اس کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے حتی کہ اس سے فارغ ہوجائے ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کیا موت کے بعد بھی فرمایا کہ الله نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کردیا ہے ۳؎لہذ الله کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتےہیں ۴؎(ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اس دن میں رحمت اور برکت کے فرشتے اترتے ہیں اور مسلمانوں کے گھروں،ان کی مجلسوں میں پہنچتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوں اور قیامت میں ان کے ایمان اور تقویٰ کی گواہی دیں۔۲؎یعنی یہ نہیں ہوتا کہ درود پہنچانے والا فرشتہ سارے درودوں کا تھیلا ایک دم حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس پہنچا ئے بلکہ اگر کوئی سو بار درود شریف پڑھے تو یہ فرشتہ سو بار اس کے اور گنبدِ خضریٰ کے درمیان چکر لگائے گا اور ہر درود علیحدہ علیحدہ پیش کرے گا۔(مرقاۃ)اس سے اس فرشتے کی قوت رفتارمعلوم ہوئی۔۳؎اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم حیات النبی بیان فرمارہے ہیں،یعنی انبیاء بعد وفات زندہ ہی رہتے ہیں لہذا تمہارے درود مجھ پر جیسے اب پیش ہورہے ہیں پھربھی پیش ہوتے رہیں گے۔یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اولیاء الله مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں اسی لیئے ان کی موت کو انتقال یا وفات کہتے ہیں اور ان کی موت کے دن کو عرس،کہ وہ دولہا کی طرح یہاں سے وہاں منتقل ہوجاتے ہیں۔ہم پہلےعرض کرچکے ہیں کہ نبی کے جسم کو نہ مٹی کھا سکتی ہے ہے نہ کوئی جانور۔یعقوب علیہ السلام کا فرمانا میں ڈرتا ہوں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا جائے گا ظاہر یہ ہے کہ وہاں بھیڑئے سے مراد خود ان کے بھائی ہیں ورنہ پیغمبر کےجسم کو مٹی نہیں کھاتی۔۴؎ظاہر یہ ہے کہ یہ فرمان بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کا ہی ہے اور نبی سے مراد جنس نبی ہیں۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں،نمازیں پڑھتے ہیں۔امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ حضرات بعد وفات مختلف وقتوں میں مختلف جگہ تشریف فرماتے ہیں یہ عقلًا نقلًا ہرطرح ثابت ہے۔(۱)رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ"یعنی اے محبوب!اپنے سے پہلے انبیاء سے یہ مسئلہ پوچھو۔معلوم ہوا کہ گزشتہ انبیاءحضورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ ہیں کہ آپ ان سے بات چیت و سوال و جواب بھی کر سکتے ہیں۔(۲)اور فرمایا ہے:"وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزْوٰجَہٗ مِنۡۢ بَعْدِہٖۤ اَبَدًا"۔حضورصلی الله علیہ وسلم کی بیویوں سے ان کی وفات کے بعد کبھی نکاح نہ کرو۔اس آیت نے بتایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی بیویاں بدستور ان کے نکاح میں رہتی ہیں بیوہ نہیں ہوتیں،ورنہاَزْوٰجَہٗنہ فرمایا جاتا،نیز ان سے نکاح کی حرمت ماں ہونے کی وجہ سے نہیں وہ بیویاں احترام میں مائیں ہیں نہ کہ احکام میں ورنہ ان کی میراث امت کو ملتی۔ان کی اولاد سے نکاح حرام ہوتا ہے یہ آیت حیات النبی کی کھلی دلیل ہے۔(۳)شب معراج حضور صلی الله علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ ا لسلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔جب سرکار بیت المقدس پہنچے تو انہیں اور سارے پیغمبروں کو وہاں نماز کا منتظر پایا اور پھر جب آسمانوں پر تشریف لے گئے تو چوتھے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام کو اور مختلف آسمانوں پر دیگر انبیاء کو اپنا منتظر دیکھا۔ان قرآنی آیات اور احادیث سے پتہ چلا کہ انبیائے کرام بعد وفات زندہ ہوتے ہیں بلکہ ان پر زندوں کے بعض احکام جاری ہوتے ہیں۔(۴)کہ ان کی بیویاں دوسرا نکاح نہیں کر سکتیں۔(۵)ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی۔(۶)حضور صلی الله علیہ وسلم پر ہر نمازی سلام عرض کرتا۔(۷)ہم کلمے میں پڑھتے ہیں محمد رسول الله (محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم الله کے رسول ہیں)اگر وہ زندہ نہ ہوتے تو کہا جاتا کہ الله کے رسول تھے۔غرضکہ اس حدیث کی تائید قرآنی آیات سےبھی ہے اور دیگر عقلی و نقلی دلائل سے بھی۔