Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1359

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهٗ فَحَدَّثَنِي عَنْ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهٗ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهٗ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفَيْهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّة ٍإِلَّا وَهِيَ مَصِيْخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مُشْفِقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يسْأَلُ الله َ شَيْئًا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذٰلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهٗ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الاَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهٗ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهٗ : قَالَ كَعْب: ذٰلِكَ كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذِبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَهٗ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بهَا.وَلَاْتَضَنَّ عَلَیَّ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتّٰى يُصَلِّيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: بلٰى. قَالَ: فَهُوَ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى أَحْمدُ إِلٰى قَوْلِهٖ: صَدَقَ كَعْبٌ

عن أبي هريرة قال: خرجت إلى الطور فلقيت كعب الأحبار فجلست معه فحدثني عن التوراة وحدثته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان فيما حدثته أن قلت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أهبط وفيه تيب عليه وفيه مات وفيه تقوم الساعة وما من دابة إلا وهي مصيخة يوم الجمعة من حين تصبح حتى تطلع الشمس مشفقا من الساعة إلا الجن والإنس وفيها ساعة لا يصادفها عبد مسلم وهو يصلي يسأل الله شيئا إلا أعطاه إياها. قال كعب: ذلك في كل سنة يوم. فقلت: بل في كل جمعة قال فقرأ كعب التوراة. فقال: صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال أبو هريرة: لقيت عبد الله بن سلام فحدثته بمجلسي مع كعب الاحبار وما حدثته في يوم الجمعة فقلت له : قال كعب: ذلك كل سنة يوم؟ قال عبد الله بن سلام: كذب كعب. فقلت له ثم قرأ كعب التوراة. فقال: بل هي في كل جمعة. فقال عبد الله بن سلام: صدق كعب ثم قال عبد الله بن سلام: قد علمت أية ساعة هي. قال أبو هريرة فقلت: أخبرني بها.ولاتضن علی فقال عبد الله بن سلام: هي آخر ساعة في يوم الجمعة. قال أبو هريرة: فقلت: وكيف تكون آخر ساعة في يوم الجمعة وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يصادفها عبد مسلم وهو يصلي فيها فقال عبد الله بن سلام: ألم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من جلس مجلسا ينتظر الصلاة فهو في صلاة حتى يصلي؟» قال أبو هريرة: فقلت: بلى. قال: فهو ذلك. رواه مالك وأبو داود والترمذي والنسائي وروى أحمد إلى قوله: صدق كعب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں طور کی طرف گیا ۱∞؎تو کعب احبار ۲؎سے ملا ان کے پاس بیٹھا انہوں نے مجھے تورات کی باتیں سنائیں اور میں نے انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیثیں۳؎جو حدیثیں میں نے انہیں سنائیں ان میں یہ بھی تھا کہ میں نے کہا فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بہترین وہ دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے،اسی میں اتارے گئے،اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی،اسی میں وفات پائی،اسی میں قیامت قائم ہوگی۴؎ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۵؎جن و انس کے سواءاور اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے نہیں پاتا کہ الله سے کچھ مانگ لے مگر رب اسے دیتا ہے کعب بولے کہ یہ ہر سال میں ایک بار ہے میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں ہے تو کعب نے توریت پڑھی تو بولے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۶؎ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں عبد الله ابن سلام سے ملا تو میں نے انہیں کعب کے پاس بیٹھنے اور جو کچھ میں نے ان سے جمعہ کے بارے میں گفتگو کی سنائی میں نے کہا کہ کعب بولے یہ ہر سال میں ایک دن ہے تو عبد الله ابن سلام نے فرمایا کہ کعب نے غلط کہا ۷؎تب میں نے ان سے کہا پھر کعب نے توریت پڑھی تو فرمایا بلکہ وہ ہر جمعہ میں ہے تب عبد الله ابن سلام بولے کہ کعب نے سچ کہا ۸؎پھر عبد الله ابن سلام نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی ساعت ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ مجھے بتادیجئے اور بخل نہ کیجئے ۹؎عبد الله ابن سلام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ۱۰؎ابوہریرہ فرماتے ہیں میں بولا کہ وہ جمعہ کی آخری ساعت کیسے ہوسکتی ہے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان بندہ اسے نماز پڑھتے ہوئے پائے ۱۱∞؎عبد الله ابن سلام بولے کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کسی جگہ نماز کے انتظار میں بیٹھے تو وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے کہا ہاں فرمایا وہ یہی ہے ۱۲؎(مالک، ابوداؤد،ترمذی،نسائی)اور احمد نےصدق کعبتک روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ طور سے مراد وہ مشہور طور پہاڑہی ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام رب تعالٰی سے ہم کلام ہوتے تھے۔