Main Icon

باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5377

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ -قَالَ زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الرَّاوِي: يَعْنِي الإِسْلَامَ- كَمَا يُكْفَأُ الإِنَاءُ، يَعْنِي الْخَمْرَ"، قِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا ما بين؟ قَالَ: "يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن عائشة قالت: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن أول ما يكفأ -قال زيد بن يحيى الراوي: يعني الإسلام- كما يكفأ الإناء، يعني الخمر"، قيل: فكيف يا رسول الله وقد بين الله فيها ما بين؟ قال: "يسمونها بغير اسمها فيستحلونها". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کوفرماتے سنا کہ شراب پہلی وہ چیز ہے جو انڈیلی جاوے گی ۱؎زید ابن یحیی راوی فرماتے ہیں کہ مراد اسلام ہے۲؎جیسے برتن سے اونڈیلی جاتی ہے یعنی شراب۳؎عرض کیا گیا یارسول الله (صلی اللہ علیہ و سلم)یہ کیسے ہوگا حالانکہ الله تعالٰی نے اس کے بارے میں واضح بیان فرمادیا ہے۴؎فرمایا کہ اس کا نام کچھ اور رکھ لیں گے پھر اسے حلال سمجھ لیں گے ۵؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس وقت مجلس پاک میں شراب کی حرمت کا ذکر ہورہا تھا تو حضور انور نے یہ فرمایا۔انکی یا تو خبر پوشیدہ ہے یا اسم پوشیدہ ہے یعنی یا توان اول،الخ تھا یامایکفاء الخمرتھا یعنی میری امت اسلام کے احکام توڑے گی،ان میں سے سب سے پہلے شراب کا حکم توڑے گی کہ اسے پینے لگے گی بعد میں دوسرے احکام توڑے گی۔(لمعات)
۲
؎راوی اس فرمان کی شرح یوں کررہے ہیں کہ گویا اسلام ایک گھڑا ہے جس میں احکام بھرے ہوئے ہیں،گھڑے کو ٹیڑھا کرو تو اوپر کی چیز پہلے گرتی ہے نیچے کی چیز بعد میں،اسی طرح میری امت پہلے شراب کا حکم نکال پھینکے گی بعد میں دوسرے احکام۔اشعہ میں ہےالاسلامسے پہلےفیپوشیدہ ہے یعنی اسلام میں پہلے شراب پی جاوے گی۔
۳
؎یہ جملہ اس تشبیہ کا تتمہ ہے،یہ بھی راوی کا قول ہے یعنی اسلام میں پہلی کون سی چیز پی جاوے گی،شراب۔ (اشعہ)
۴
؎یعنی تعجب ہے کہ لوگ مسلمان پہلے شراب کا قانون توڑیں گے حالانکہ شراب کے متعلق قرآن و احادیث میں صاف صریح احکام وارد ہیں پھر یہ کیسے جرات کریں گے۔
۵
؎یعنی شراب کو بیئر یا انگریزی میں وسکی کہہ کر پئیں گے،کہیں گے یہ شراب نہیں یہ تو وسکی ہے یا بیئر ہے۔آج بھی بعض لوگ اس نام سے شراب پیتے ہیں،ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے نام بدلنے سے حکم نہیں بدل جاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5377