Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1356

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ اِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أدخل الجنة وفيه أخرج منها ولا تقوم الساعة الا في يوم الجمعة» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بہترین وہ دن جس میں سورج نکلے وہ جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے اسی دن جنت میں گئے اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلے بھی بڑے بڑے واقعات اس دن میں ہی ہوئے اور آئندہ نہایت اہم اورسنگین واقعہ وقوع قیامت کا اسی دن ہوگا اس لیئے یہ دن بڑی عظمت والا ہے۔خیال رہے کہ آدم علیہ السلام کا جنت میں جانابھی الله کی رحمت تھی اور وہاں سے تشریف لانا بھی کیونکہ وہاں سیکھنے گئے تھے،یہاں سکھانے اور خلافت کرنے آئے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس دن میں دینی اہم واقعات ہوچکے ہوں وہ دن تاقیامت افضل ہوجاتا ہے اور اس دن میں خوشیاں منانا،عبادتیں کرنا بہتر ہوتا ہے،دیکھو ماہ رمضان و شب قدر اس لیئے افضل ہیں کہ ان میں قرآن شریف نازل ہوا۔مسلمان کاعقیدہ ہے کہ شب ولادت،شب معراج وغیرہ سب افضل راتیں ہیں۔ان میں عبادات کرنا،خوشیاں منانا بہتر ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1356