باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5371
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: "أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أعُلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حلالٌ،وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ، فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرْتَهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا،وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ"، وَقَالَ: "إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ،وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُريْشًا فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ، وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عن عياض بن حمار المجاشعي: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال ذات يوم في خطبته: "ألا إن ربي أمرني أن أعلمكم ما جهلتم مما علمني يومي هذا: كل مال نحلته عبدا حلال،وإني خلقت عبادي حنفاء كلهم، وإنهم أتتهم الشياطين، فاجتالتهم عن دينهم، وحرمت عليهم ما أحللت لهم، وأمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا،وإن الله نظر إلى أهل الأرض فمقتهم عربهم وعجمهم إلا بقايا من أهل الكتاب"، وقال: "إنما بعثتك لأبتليك وأبتلي بك، وأنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء، تقرؤه نائما ويقظان،وإن الله أمرني أن أحرق قريشا فقلت: رب إذا يثلغوا رأسي فيدعوه خبزة، قال: استخرجهم كما أخرجوك، واغزهم نغزك، وأنفق فسننفق عليك، وابعث جيشا نبعث خمسة مثله، وقاتل بمن أطاعك من عصاك". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار مجاشعی سے ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا کہ آگاہ رہو کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ سب سکھاؤں جو مجھے میرے رب نے سکھایا اس دن۲؎جو مال میں کسی بندہ کو دوں وہ حلال ہے۳؎اور میں نے اپنے بندوں کو پیدا کیا کہ وہ سارے برائیوں سے دور تھے۴؎اور ان کے پاس شیاطین آئے تو انہیں دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں ۵؎اور انہیں مشورہ دیا کہ میرا شریک انہیں ٹھہرائیں جس پر میں نے کوئی دلیل نہ اتاری اور الله نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو ان سب عربیوں عجمیوں پر ناراض ہوا سواء بچے کھچے اہل کتاب کے ۶؎اور فرمایا کہ میں نے تم کو بھیجا ہے تاکہ تمہارا امتحان لوں اور تمہارے ذریعہ سے امتحان لوں ۷؎ا ور میں نے تم پر ہر وہ کتاب اتاری جسے پانی نہ دھو سکے۸؎تم سوتے جاگتے پڑھو گے ۹؎اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ قریشی کو جلا ڈالوں ۱۰؎تو میں نے عرض کیا یا رب تب تو وہ میرا سر کچل دیں گے تو اسے روٹی کو چھوڑیں گے ۱۱؎فرمایا تم انہیں نکالو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا۱۲؎تم ان پر جہاد کرو ہم تمہیں سامان دیں گے۱۳؎تم خرچ کرو ہم تم پر خرچ کریں گے۱۴؎تم لشکربھیجو ہم پانچ گناہ لشکربھیجیں گے۱۵؎اور اپنے فرمانبرداروں کے ساتھ اپنے نافرمانوں سے جنگ کرو ۱۶؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎مجاشع ایک قبیلہ ہے جو مجاشع ابن دارم کی طرف منسوب ہے،حضرت عیاض اسی قبیلہ سے ہیں،حضور انور کو ان سے بہت ہی محبت تھی،انہوں نے ایک بار بحالت کفر حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا حضور نے قبول نہ فرمایا پھر بعد اسلام ہدیہ بھیجا تو قبول فرمالیا،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،آخر میں بصرہ میں قیام رہا۔(اشعہ)
۲؎یعنی رب تعالٰی نے مجھے جو کچھ آج سکھایا ہے میں وہ تم کو سکھاؤں۔آج کے سکھانے سے مراد ہے کہ آج کے بھیجے ہوئے احکام شرعیہ ورنہ حضور کو وہ باتیں بھی سکھائی گئی ہیں جو صرف حضور کے لیے ہیں ہم کو انکی تعلیم ممنوع ہے۔
۳؎یعنی میرا دیا ہوا ہر مال میرے بندوں کو حلال ہے کوئی بندہ اسے بغیر دلیل حرام نہ کہے۔اس میں مشرکین عرب کی تردید ہے جو بلا دلیل بحیرہ سائبہ،وصیلہ وغیرہ جانوروں کو حرام کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں حلال ہونا ہے،جو ممنوع نہ ہو وہ حلال ہے۔اس سے وہابیوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو بلا دلیل حرام کا فتویٰ دیدیتے ہیں ختم کا کھانا حرام ہے،گیارھویں کی شیرنی حرام۔نعوذ بالله!۴؎یعنی میں نے انسانوں کو دین پر پیدا فرمایا،وہقالوا بلٰیوالے عہد پر پیدا ہوئے،پیدائش کے وقت کوئی کافر مشرک نہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا"۔
