باب : متفرقات و ملحقات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5378
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَن النُّعْمَانِ ابْنِ بَشِيرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَة عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ"، ثُمَّ سَكَتَ،قَالَ حَبِيبٌ: فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ وَقُلْتُ: أَرْجُو أَنْ تَكُونَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ، فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّة".
عن النعمان ابن بشير عن حذيفة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "تكون النبوة فيكم ما شاء الله أن تكون ثم يرفعها الله تعالى، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة ما شاء الله أن تكون ثم يرفعها الله تعالى، ثم تكون ملكا عاضا، فيكون ما شاء الله أن يكون ثم يرفعها الله تعالى، ثم تكون ملكا جبرية فيكون ما شاء الله أن يكون ثم يرفعها الله تعالى، ثم تكون خلافة على منهاج نبوة"، ثم سكت،قال حبيب: فلما قام عمر بن عبد العزيز كتبت إليه بهذا الحديث أذكره إياه وقلت: أرجو أن تكون أمير المؤمنين بعد الملك العاض والجبرية، فسر به وأعجبه، يعني عمر بن عبد العزيز. رواه أحمد والبيهقي في "دلائل النبوة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎وہ حضرت حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے تم میں نبوت رہے گی جب تک اس کا رہنا الله چاہے پھر اسے الله اٹھالے گا ۲؎پھر ہوگی خلافت نبوت کے راستہ پر جب تک الله اس کا ہونا چاہے۳؎پھر اسے بھی الله اٹھالے گا ۴؎پھر کنکھنا ملک ہوگا ۵؎پھر وہ رہے گا جب تک الله اس کا رہنا چاہے پھر اسے الله اٹھا لے گا پھر جبریہ سلطنت ہوگی۶؎وہ بھی رہے گی جب تک الله اس کا رہنا چاہے،پھر اسے الله اٹھالے گا،پھر خلافت نبوۃ کی شہ راہ پر ہوگی ۷؎پھر حضور خاموش ہوگئے،حبیب کہتے ہیں ۸؎پھر جب عمر ابن عبدالعزیز قائم ہوئے تو میں نے انہیں یہ حدیث لکھ بھیجی میں ان کو یہ حدیث یاد دلاتا تھا میں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ کنکھنے اور جبریہ ملک کے بعد مسلمانوں کے امیر ہوئے ۹؎تو آپ اس سے بہت خوش ہوئے اور عمر ابن عبدالعزیز کو یہ بہت پسند آئی۱۰؎(احمد،بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت نعمان بھی صحابی ہیں،ان کے والد بشیر بھی صحابی،نعمان پہلے وہ بچے ہیں جو بعد اسلام انصار کے گھر پیدا ہوئے،انکی پیدائش پر انصار کو بڑی خوشی ہوئی کیونکہ مدینہ منورہ میں مشہور ہوگیا تھا کہ یہود نے انصار پر جادو کردیا ہے اب ان کے ہاں اولاد نہ ہوگی،حذیفہ ابن یمان حضور کے صاحب اسرار صحابی ہیں۔
۲؎یہاں نبوت سے مراد حضور صلی الله علیہ و سلم کے ظہور کا زمانہ ہے جب لوگ صحابی بنتے تھے،یہ زمانہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات سے ختم ہوگیا اور پھر خلافت کا زمانہ آگیا اور حضور کی سلطنت کا زمانہ تا ابد ہے وہ کبھی ختم نہ ہوگا،نبی کی نبوت کا زمانہ اس کے نسخ سے ختم ہوتا ہے،حضور کی نبوت و سلطنت نہ کبھی منسوخ ہو نہ کبھی آپ کی نبوت جاوے،اب بھی حضور کا دور ہے حضور کا زمانہ ہے۔یہاں اٹھالے گا اس سے یہ ہی مراد ہے کہ ہماری وفات ہو جاوے گی لوگ ہمارے دیدار کو ترس جائیں گے۔
۳؎منھاجکے معنی ہیں وسیع راستہ (جرنیلی سڑک)رب تعالٰی فرماتاہے:"شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا"۔یہاں منہاج سے مراد ظاہر و باطن فیوض ہیں یعنی اس خلافت میں نبوت کے ظاہری وباطنی فیوض ہوں گے،یہ خلافت کل تیس سال رہے گی جیساکہ دوسری حدیث شریف میں ہے۔
۴؎چنانچہ حضرت امام حسن رضی الله عنہ نے چھ ماہ خلافت کرکے اس لیے امیر معاویہ کے حق میں دست برداری فرمائی ان چھ ماہ پر تیس سال پورے ہوگئے،اس کے بعد اسلام میں سلطنت کی بنیاد پڑی امیر معاویہ پہلے سلطان اسلام ہوئے۔
۵؎کھٹکنے ملک کے معنی ابھی پہلے عرض کردیئے گئے کہ اس زمانہ میں خلافت راشدہ جیسی نورانیت نہ ہوگی نہ اس زمانہ کا سا امن و امان ہوگا،اس زمانہ میں بعض لوگ بعض کو کاٹ کھائیں گے،یہ مطلب نہیں کہ وہ سلطنت لوگوں کو کھاٹ کھائے گی یا سلطان ظالم ہوں گے، ظلم والی بادشاہت کا ذکر تو آگے آرہا ہے۔
۶؎کہ اس دور میں لوگوں کی مرضی کے خلاف جبرًا لوگ سلطان بن جاویں گے خود بھی ظالم ہوں گے اور ان کے حکام بھی ظالم ہوں گے۔
۷؎اس زمانہ سے مراد حضرت امام مہدی رضی الله عنہ کی خلافت ہے جو قریب قیامت قائم ہوگی اس دور میں زمانہ رسالت کے تمام فیوض و برکات جاری ہوں گے،اس درمیان میں اگرچہ بعضے بادشاہ بڑے عادل ہوں گے جیسے حضرت عمر ابن عبدالعزیز یا سلطان محی الدین،اورنگ زیب عالمگیر وغیرہ مگر ان کی سلطنت خلافت علی منہاج النبوۃ نہ ہوگی۔(از مرقات و اشعہ)
۸؎یہ حبیب ابن سالم ہیں،حضرت نعمان ابن بشیر کے آزادکردہ غلام،وہ اس حدیث کے ایک راوی اور حضرت نعمان کے کاتب ہیں۔
۹؎سبحان الله!کیسی احتیاط سے کام لیا کہ انہیں خلیفۃ المسلمین نہ کہا نہ انکی حکومت کو خلافت فرمایا بلکہ آپ ہیں تو سلطان اسلام مگر آپ کے زمانہ میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہے،آپ نے ظلم کی جڑیں کاٹ دیں،عدل قائم کیا، مسلمان آپ کو عمر ثانی کہتے تھے اور آپ کی حکومت کوخلافت فاروقی کا نمونہ کہا کرتے تھے۔
۱۰؎یہ خوشی شکریہ کی تھی کہ الله کا شکر ہے کہ لوگوں کا میرا متعلق یہ نیک گمان ہے،لوگوں کی زبان ان کا گمان الله کی طرف سے ہوتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5378