باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5373
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دَعَا النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا، فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: "يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ من النَّار، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُم من النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُم من النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ؛ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفَي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: "يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا".
وعن أبي هريرة قال: لما نزلت {وأنذر عشيرتك الأقربين} دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- قريشا فاجتمعوا، فعم وخص، فقال: "يا بني كعب بن لؤي أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني مرة بن كعب أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد شمس أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد مناف أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني هاشم أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد المطلب أنقذوا أنفسكم من النار، يا فاطمة أنقذي نفسك من النار؛ فإني لا أملك لكم من الله شيئا غير أن لكم رحما سأبلها ببلالها". رواه مسلم.
وفي المتفق عليه قال: "يا معشر قريش اشتروا أنفسكم لا أغني عنكم من الله شيئا، يا بني عبد مناف، لا أغني عنكم من الله شيئا، يا عباس بن عبد المطلب لا أغني عنك من الله شيئا، ويا صفية عمة رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا، ويا فاطمة بنت محمد سليني ما شئت من مالي لا أغني عنك من الله شيئا".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ ۱؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے قریش کو نداء دی چنانچہ وہ جمع ہوگئے تو حضور نے عام و خاص سے خطاب فرمایا ۲؎ارشاد فرمایا اے بنی کعب بن لوی اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے مرہ ابن کعب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدشمس کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدمناف کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے ہاشم کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدالمطلب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو۳؎اے فاطمہ اپنی جان آگ سے بچالو۴؎کہ میں اﷲکے مقابل تمہارے لیےکسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۵؎سواء اس کے کہ تم سے رشتہ داری ہے جس کی تری کو میں تر رکھوں گا۔اورمسلم،بخاری کی روایت میں ہے کہ کہا اے قریش کے گروہ اپنی جانیں بچالو میں اﷲکے مقابل تم سے کچھ دفع نہیں کرسکتا،اے صفیہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی پھوپھی۶؎میں تم سے الله کے مقابل کچھ بھی دفع نہیں کرسکتا،اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تم جو چاہو مجھ سے میرا مال مانگ لو ۷؎میں تم سے اﷲکے مقابل کچھ دفع نہیں کرسکتا ۸؎
شرح حدیث
۱∞؎عشیرہ اور اقربین کا فرق ہماری تفسیر میں ملاحظہ فرمانا۔
۲؎یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم نے اس اجتماع میں عمومی تبلیغ بھی کی اور خصوصی بھی کہ اے فلاں اے فلاں قبیلہ والے لوگو ادھر آؤ ایمان قبول کرو۔معلوم ہواکہ خصوصی تبلیغ بھی سنت ہے،اس کی تفصیل اگلا کلام ہے جب کہ کس خاص شخص یا خاص قوم کے ایمان لانے سے دوسروں کے ایمان کی امید ہو تو اسے خصوصی تبلیغ ضرور کی جاوے،حضور انورنے کفار بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔
۳؎یہ ہیں حضور کی عمومی تبلیغیں،چونکہ عرب میں قریش بہت عزت والے مانے جاتے تھے اور قریش میں ان مذکورہ خاندانوں کا بڑا وقار تھا اس لیے حضور نے ان خاندانوں کو مخاطب فرماکر تبلیغ فرمائی۔اپنی جانوں کو آگ سے بچانے کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایمان قبول کرلو تاکہ تم نار جہنم سے بچ جاؤ،اس آگ سے بچنے کا ذریعہ ایمان و اطاعت ہے۔
۴؎اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کی جاوے کیونکہ اس وقت جناب فاطمہ چھوٹی بچی تھیں، سب لوگوں کے سامنے علانیہ حضرت فاطمہ کو تبلیغ فرمانا لوگوں کو سنانے کے لیے ہے کہ بغیر ایمان قبول کیے نبی کی قرابتداری بلکہ نبی کی اولاد ہونا کافی نہیں۔ کنعان نبی زادہ تھا مگر کفر کی وجہ سے جہنمی ہوگیا۔ایمان کی ضرورت سب کو ہے جیسے کوئی شخص سید ہو یا غیر سید دھوپ ہوا پانی غذا سے مستغنی نہیں،یوں ہی کوئی شخص ایمان قرآن اعمال سے بے نیاز نہیں۔آج اپنے کو اعمال سے بے نیاز ماننے والے غذا پانی ہوا سے بے نیاز بن کر دکھائیں بلکہ مرکر انسان ان چیزوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے مگر حضور کی ضرورت پھربھی رہتی ہے کہ قبر و حشر میں حضور کی غلامی کا سوال ہوتا ہے۔
۵؎یعنی اے فاطمہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا اور تم آخرت میں سز ا کی مستحق ہوگئیں تو وہ سزا میں تم سے دفع نہیں کرسکتا اور تم عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتیں لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے "وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"کیونکہ اس آیت میں دنیاوی عذاب مراد ہے حضور کی برکت سے کفار پر دنیاوی عذاب نہیں آتا اور یہاں اخروی عذاب مراد ہے اور نہ اس حدیثِ شفاعت کے خلاف ہےشفاعتی لاھل الکبائر من امتیکہ میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کو بھی پہنچے گی کہ وہاں امت کا ذکر ہے یہاں کفار کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے خدمت گار کافر کا عذاب ہلکا ہوسکتا ہے مگر دفع نہیں ہوسکتا۔ ابوطالب کا عذاب بہت ہلکا ہے،ابو لہب کو سوموار کے دن عذاب ہلکا دیا جاتا ہےاور انگلی سے پانی ملتا ہے۔(بخاری شریف کتاب الرضاع)ابوطالب نے خود حضور صلی الله علیہ و سلم کی خدمت کی اور ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے حضور کو دودھ پلایا،بہرحال یہ حدیث بالکل برحق ہے ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔
۶؎آپ صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں،حضور کی پھوپھی،زمانہ جاہلیت میں حارث ابن حرب کی بیوی تھیں،حارث کی موت کے بعد عوام ابن خویلد کے نکاح میں آئیں ان سے زبیر ابن عوام پیدا ہوئے،۷۳ تہتر سال عمر پائی،عہد فاروقی میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئی،آپ کی قبر انور زیارت گاہ خلق ہے،فقیر نے زیارت کی ہے،الله پھر نصیب کرے۔
۷؎الله تعالٰی نے حضور انور کو بی بی خدیجہ کے مال سے غنی فرمادیا تھا،فرمایاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"۔ لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراص نہیں کہ ہجرت سے پہلے حضور انور کے پاس مال نہیں تھا پھر یہ کیسے فرمایا۔خیال رہے کہ حضرت خدیجہ نے حضور انور کو اپنی ذات اپنے مال کا مالک کردیا تھا رضی الله عنہا۔اعلٰی حضرت نے فرمایا؎سیما پہلی ماں کھف امن و امان حق گزار رفاقت پہ لاکھوں سلام
نیز حضور ہجرت سے پہلے تجارت کرتے تھے اوربھی کام کرتے تھے۔
۸؎اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض ہوچکا۔الله تعالٰی حضور کے نام کی برکت سے حضور کے خدام کے صدقہ سے آفتیں مصیبتیں دفع فرما دیتا ہے،حضور کا نام دافع بلا ہے،یہاں اﷲکے مقابل اخروی عذاب کفار سے دفع فرمانے کی نفی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5373