۵؎یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز حرام ہے جیسے مشرکین عرب کے دل میں ڈال دیا کہ بحیرہ جانور حرام ہیں یا بعض جاہلوں کے دل میں ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز حرام ہے جیسے مشرکین عرب کے دل میں ڈال دیا کہ بحیرہ اور سائبہ جانور حرام ہے یا بعض جاہلوں کے دل میں ڈال دیا کہ گیارھویں عرس کا کھانا حرام ہے۔حرام کے لیے خاص ممانعت کی دلیل چاہیے،جس چیز کا شریعت میں ذکر ہی نہ ہو وہ حلال ہے۔
۶؎مقتبروزننصرماضی سے بنا ہےمقتٌسے بمعنی ناراض یعنی الله تعالٰی سارے عربیوں عجمیوں پر ناراض ہوا کہ وہ سب کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے تھے،ہاں کچھ اہل کتاب جو اپنے اصل دین پر قائم رہے تھے مؤمن موحد تھے،ان سے راضی ہوا اور انہیں حضور پر ایمان لانے کی توفیق دے دی۔
۷؎یعنی اے میرے محبوب ہم نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اس میں آپ کی بھی آزمائش ہے تبلیغ سے اور لوگوں کی آزمائش ہے قبول کرنے سے،آپ پرتبلیغ فرض ہے لوگوں پر آپ کی بات قبول کرنا ضروری ہے۔
۸؎یعنی وہ کتاب نہ تو منسوخ ہوگی نہ کسی کے بدلنے سے بدل جاوے گی،یہ مطلب نہیں کہ قلمی قرآن شریف پانی سے دھلتا نہیں یا آگ سے جلتا نہیں یہاں یہ دھلنا جلنا مراد نہیں۔
۹؎یعنی ہم تمہارے سینہ میں قرآن اس طرح محفوظ کردیں گے کہ آپ اسے بے تکلف سوتے جاگتے پڑھیں گے نہ بھولیں گے نہ اٹکیں گے۔
۱۰؎جلانے سے مراد ہے ہلاک کرنا۔مطلب یہ ہے کہ مشرکین عرب کے لیے جزیہ نہیں ان کے لیے یا اسلام ہے یا قتل لہذا حدیث واضح ہے۔
۱۱؎یعنی اے مولٰی میں تو اکیلا ہوں کفار بہت ہیں،میں اکیلا انہیں کیسے قتل کرسکتا ہوں وہ ہی مجھے ہلاک کردیں گے۔
۱۲؎یعنی کفار قریش کو ان کا وطن چھوڑنے پر مجبورکرو،انہیں دیس نکالا دو کیونکہ انہوں نے آپ کو مکہ معظمہ چھوڑنے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔خیال رہے کہ اس فرمان پر عمل کا موقعہ ہی نہ آیا کیونکہ حضور کو مکہ معظمہ سے نکالنے والے قریشی کچھ تھوڑے جہادوں میں قتل ہوگئے باقی تمام کے تمام مسلمان ہوگئے،کسی کو دیس نکالا دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی لہذا حدیث واضح ہے بلکہ عکرمہ ابن ابوجہل فتح مکہ کے دن مکہ چھوڑکر یمن بھاگ گئے تھے، حضور نے انہیں امن دے کر واپس بلالیا وہ مسلمان ہوگئے۔
۱۳؎اس عبارت میںاغز نصر ینصرسے ہے بمعنی جہاد کرنا،نغزكباب افعال سے ہے بمعنی سامان جہاد دینا،اس کا مصدراغزاءہے یعنی ہم تم کو قوت جہاد جاں نثاری غازی عطا فرمائیں گے،الله تعالٰی نے اپنا یہ وعدہ پورا فرما دیا۔
۱۴؎حق یہ ہے کہ یہاں خرچ سے مراد ہر قسم کا خرچ ہے یعنی اے محبوب آپ جہاد میں اپنے غلاموں پر تاقیامت اپنے در کے نوکروں چاکروں پر خوب خرچ کیے جاؤ،ہم تم کو دیئے جائیں گے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا؎ہر تو اوباشد تو برا تا ابدیہ سلسلہ ہو
رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"الله نے آپ کو بڑا عیالدار پایا تو تم کو ایسا غنی کردیا کہ تم اس جیسے ہزاروں عالم پال لو گے۔(بخاری شریف کتاب التفسیر)آج بھی سارے علماء صوفیاء اولیاء حضور کے دروازے سے ہی پل رہے ہیں،سارا عالم حضور کے خوان کرم سے کھا پی رہا ہے۔؎آسمان خوان زمین خوان زمانہ مہمان صاحب خانہ لقب کس کا تیرا تیرا
۱۵؎یعنی اگر تم کو ضرورت ہوگی تو ہم جہادوں میں انسانوں سے پنج گنا فرشتے بھیجیں گے،بدر میں پانچ ہزار فرشتے اترے،مسلمانوں کے شانہ بشانہ کفار سے لڑے ورنہ ہلاک کرنے کے لیے تو ایک فرشتہ ہی کافی تھا۔
۱۶؎یعنی صحابہ کو لےکر کفار عرب سے جنگ کرو یا تا قیامت اپنی امت کو لےکر کفار سے جنگ کرتے رہو۔اب بھی بہت جہادوں میں حضور مع صحابہ کرام شرکت فرماتے ہیں،چھ ستمبر ۱۹۶۵ءمیں جو ہندوستان پاکستان کی سترہ روزہ جنگ ہوئی اس میں اولیاء الله صحابہ کرام بلکہ خود حضور صلی الله علیہ و سلم بہ نفس نفیس تشریف فرما تھے،دمشق میں حضرت بلال قبر میں اذان دے رہے تھے کہحی علی الجہاد، لوگوں نے یہ واقعات دیکھے اور وہ اذان سنی اسی کی برکت تھی الله نے پاکستان کو پنج گنا طاقت پر فتح بخشی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5371