خیال رہے کہ آیت کریمہ"اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ"اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں موت سے مراد حسی موت ہےجس پر بعض احکام موت کے جاری ہوجاتے ہیں جیسےغسل،کفن،دفن،وغیرہ اور یہاں زندگی سےحقیقی زندگی مراد ہے،نیز وہاں آیات میں موت سے مراد ہے روح کا جسم سے علیحدہ ہوجانا اور یہاں زندگی سے مراد ہے روح کا جسم وغیرہ میں تصرف کرنا،جیسے ہماری سلطانی روح نیند میں جسم سے نکل کر جسم کو زندہ رکھتی ہے یوں ہی ان کی مقامی روح بوقت وفات جسم سے نکل کر بھی زندگی باقی رکھتی ہے۔لہذا نہ تو آیات متعارض ہیں اور نہ حدیث و قرآن میں کچھ تعارض اس لیئے اس آیت میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیئےمیتالگ بولا گیا اور دوسرے کے لیئےمیتونعلیحدہ،اگر حضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات بھی دوسروں کی طرح ہوتی تو یوں فرمایا جاتا "اِنَّكَ وَ اِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ"۔اس حیات کی مفصل تحقیق ہماری"تفسیرنعیمی"پارہ دوم میں دیکھیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم روح ہیں سارا عالم جسم ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم جڑ ہیں سارا عالم درخت ہے،ا گر حضور صلی الله علیہ وسلم فنا ہوگئے ہوتے تو عالَم بھی ختم تھا۔جیسے درخت کی سبز شاخیں جڑ کی زندگی کا پتہ دیتی ہیں اور جسم کی حس و حرکت روح کا پتہ دیتی ہے ایسے عالَم کا قیام و بقا حضور صلی الله علیہ وسلم کی حیات کا پتہ دے رہا ہے۔دیکھو جسم کا سوکھا ہوا عضو سڑتا گلتا نہیں کہ ابھی روح سے وابستہ ہے اگر چہ بے کار ہوگیا ہے،ایسے ہی ہم گنہگاروں پر عذابِ الٰہی نہیں آتا کہ اگرچہ ہم بے کار ہیں مگر دامن مصطفے پاک سے وابستہ ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"۔اگر حضور انور صلی الله علیہ وسلم ہم میں نہ رہے ہوتے تو ہم پر عذاب آجانا چاہیئے تھاہماری بدکار یوں کے سبب۔(۸)حضرت سلیمان کے متعلق رب فرماتا ہے:"مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ" یعنی حضرت سلیمان بعد وفات عصا پر ٹیک لگائے کھڑے رہے بہت عرصہ کے بعد دیمک نے لاٹھی کھائی تب آپ کا جسم زمین پر آیا اسی عرصہ میں نہ جسم بگڑا نہ دیمک نے کھایا۔(۹)وہ شہدا جوحضور صلی الله علیہ وسلم کے غلامانِ غلام ہیں جب ان پر فدا ہوکر زندہ جاوید ہوگئے تو خود حضورصلی الله علیہ وسلم کی زندگی کیسی اہم ہے۔رزق سے مراد رزق حسی ہے یعنی جنتی میوے ان کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں جس سے وہ بہرا مند رہتے ہیں،جب ان کے غلام یعنی شہداء کی روحیں جنت میں پہنچتی ہیں،وہاں کے پھل کھاتی ہیں اور جب مریم کو دنیا میں جنت کے پھل دیئے گئے اور انہوں نے کھائے(قرآن مجید)تو انبیائےکرام خصوصًا سید الانبیاء کے رزق کا کیا پوچھنا۔اصحاب کہف اور ان کا کتا صدہا سال سے سو رہے ہیں،انہیں غیبی رزق بھی برابرپہنچ رہا ہے،سورج ان پر دھوپ نہیں ڈالتا۔دسمبر،جنوری،اور جون و جولائی ان پر سردی گرمی نہیں پہنچاتے،حضرات انبیاء بعد وفات ان سے اعلیٰ حسن والی زندگی رکھتے ہیں۔(۱۰)حضور صلی الله علیہ وسلم پر بعد وفات اپنی ازواج کا نان نفقہ واجب ہے جیسے زندگی شریف میں تھا۔چنانچہ بخاری وغیرہ کتب احادیث میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ ہم کسی کے وارث نہ کوئی ہمارا وارث،ہمارے بعد ہماری ازواج کے نفقہ اور عُمّال کی تنخواہوں سے جو بچے وہ صدقہ ہے۔(۱۱)حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب تک میرے حجرے میں حضور صلی الله علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق دفن رہے میں بے حجاب وہاں جاتی تھی مگر جب سے جناب عمر دفن ہوئے میں بے حجاب جاتے عمر سے شرماتی ہوں،اگر وہ حضرات زندہ نہیں تو یہ شرم کس سے ہے۔(۱۲)بعض اولیاء کے اجسام صدہا برس کے بعد اب بھی درست دیکھے جاتے ہیں۔اگر وہ بالکل مردے ہیں تو جسم گلتا کیوں نہیں۔حیات نبی پر یہ بارہ دلائل ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "درس القرآن"میں دیکھو۔۵؎مرقاۃ نے فرمایا کہ اس کی اسناد نہایت صحیح اورقوی ہے اور یہ حدیث بہت اسنادوں سے مختلف الفاظ میں منقول ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1366