Main Icon

باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5373

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دَعَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا، فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: "يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ من النَّار، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُم من النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُم من النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ؛ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفَي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: "يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا".

وعن أبي هريرة قال: لما نزلت {وأنذر عشيرتك الأقربين} دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- قريشا فاجتمعوا، فعم وخص، فقال: "يا بني كعب بن لؤي أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني مرة بن كعب أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد شمس أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد مناف أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني هاشم أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد المطلب أنقذوا أنفسكم من النار، يا فاطمة أنقذي نفسك من النار؛ فإني لا أملك لكم من الله شيئا غير أن لكم رحما سأبلها ببلالها". رواه مسلم.
وفي المتفق عليه قال: "يا معشر قريش اشتروا أنفسكم لا أغني عنكم من الله شيئا، يا بني عبد مناف، لا أغني عنكم من الله شيئا، يا عباس بن عبد المطلب لا أغني عنك من الله شيئا، ويا صفية عمة رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا، ويا فاطمة بنت محمد سليني ما شئت من مالي لا أغني عنك من الله شيئا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ ۱؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے قریش کو نداء دی چنانچہ وہ جمع ہوگئے تو حضور نے عام و خاص سے خطاب فرمایا ۲؎ارشاد فرمایا اے بنی کعب بن لوی اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے مرہ ابن کعب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدشمس کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدمناف کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے ہاشم کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدالمطلب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو۳؎اے فاطمہ اپنی جان آگ سے بچالو۴؎کہ میں اکے مقابل تمہارے لیےکسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۵؎سواء اس کے کہ تم سے رشتہ داری ہے جس کی تری کو میں تر رکھوں گا۔اورمسلم،بخاری کی روایت میں ہے کہ کہا اے قریش کے گروہ اپنی جانیں بچالو میں اکے مقابل تم سے کچھ دفع نہیں کرسکتا،اے صفیہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی پھوپھی۶؎میں تم سے الله کے مقابل کچھ بھی دفع نہیں کرسکتا،اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تم جو چاہو مجھ سے میرا مال مانگ لو ۷؎میں تم سے اکے مقابل کچھ دفع نہیں کرسکتا ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎عشیرہ اور اقربین کا فرق ہماری تفسیر میں ملاحظہ فرمانا۔
۲
؎یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم نے اس اجتماع میں عمومی تبلیغ بھی کی اور خصوصی بھی کہ اے فلاں اے فلاں قبیلہ والے لوگو ادھر آؤ ایمان قبول کرو۔معلوم ہواکہ خصوصی تبلیغ بھی سنت ہے،اس کی تفصیل اگلا کلام ہے جب کہ کس خاص شخص یا خاص قوم کے ایمان لانے سے دوسروں کے ایمان کی امید ہو تو اسے خصوصی تبلیغ ضرور کی جاوے،حضور انورنے کفار بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔
۳
؎یہ ہیں حضور کی عمومی تبلیغیں،چونکہ عرب میں قریش بہت عزت والے مانے جاتے تھے اور قریش میں ان مذکورہ خاندانوں کا بڑا وقار تھا اس لیے حضور نے ان خاندانوں کو مخاطب فرماکر تبلیغ فرمائی۔اپنی جانوں کو آگ سے بچانے کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایمان قبول کرلو تاکہ تم نار جہنم سے بچ جاؤ،اس آگ سے بچنے کا ذریعہ ایمان و اطاعت ہے۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کی جاوے کیونکہ اس وقت جناب فاطمہ چھوٹی بچی تھیں، سب لوگوں کے سامنے علانیہ حضرت فاطمہ کو تبلیغ فرمانا لوگوں کو سنانے کے لیے ہے کہ بغیر ایمان قبول کیے نبی کی قرابتداری بلکہ نبی کی اولاد ہونا کافی نہیں۔ کنعان نبی زادہ تھا مگر کفر کی وجہ سے جہنمی ہوگیا۔ایمان کی ضرورت سب کو ہے جیسے کوئی شخص سید ہو یا غیر سید دھوپ ہوا پانی غذا سے مستغنی نہیں،یوں ہی کوئی شخص ایمان قرآن اعمال سے بے نیاز نہیں۔آج اپنے کو اعمال سے بے نیاز ماننے والے غذا پانی ہوا سے بے نیاز بن کر دکھائیں بلکہ مرکر انسان ان چیزوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے مگر حضور کی ضرورت پھربھی رہتی ہے کہ قبر و حشر میں حضور کی غلامی کا سوال ہوتا ہے۔
۵
؎یعنی اے فاطمہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا اور تم آخرت میں سز ا کی مستحق ہوگئیں تو وہ سزا میں تم سے دفع نہیں کرسکتا اور تم عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتیں لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے "وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"کیونکہ اس آیت میں دنیاوی عذاب مراد ہے حضور کی برکت سے کفار پر دنیاوی عذاب نہیں آتا اور یہاں اخروی عذاب مراد ہے اور نہ اس حدیثِ شفاعت کے خلاف ہےشفاعتی لاھل الکبائر من امتیکہ میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کو بھی پہنچے گی کہ وہاں امت کا ذکر ہے یہاں کفار کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے خدمت گار کافر کا عذاب ہلکا ہوسکتا ہے مگر دفع نہیں ہوسکتا۔ ابوطالب کا عذاب بہت ہلکا ہے،ابو لہب کو سوموار کے دن عذاب ہلکا دیا جاتا ہےاور انگلی سے پانی ملتا ہے۔(بخاری شریف کتاب الرضاع)ابوطالب نے خود حضور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت کی اور ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے حضور کو دودھ پلایا،بہرحال یہ حدیث بالکل برحق ہے ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔
۶
؎آپ صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں،حضور کی پھوپھی،زمانہ جاہلیت میں حارث ابن حرب کی بیوی تھیں،حارث کی موت کے بعد عوام ابن خویلد کے نکاح میں آئیں ان سے زبیر ابن عوام پیدا ہوئے،۷۳ تہتر سال عمر پائی،عہد فاروقی میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئی،آپ کی قبر انور زیارت گاہ خلق ہے،فقیر نے زیارت کی ہے،الله پھر نصیب کرے۔
۷
؎الله تعالٰی نے حضور انور کو بی بی خدیجہ کے مال سے غنی فرمادیا تھا،فرمایاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"۔ لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراص نہیں کہ ہجرت سے پہلے حضور انور کے پاس مال نہیں تھا پھر یہ کیسے فرمایا۔خیال رہے کہ حضرت خدیجہ نے حضور انور کو اپنی ذات اپنے مال کا مالک کردیا تھا رضی الله عنہا۔اعلٰی حضرت نے فرمایا؎سیما پہلی ماں کھف امن و امان حق گزار رفاقت پہ لاکھوں سلام
نیز حضور ہجرت سے پہلے تجارت کرتے تھے اوربھی کام کرتے تھے۔
۸
؎اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض ہوچکا۔الله تعالٰی حضور کے نام کی برکت سے حضور کے خدام کے صدقہ سے آفتیں مصیبتیں دفع فرما دیتا ہے،حضور کا نام دافع بلا ہے،یہاں اکے مقابل اخروی عذاب کفار سے دفع فرمانے کی نفی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5373