۲؎آپ کا نام کعب ابن مانع،کنیت ابو اسحاق،قبیلہ حمیر سے ہیں،یہود کے بڑے مشہور عالم تھے،حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے،عہد فارقی میں ایمان لائے اور خلافت عثمانی۳۲ھ ∞مقام حمص میں وفات پائی لہذا آپ تابعین میں سے ہیں۔۳؎صحابہ کرام مؤمنین علمائے بنی اسرائیل سے توریت شریف کی وہ آیات سنا کرتے تھے جو حضور صلی الله علیہ وسلم کی نعت میں ہیں تاکہ ان سے ایمان تازہ اور دل روشن ہو۔جن احادیث میں توریت پڑھنے سے حضرت عمر کو منع فرمایا گیا وہ توریت کی وہ ایات مراد ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں یا اس سے ہدایت لینے کے لیئے پڑھنا مراد ہے،اب ہدایت صرف قرآن و حدیث میں ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔۴؎معلوم ہوا کہ الله تعالٰی نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو قیامت کا علم دیا۔دوسری روایت میں ہے کہ عاشورہ کے دن ہوگی مگر اس کا سنہ بتانے کی اجازت نہ تھی۔۵؎یعنی جمعہ کے دن ہر جانور منتظر ہوتا ہے کہ شاید آج قیامت ہو،جب بخیریت سور ج نکل آتا ہی تب سمجھتا ہے کہ آج قیامت نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جانوروں کوبھی یہ معلوم ہے کہ قیامت جمعہ کو آوے گی اور انہیں ہمارے دنوں کی بہت خبر رہتی ہے کہ آج فلاں دن ہے۔۶؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بگڑی ہوئی توریت میں بھی جمعہ کے فضائل اور اس میں قبولیت کی ساعت کا ذکر تھا مگر حضرت کعب کی یاد نے غلطی کی کہ وہ سمجھے توریت میں یہ ہے کہ سال کے ایک جمعہ میں قبولیت کی ساعت ہوتی ہے،یہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایسی چیزوں کی خبر دی تو جو توریت کے چوٹی کے عالم پر چھپی رہیں اور وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے ایک صحابی نے بتادیں۔۷؎یہاں کذب بمعنی جھوٹ نہیں بلکہ بمعنی بھول جانا یا غلطی کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک عالم کے غلط فتوے کو دوسرا عالم درست کرکے سائل کو بتاسکتا ہے کہ وہ غلط تھا۔۸؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !یہ حضرات بالکل بے نفس تھے انہیں کسی کی ذات سے عناد نہ تھا اصل مسئلے سے بحث تھی۔امام بخاری نے بخاری شریف میں جو امام ابوحنیفہ پرسخت لہجہ میں اعتراضات کیئے ہیں انہیں بھی امام اعظم سے عناد نہ تھا وہ سمجھے کہ یہ مسائل غلط ہیں اور حدیث کے خلاف ہیں اسی لئے اس طرح اعتراضات کرگئے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے لہذا اب ہم امام بخاری کو برا نہیں کہہ سکتے۔۹؎تَضَنَّضَنٌسے بنا،بمعنی بخل،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَاھُوَعَلَی الْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍخیال رہے کہ مال کے بخل سے علم کا بخل زیادہ برا کیونکہ علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں،ہاں یہ ضروری ہے کہ نااہل سے علم کے اسرار چھپاؤ کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے گا۔۱۰؎غالب یہ ہے کہ آپ نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے سن کر یہ فرمایا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ توریت میں دیکھ کر یا اپنے بزرگوں سے سن کر فرمایا ہو مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ آپ کو اسلام لانے کے بعد توریت پر اعتماد نہ رہا تھا۔حضورصلی الله علیہ وسلم کے فرمان پر ایسا جرم کرسکتے تھے۔۱۱∞؎یعنی اس وقت نماز مکروہ ہے کہ نہ فرض جائز نہ نفل اور حضورصلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ اسے نماز پڑھتا ہوا پاتاہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت نماز کا ہے،لہذا آپ کا قول اس حدیث کے مخالف معلوم ہوتا ہے۔۱۲؎یعنی تمہاری حدیث میں نماز سے حقیقی نماز مراد نہیں بلکہ حکمی نماز مراد ہے،چونکہ اس وقت مغرب قریب ہوتی ہے،لوگ مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھتے ہیں تو نماز ہی میں ہوتے ہیں،اب اگر دعا مانگ لیں تو نماز میں بھی ہیں اور دعا بھی مانگ رہے ہیں۔خیال رہے کہ اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ یہ ساعت مغرب کے قریب ہوتی ہے۔بہتر یہ ہے کہ دو خطبوں کے درمیان بھی دعا مانگ لے اور خطبہ اور نماز کے درمیان بھی اور اس وقت بھی۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس ساعت کے بارے میں چالیس قول ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1359