Main Icon

باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5374

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

عن أبي موسى قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"أمتي هذه أمة مرحومة، ليس عليها عذاب في الآخرة، عذابها في الدنيا الفتن والزلازل والقتل". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میری یہ امت رحمت والی ہے ۱؎اس پر آخرت میں عذاب نہیں ۲؎اس کا عذاب دنیا میں ہے فتنے زلزلے اور قتل ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوسرے نبیوں کی امت کے مقابل میری امت پر حق تعالٰی کی رحمت زیادہ ہے،اس کی نیکیاں کم،ثواب زیادہ ہیں۔گناہوں کی معافی کے ذریعے بہت دیئے،بچانے کے بہانے بہت زیادہ ہیں،یہ صدقہ ہے رحمت والے آقا کا؎عرب کے واسطے رحمت عجم کے واسطے رحمت وہ آئے لیکن آئے رحمۃ للعالمین ہوکر
۲
؎یعنی اس امت پر آخرت میں عذاب سخت نہیں یا عذاب رسوائی والا نہیں یا عذاب دائمی نہیں لہذا یہ فرمان عالی عذاب والی احادیث کے خلاف نہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ اس امت کے گنہگاروں کے لیے عذاب قبر عذاب آخرت کا کفارہ ہے مگر پہلی بات قوی ہے یا چھوٹے گناہ اکثر کفارات سے بخشے جائیں گے ان پر عمومًا عذاب نہ ہوگا۔
۳
؎یعنی دنیاوی یہ مصیبتیں گناہ صغیرہ کا کفارہ بن جاتی ہیں حتی کہ کانٹا جو پاؤں میں چبھ جاوے وہ بھی کفارہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5374