Main Icon

باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5371

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عِيَاضِ بْنِ حمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: "أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أعُلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حلالٌ،وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ، فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرْتَهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا،وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ"، وَقَالَ: "إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ،وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُريْشًا فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ، وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن عياض بن حمار المجاشعي: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال ذات يوم في خطبته: "ألا إن ربي أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني يومي هذا: كل مال نحلته عبدا حلال،وإني خلقت عبادي حنفاء كلهم، وإنهم أتتهم الشياطين، فاجتالتهم عن دينهم، وحرمت عليهم ما أحللت لهم، وأمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا،وإن الله نظر إلى أهل الأرض فمقتهم عربهم وعجمهم إلا بقايا من أهل الكتاب"، وقال: "إنما بعثتك لأبتليك وأبتلي بك، وأنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء، تقرؤه نائما ويقظان،وإن الله أمرني أن أحرق قريشا فقلت: رب إذا يثلغوا رأسي فيدعوه خبزة، قال: استخرجهم كما أخرجوك، واغزهم نغزك، وأنفق فسننفق عليك، وابعث جيشا نبعث خمسة مثله، وقاتل بمن أطاعك من عصاك". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار مجاشعی سے ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا کہ آگاہ رہو کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ سب سکھاؤں جو مجھے میرے رب نے سکھایا اس دن۲؎جو مال میں کسی بندہ کو دوں وہ حلال ہے۳؎اور میں نے اپنے بندوں کو پیدا کیا کہ وہ سارے برائیوں سے دور تھے۴؎اور ان کے پاس شیاطین آئے تو انہیں دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں ۵؎اور انہیں مشورہ دیا کہ میرا شریک انہیں ٹھہرائیں جس پر میں نے کوئی دلیل نہ اتاری اور الله نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو ان سب عربیوں عجمیوں پر ناراض ہوا سواء بچے کھچے اہل کتاب کے ۶؎اور فرمایا کہ میں نے تم کو بھیجا ہے تاکہ تمہارا امتحان لوں اور تمہارے ذریعہ سے امتحان لوں ۷؎ا ور میں نے تم پر ہر وہ کتاب اتاری جسے پانی نہ دھو سکے۸؎تم سوتے جاگتے پڑھو گے ۹؎اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ قریشی کو جلا ڈالوں ۱۰؎تو میں نے عرض کیا یا رب تب تو وہ میرا سر کچل دیں گے تو اسے روٹی کو چھوڑیں گے ۱۱؎فرمایا تم انہیں نکالو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا۱۲؎تم ان پر جہاد کرو ہم تمہیں سامان دیں گے۱۳؎تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے۱۴؎تم لشکربھیجو ہم پانچ گناہ لشکربھیجیں گے۱۵؎اور اپنے فرمانبرداروں کے ساتھ اپنے نافرمانوں سے جنگ کرو ۱۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مجاشع ایک قبیلہ ہے جو مجاشع ابن دارم کی طرف منسوب ہے،حضرت عیاض اسی قبیلہ سے ہیں،حضور انور کو ان سے بہت ہی محبت تھی،انہوں نے ایک بار بحالت کفر حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا حضور نے قبول نہ فرمایا پھر بعد اسلام ہدیہ بھیجا تو قبول فرمالیا،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،آخر میں بصرہ میں قیام رہا۔(اشعہ)
۲
؎یعنی رب تعالٰی نے مجھے جو کچھ آج سکھایا ہے میں وہ تم کو سکھاؤں۔آج کے سکھانے سے مراد ہے کہ آج کے بھیجے ہوئے احکام شرعیہ ورنہ حضور کو وہ باتیں بھی سکھائی گئی ہیں جو صرف حضور کے لیے ہیں ہم کو انکی تعلیم ممنوع ہے۔
۳
؎یعنی میرا دیا ہوا ہر مال میرے بندوں کو حلال ہے کوئی بندہ اسے بغیر دلیل حرام نہ کہے۔اس میں مشرکین عرب کی تردید ہے جو بلا دلیل بحیرہ سائبہ،وصیلہ وغیرہ جانوروں کو حرام کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں حلال ہونا ہے،جو ممنوع نہ ہو وہ حلال ہے۔اس سے وہابیوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو بلا دلیل حرام کا فتویٰ دیدیتے ہیں ختم کا کھانا حرام ہے،گیارھویں کی شیرنی حرام۔نعوذ بالله!۴؎یعنی میں نے انسانوں کو دین پر پیدا فرمایا،وہقالوا بلٰیوالے عہد پر پیدا ہوئے،پیدائش کے وقت کوئی کافر مشرک نہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا
۵
؎یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز حرام ہے جیسے مشرکین عرب کے دل میں ڈال دیا کہ بحیرہ جانور حرام ہیں یا بعض جاہلوں کے دل میں ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز حرام ہے جیسے مشرکین عرب کے دل میں ڈال دیا کہ بحیرہ اور سائبہ جانور حرام ہے یا بعض جاہلوں کے دل میں ڈال دیا کہ گیارھویں عرس کا کھانا حرام ہے۔حرام کے لیے خاص ممانعت کی دلیل چاہیے،جس چیز کا شریعت میں ذکر ہی نہ ہو وہ حلال ہے۔
۶
؎مقتبروزننصرماضی سے بنا ہےمقتٌسے بمعنی ناراض یعنی الله تعالٰی سارے عربیوں عجمیوں پر ناراض ہوا کہ وہ سب کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے تھے،ہاں کچھ اہل کتاب جو اپنے اصل دین پر قائم رہے تھے مؤمن موحد تھے،ان سے راضی ہوا اور انہیں حضور پر ایمان لانے کی توفیق دے دی۔
۷
؎یعنی اے میرے محبوب ہم نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اس میں آپ کی بھی آزمائش ہے تبلیغ سے اور لوگوں کی آزمائش ہے قبول کرنے سے،آپ پرتبلیغ فرض ہے لوگوں پر آپ کی بات قبول کرنا ضروری ہے۔
۸
؎یعنی وہ کتاب نہ تو منسوخ ہوگی نہ کسی کے بدلنے سے بدل جاوے گی،یہ مطلب نہیں کہ قلمی قرآن شریف پانی سے دھلتا نہیں یا آگ سے جلتا نہیں یہاں یہ دھلنا جلنا مراد نہیں۔
۹
؎یعنی ہم تمہارے سینہ میں قرآن اس طرح محفوظ کردیں گے کہ آپ اسے بے تکلف سوتے جاگتے پڑھیں گے نہ بھولیں گے نہ اٹکیں گے۔
۱۰
؎جلانے سے مراد ہے ہلاک کرنا۔مطلب یہ ہے کہ مشرکین عرب کے لیے جزیہ نہیں ان کے لیے یا اسلام ہے یا قتل لہذا حدیث واضح ہے۔
۱۱
؎یعنی اے مولٰی میں تو اکیلا ہوں کفار بہت ہیں،میں اکیلا انہیں کیسے قتل کرسکتا ہوں وہ ہی مجھے ہلاک کردیں گے۔
۱۲
؎یعنی کفار قریش کو ان کا وطن چھوڑنے پر مجبورکرو،انہیں دیس نکالا دو کیونکہ انہوں نے آپ کو مکہ معظمہ چھوڑنے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔خیال رہے کہ اس فرمان پر عمل کا موقعہ ہی نہ آیا کیونکہ حضور کو مکہ معظمہ سے نکالنے والے قریشی کچھ تھوڑے جہادوں میں قتل ہوگئے باقی تمام کے تمام مسلمان ہوگئے،کسی کو دیس نکالا دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی لہذا حدیث واضح ہے بلکہ عکرمہ ابن ابوجہل فتح مکہ کے دن مکہ چھوڑکر یمن بھاگ گئے تھے، حضور نے انہیں امن دے کر واپس بلالیا وہ مسلمان ہوگئے۔
۱۳
؎اس عبارت میںاغز نصر ینصرسے ہے بمعنی جہاد کرنا،نغزكباب افعال سے ہے بمعنی سامان جہاد دینا،اس کا مصدراغزاءہے یعنی ہم تم کو قوت جہاد جاں نثاری غازی عطا فرمائیں گے،الله تعالٰی نے اپنا یہ وعدہ پورا فرما دیا۔
۱۴
؎حق یہ ہے کہ یہاں خرچ سے مراد ہر قسم کا خرچ ہے یعنی اے محبوب آپ جہاد میں اپنے غلاموں پر تاقیامت اپنے در کے نوکروں چاکروں پر خوب خرچ کیے جاؤ،ہم تم کو دیئے جائیں گے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا؎ہر تو اوباشد تو برا تا ابدیہ سلسلہ ہو
رب تعالٰی فرماتاہے:"
وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"الله نے آپ کو بڑا عیالدار پایا تو تم کو ایسا غنی کردیا کہ تم اس جیسے ہزاروں عالم پال لو گے۔(بخاری شریف کتاب التفسیر)آج بھی سارے علماء صوفیاء اولیاء حضور کے دروازے سے ہی پل رہے ہیں،سارا عالم حضور کے خوان کرم سے کھا پی رہا ہے۔؎آسمان خوان زمین خوان زمانہ مہمان صاحب خانہ لقب کس کا تیرا تیرا
۱۵
؎یعنی اگر تم کو ضرورت ہوگی تو ہم جہادوں میں انسانوں سے پنج گنا فرشتے بھیجیں گے،بدر میں پانچ ہزار فرشتے اترے،مسلمانوں کے شانہ بشانہ کفار سے لڑے ورنہ ہلاک کرنے کے لیے تو ایک فرشتہ ہی کافی تھا۔
۱۶
؎یعنی صحابہ کو لےکر کفار عرب سے جنگ کرو یا تا قیامت اپنی امت کو لےکر کفار سے جنگ کرتے رہو۔اب بھی بہت جہادوں میں حضور مع صحابہ کرام شرکت فرماتے ہیں،چھ ستمبر ۱۹۶۵ءمیں جو ہندوستان پاکستان کی سترہ روزہ جنگ ہوئی اس میں اولیاء الله صحابہ کرام بلکہ خود حضور صلی الله علیہ و سلم بہ نفس نفیس تشریف فرما تھے،دمشق میں حضرت بلال قبر میں اذان دے رہے تھے کہحی علی الجہاد، لوگوں نے یہ واقعات دیکھے اور وہ اذان سنی اسی کی برکت تھی الله نے پاکستان کو پنج گنا طاقت پر فتح بخشی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5371