Main Icon

باب : مسواک کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 376

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰى أُمَّتِيْ لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيْرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بتأخير العشاء وبالسواك عند كل صلاة» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ نہ ہوتا کہ اپنی امت پر دشواری کروں گا تو انہیں عشاء میں دیر کا اور ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۱؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان پر فرض کردیتا کہ نمازعشاءتہائی رات پر پڑھیں،اورہرنماز کے لیے وضو کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضورباذن الٰہی احکام کے مالک ہیں،جو چاہیں فرض کریں،جو چاہیں حرام کہ فرماتے ہیں میں فرض کردیتا۔خیال رہے کہ یہ حدیث امام شافعی کے نزدیک اپنے ظاہر پر ہے مگر ہمارے ہاں ہر نماز سے مراد اس کا وضو ہے یعنی وضو پوشیدہ ہے،کیونکہ ابن خزیمہ، حاکم، بخاری شریف نے "کتاب الصوم" میں انہی ابوہریرہ سے یہی حدیث روایت کی مگر اس میں بجائے"صَلوٰۃٍکےعِنْدَکُلِّ وُضُوءٍ"ہے اور احمد وغیرہ کی روایت ہے "عِنْدَکُلِّ طُھُوْرٍ"وہ حدیثیں اس کی تفسیر ہیں۔خیال رہے کہ وضو میں مسواک کی زیادہ تاکید ہے ورنہ وضو کے علاوہ پانچ جگہ اوربھی مسواک سنت ہے جیسا کہ عرض کیا گیا۔امام احمد کی روایت میں ہے کہ مسواک کی نماز بغیر مسواک کی ستر نمازوں سے افضل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 376