Main Icon

باب : جمعہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1362

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلیٰ يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللهُ لَهٗ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهٗ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسٰى بْنِ عُبَيْدَةَ وَهُوَ يُضَعَّفُ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اليوم الموعود يوم القيامة واليوم المشهود يوم عرفة والشاهد يوم الجمعة وما طلعت الشمس ولا غربت علی يوم أفضل منه فيه ساعة لا يوافقها عبد مؤمن يدعو الله بخير إلا استجاب الله له ولا يستعيذ من شيء إلا أعاذه منه» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب لا يعرف إلا من حديث موسى بن عبيدة وهو يضعف

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ یوم موعود قیامت کا دن ہے اور یوم مشہود عرفے کا دن ہے اور شاہد جمعے کا دن ۱∞؎جمعہ سے بہترکسی دن پر آفتاب طلوع نہیں ہوا ۲؎اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مؤمن الله سے دعا ئے خیر کرتے ہوئے نہیں پاتا مگر الله اسے قبول کرتا ہے اور کسی چیز سے پناہ نہیں مانگتا مگر الله اسے پناہ دیتا ہے ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔موسیٰ ابن عبیدہ کے سوا کسی حدیث سے پہچانی نہ گئی اور وہ ضعیف مانے جاتے ہیں۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سورۂ بروج میں جو فرمایا گیا کہ "وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوۡدِ وَشَاھِدٍ وَّمَشْہُوۡدٍاس میں یہ تین دن مراد ہیں کہ قیامت مومنوں کے وعدوں کا دن ہے اور کافروں کی وعیدوں کا اوربقرعید کی نویں یعنی عرفہ وہ دن ہے جو سب مسلمانوں کو عرفات میں بلاتا ہے اور جمعہ خود مومنوں کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے لہذا عرفہ مشہود ہوا اور جمعہ شاہد۔اس کی اور بہت تفسیریں ہیں جو ہم نے اپنی تفسیر"نورالعرفان"میں بیان کی ہیں،وہاں مطالعہ کیجئے۔۲؎یعنی تمام دنوں سے جمعہ بہتر ہے۔حضرت امام مالک جو فرماتے ہیں کہ سوموار افضل ہے ان کی مراد جزئی فضیلت ہے لہذا ان کا وہ فرمان اس حدیث کے خلاف نہیں،ان کا مطلب یہ ہے کہ دو شنبہ کے طفیل ہمیں جمعہ ملا۔۳؎یہاں مؤمن فرمایا گیا پچھلی احادیث میں مسلم،پتہ لگا کہ یہ دونوں لفظ یہاں ہم معنی ہیں۔۴؎مگر چونکہ اس کوگزشتہ احادیث سے قوت پہنچ گئی لہذا اب یہ حسن لغیرہ ہے،نیز فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بھی قبول ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1362